’خدشہ ہے مولانا سمیع الحق کو اپنوں نے قتل کیا‘

اپ ڈیٹ نومبر 06 2018

ای میل

مولانا سمیع الحق — فوٹو، فائل
مولانا سمیع الحق — فوٹو، فائل

اسلام آباد: کالعدم اہلِ سنت والجماعت (اے ایس ڈبلیو جے) کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی نے حکومت سے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو فوری بے نقاب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خدشہ ہے کہ انہیں ان کے اپنے لوگوں نے قتل کیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اہلِ سنت والجماعت کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی نے دین اسلام اور ملک کے لیے مولانا سمیع الحق کی خدمات کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق نے ملک میں مدرسوں کا نیٹ ورک بڑھانے اور اسے منظم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اہلِ سنت والجماعت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کے مدرسے سے متعدد طالبِ علموں نے تعلیم حاصل کی جن کی ایک بڑی تعداد افغانستان میں جنگ میں کار بند ہے اور ان ہی میں سے متعدد اہم طالبان رہنما بھی ہیں۔

مزید پڑھیں: مولانا سمیع الحق کے قتل پر افغان طالبان کا رد عمل

واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ کو ان کے گھر پر چھریوں کے وار سے زخمی کر دیا گیا تھا جس کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے تھے۔

خیال رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (س) اور اہلِ سنت والجماعت دونوں ہی دفاع پاکستان کونسل میں موجود ہیں، جس میں پاکستان کی درجنوں دوسری مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران مولانا احمد لدھیانوی کا کہنا تھا کہ مولانا سمیع الحق کو قتل کرنے والوں اور اس مذموم کارروائی کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو بے نقاب کیا جانا چاہیے، چاہے وہ ان کی اپنی جماعت کے ہی لوگ کیوں نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ ان کے اور ان کی جماعت کے لیے ایک اہم ترین شخصیت تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’مولانا سمیع الحق کے قتل میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے‘

اہلِ سنت والجماعت کے سربراہ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے میں ناکام ہوگئی تو ان کی جماعت دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

مولانا احمد لدھیانوی نے کہا کہ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جو لوگ مولانا سمیع الحق کے قریب تھے وہی ان کے قتل میں بھی ملوث ہوسکتے ہیں لیکن جو بھی اس میں ملوث ہو اس کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر روز دیا کہ خدشہ ہے کہ ان کے اپنے ہی لوگوں نے انہیں قتل کیا، تاہم یہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ ان کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔

مزید پڑھیں: مولانا سمیع الحق کا طالبان مذاکرات سے متعلق موقف

تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا احمد لدھیانوی نے کہا کہ چند سال قبل ان کی جماعت کے کارکنان کو بڑی تعداد میں نشانہ بنایا گیا جس کے بارے میں حکام نے کہا دیا تھا کہ یہ ’اندرونی کارروائی‘ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مولانا احمد لدھیانوی نے سپریم کی جانب سے توہین مذہب کے الزام میں موت کی سزا کی منتظر آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس موقع پر پارٹی کے ایک اور اہم رہنما مولانا اورنگزیب فاروقی اور ممبر پنجاب اسمبلی مولانا معاویہ اعظم بھی موجود تھے۔


یہ خبر 06 نومبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی