کراچی: سائٹ سپر ہائی وے پولیس نے بچے کو کرنٹ لگنے کے واقعہ پر غفلت برتنے کے الزام میں کے الیکٹرک گڈاپ کے دفتر پر چھاپہ مار کر 7 ملازمین کو حراست میں لے کر سائٹ سپر ہائی وے تھانے منتقل کردیا گیا.

گرفتار کیے گئے ملازمین کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ ساتوں افراد کے الیکٹرک احسن آباد کے تکنیکی اسٹاف سے وابستہ ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کے افسران کل سے دفتر سے فرار ہیں اور ڈی جی ایم سمیت دیگر افسران کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

اس بارے میں سیننئر سپریٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر شیراز نذیر کا کہنا تھا کہ ملازمین کو گرفتار کرنے کے بعد واقعے میں غفلت برتنے کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔

کے الیکٹرک کے خلاف مقدمہ 8 سالہ عمر کے والد محمد عارف کی مدعیت میں درج کیا گیا جن کے بیان کی روشنی میں کے الیکٹرک گڈاپ ٹاؤن کی انتظامیہ کو ملزم نامزد کیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی کی تار گرنے کا واقعہ: 8 سالہ بچے کے بازو کاٹ دیے گئے

اس بارے میں بچے کے والد نے بتایا کہ تار گرنے کے باعث کرنٹ لگنے کا واقعہ 25 اگست کوپیش آیا تھا اور کے الیکٹرک انتظامیہ کی غفلت و لاپروائی کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود تاحال کسی اعلٰی حکام نے رابطہ نہیں کیا، تاہم میں اپنے بیٹے کو انصاف دلوانے کیلیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کے الیکٹرک حکام نے مذکورہ واقعے پر مدد کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک ان سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

متاثرہ بچے کے علاج کے حوالے سے سول ہسپتال کے برنس وارڈ کے انچارچ ڈاکٹر احمر نے بتایا کہ عمر کم ہونے کی وجہ سے عمر کی کاسمیٹک سرجری کی جاسکتی ہے تاہم مصنوعی بازو اس کے بڑا ہونے پر ہی کی جاسکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 18 سے 20 سال کی عمر میں بچے کو ایسے ہاتھ لگائے جاسکیں گے جو سینسرز کے ذریعے کام کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بجلی کا کرنٹ گزرنے پر جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟

واضح رہے کہ گزشتہ روز میڈیا میں یہ واقعہ رپورٹ ہوا تھا کہ 25 اگست کو احسن آباد کے سیکٹر 4 کے رہائشی 8 سالہ عمر کو گھر کی چھت پر کھیلتے ہوئے 11 ہزاروولٹ کی کیبل سے کرنٹ لگا تھا جس سے اس کے دونوں بازو شدید متاثر ہوئے اور ڈاکٹرز کو ا س کی جان بچانے کے لیے دونوں بازو کاٹنے پڑے تھے۔

جس کے بعد گورنر سندھ عمران اسماعیل نے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کے الیکٹرک حکام سے واقعے پر وضاحت اور کمشنر کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی تھی۔

سائٹ سپر ہائی وے انڈسٹریل پولیس کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) ہمایوں احمد خان نے ڈان کو بتایا تھا کہ واقعے کے فوری بعد بچے کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا.

جہاں تحقیقاتی افسروں نے اہلخانہ سے مقدمے کے اندراج کے لیے رجوع کیا تھا تاہم اس وقت اہلخانہ نے بچے کے علاج میں مصروف ہونے کی وجہ سے پولیس سے بعد میں رابطہ کرنے کا کہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شانگلہ: پرچم کشائی کے دوران کرنٹ لگنے سے 2 طلبہ جاں بحق

علاقے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر( ایس ایچ او) کا کہنا تھا کہ پولیس افسران کے اہلخانہ سے دوبارہ رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا تھا کہ وہ کے الیکٹرک کے رابطے میں ہیں۔

دریں اثناء کے الیکٹرک کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ احسن آباد میں ہونے والے واقعے پر غم زدہ ہیں۔

انہوں نے بچے کے اہلخانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اور بچے کے علاج و معالجے کے تمام اخراجات اٹھانے کو بھی تیار ہیں‘۔