’نقش سارے مٹا ڈالے تھے گولی نے!‘

اپ ڈیٹ 17 اکتوبر 2020

ای میل

دنیا سے چلے جانے کے کچھ برس بعد میں نے اُن کی تحریروں سے تربیت پائی، اس لیے آج انہیں اپنا عظیم استاد خیال کرتا ہوں۔
دنیا سے چلے جانے کے کچھ برس بعد میں نے اُن کی تحریروں سے تربیت پائی، اس لیے آج انہیں اپنا عظیم استاد خیال کرتا ہوں۔

یاد نہیں کہ اُس دن کس وجہ سے میں اسکول نہیں گیا تھا، اسی سبب کچھ دیر سے سو کر اٹھا۔

دوپہر 12 بجے تک یہ ایک معمول کا دن تھا۔ یک دم ابو نے باہر سے آکر یہ خبر دی کہ ’حکیم سعید کو قتل کردیا گیا ہے!‘

یہ سنتے ہی میں دوڑ کر تین چار گلی آگے لگے ہوئے ایک اخبار کے اسٹال کی طرف دوڑا جسے شام کے اخبارات کی سرخیاں پڑھنے والوں نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔ میں نے اُچک کر کسی طرح اخبارات کی پیشانی دیکھنے کی کوشش کی۔ شام کے ہر اخبار کی سرخی ایک ہی اَلم میں ڈوبی ہوئی تھی۔

سرخیاں پڑھنے والے دم بخود قارئین تھوڑی دیر رکتے اور پھر ایک دوسرے سے نگاہیں چُرا کر اپنی راہ لے لیتے۔ میں نے مٹھی سے 3 روپے نکال کر دھرے اور عوام اخبار لے کر آگیا، جس کی سرخ لوح کی لالی اُس دن حکیم محمد سعید کی خونم خوں تصویر سے پورے اخبار اور پھر چھلک کر پورے شہر تک پھیلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔

میرے شعور کا یہ پہلا موقع تھا کہ گھر میں ہم سب یوں سہمے بیٹھے تھے جیسے کسی خونی رشتے سے جڑا کوئی اپنا کھو دیا ہو۔ سب سے زیادہ رنج گھر کے کونے میں اپنے تخت پر بیٹھی امّاں (نانی مرحومہ) کو تھا۔ وہ مطالعے کی دَھنی اور حکیم سعید کے اخلاق و کردار کی بہت زیادہ گرویدہ تھیں۔ اس دن وہ آہیں بھر کر اُن کے سچ بولنے کو اُن کے قتل کا سبب بتاتی رہیں اور پھر کئی دنوں تک وہ ہر آنے جانے والے سے اِس روح فرسا واقعے کا پرسہ کرتی رہیں۔

پڑھیے: ’وزیراعظم ہاؤس یونیورسٹی‘: میرا رومان، حکیم سعید کی خواہش

میں نے اپنی لکڑی کی دراز میں جمع بہت سے نونہال رسالے نکالے اور اخبار میں آئی تصویر کو اُن کی ہر تصویر سے ملانے کی کوشش کی تھی۔

نونہال میں ہر تصویر سیاہ جناح کیپ اور سفید برّاق شیروانی میں تھی، مگر اخبار میں بقول جامعی صاحب ’نقش سارے مٹا ڈالے تھے گولی نے!‘ اب سر پر ٹوپی تھی نہ لباس میں سفیدی، بے ترتیب بالوں میں لہو اُن کے اُجلے لباس تک آگیا تھا۔

میں نے ہر زاویے سے دونوں تصاویر کو ملا کر دیکھا، مجھے وہ کہیں سے نونہال میں شایع ہونے والے حکیم سعید نہ لگے۔ مگر خبر کا مصدقہ ہونا مجھے افسردہ کرتا تھا۔ صفحۂ اول پر اس وقت اُن کے روزے سے ہونے، سارے راستے خاموش رہنے، گھات لگا کر بیٹھے دہشت گردوں اور پھر ٹھیک 6 بج کر 2 منٹ پر دفتر پہنچنے کے جلی الفاظ نوحہ کناں تھیں۔

اس سے کچھ برس پہلے ہی کی تو بات ہے جب میرا ریاضی کا پرچا تھا۔ سڑک کنارے واقع اسکول میں، میں نے بہت زوردار گولیاں چلنے کی آوازیں سنی تھیں، پھر باہر ہونے والی افراتفری کو آوازوں سے محسوس کرنے کی بھی کوشش کی تھی، گھر پہنچ کر پتا چلا کہ شہر میں حکیم سعید کے قتل کی اطلاعات پھیلی ہوئی ہیں۔ پھر شکر کیا تھا کہ یہ افواہ تھی۔

مگر آج تو یہ سب بپا ہوچکا تھا اور جب ہمیں پتا چلا تو اس قیامت خیز لمحے کو گزرے ہوئے بھی 6 گھنٹے ہوچکے تھے۔

اخبار میں رات سے آکر اُن کے انتظار میں بیٹھنے والے مریضوں کی آہ و بکا کا بیان بھی تھا۔ وہ فقط ’طب‘ کے نہیں بلکہ پورے سماج کے طبیب تھے، وہ سماج جو روز بہ روز اخلاقی زوال کی گہرائیوں میں اترتا جا رہا تھا۔ یہ طبیب اس کی ہر ایک بیماری کو نگاہ میں رکھ کر اس کا علاج تجویز کرتا تھا۔ سماج کے ان بیماروں کی آہ و بکا جانے اس دن کے اخبار نے کیوں رقم نہ کی۔

میرا حکیم سعید سے رشتہ صرف نونہال کے قاری کے طور پر رہا۔ لیکن اُن کے قتل کے بعد میں نے اُن کی ڈھیر ساری کتابیں پڑھ کر ان سے طویل ملاقاتیں کیں، گویا دنیا سے چلے جانے کے کچھ برس بعد میں نے اُن کی تحریروں سے تربیت پائی، اس لیے آج انہیں اپنا عظیم استاد خیال کرتا ہوں۔

مزید پڑھیے: حکیم محمد سعید کی زندگی پر ایک نظر

نئی نسل اُن کا عشق تھی۔ اس لیے انہوں نے اپنے ادارے ’ہمدرد‘ کی جانب سے باقاعدہ ایک شعبہ ’نونہال ادب‘ قائم کیا، جس میں خود انہوں نے بھی لاتعداد کتابیں لکھیں۔ بالخصوص اُن کے سفرنامے تو ناقابلِ فراموش ہیں۔ وہ ہر قدم پر اپنے وطن کے نونہالوں کو ساتھ رکھتے، میں بھی اُن کی انگلی پکڑ کر ایسے دسیوں سفر پر نکلا ہوں، جہاں انہوں نے اخلاقیات سے لے کر سماجیات تک، ہر چیز کا نظارہ کروایا اور رہنمائی فرمائی۔ شاید ہی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا ہو، جہاں انہوں نے خوب زور دے کر یا کبھی سرگوشی کے انداز میں کچھ نہ کچھ ہمارے ذہنوں میں نہ انڈیل دیا ہو۔

نونہالوں کا غیر تعلیم یافتہ ہونا انہیں بہت آزردہ کرتا۔ بچین کے کسی لمحے میں پڑھے یہ خیالات آج بھی ازبر ہیں، وہ کہتے کہ ’دیکھو اگر ملک کے یہ دولت مند اپنی تھوڑی سی دولت صرف کردیں، تو تمہارے ملک کا کوئی نونہال تعلیم سے محروم نہ رہے۔‘

حکیم سعید کے ایک لباس اور ایک زبان کی تبلیغ سے ہم بھی فوری متاثر ہوئے۔ وہ ’ایک ناشتا ایک کھانا‘ کے قائل تھے۔ پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریبات پر ہونے والے اخراجات نے انہیں تڑپا دیا تھا، کیوں کہ وہ سادگی کے علم بردار تھے۔ شادی ہالوں میں پیسے کا ضیاع دیکھ کر بے چین ہوجاتے۔ اپنی تحریر لکھتے ہوئے کبھی باہر پٹاخوں کی آواز آئی تو انہوں نے پھر نونہالوں کو سمجھایا۔ اُن کی یہ بات مجھے بالکل نہیں بھولتی کہ ’قوم کو تِکہ بوٹی کھانے میں لگا دیا گیا۔ آنے والے وقتوں میں ہماری تِکہ بوٹی ہونے والی ہے!‘

حکیم محمد سعید مشرقی طب پر پختہ یقین رکھتے۔ اس کی حقانیت، جدید تحقیق کے تناظر میں اس کے لیے اپنی جدوجہد سے لے کر جدید ادویہ کے مضر اثرات پر کھل کر بات کرتے اور سارے تلخ و ترش واقعات درج کرتے جاتے۔

نونہالوں کے لیے انہوں نے سیاسی نظریے کا میدان بھی خالی نہ چھوڑا۔ وہ واضح طور پر کہتے کہ اسلام میں کسی ’ازم‘ کی کوئی گنجائش نہیں۔

وہ بچوں کی ٹافیاں کھانے کی عمر میں انہیں معیشت کی اتنی پکی باتیں بتانا ضروری سمجھتے کہ ملک مقروض ہو رہا ہے اور اس کا حل اب صرف یہ ہے کہ ہم دنیا میں خود کو دیوالیہ کہہ کر سارے واجبات سے جان چھڑا لیں۔ ساتھ یہ آگاہی بھی دیتے کہ ہم غیر ملکی مصنوعات خرید خرید کر اپنی معیشت تباہ کر رہے ہیں۔

جانیے: بچپن کی آبیاری کرنے والے کو ہم کاندھا بھی نہ دے سکے

کتابوں میں انہوں نے اپنے سیاسی تجربات بھی پوشیدہ نہ رکھے۔ وہ جنرل ایوب اور ضیا کے مشیر رہے۔ اُن کی ’ہمدرد یونیورسٹی‘ کے چارٹر کے لیے کس کس طرح رکاوٹیں ڈالی گئیں، انہوں نے اس حوالے سے سب لکھ دیا۔ وہ 6 ماہ کے لیے گورنر سندھ بھی بنے، بتاتے ہیں کہ یہ وقت کس مشکلات سے گزرا۔

اس دوران انہوں نے کتنی جامعات کے چارٹر دے ڈالے۔ تعلیم کے دشمنوں سے وہ اعلان بغاوت کرتے اور ننھے بچوں کو اپنی کسی فوج کی طرح انقلاب کے لیے تیار کرتے جاتے۔ وہ اُن کے سادہ ذہنوں میں سچائیوں کی بغاوت بھرتے چلے جا رہے تھے، اس دیس کے ہر دشمن کے چہرے سے نقاب نوچ رہے تھے۔ ان کی کتابیں مجھے اُن پر کسی ’فرد جرم‘ کی طرح معلوم ہوتی ہیں۔ یہ جرم کہاں تک برداشت کیا جاتا؟

آج سے 2 عشرے قبل کراچی میں نامعلوم افراد کے نام پر حکیم محمد سعید کا خاتمہ کردیا گیا مگر ان کا قلم آج بھی بدستور اس قوم کو جگا رہا ہے، کاش یہ قوم بھی جاگنا چاہتی۔