ایف بی آر کی تاخیر سے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کے لیے اسکیم

اپ ڈیٹ 15 نومبر 2018

ای میل

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کہا ہے کہ ٹیکس ریٹرن کے لیے تاخیر سے گوشوارے جمع کروانے والے 10 لاکھ سے زائد فائلرز اگر جرمانہ ادا کریں یا پھر زائد ٹیکس ادا کردیں تو ان کے خلاف آڈٹ کا عمل خودبخود روک دیا جائے گا۔

انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 214 ڈی کے تحت 2015، 2016 اور 2017 کے ان فائلرز کو منتخب کیا گیا ہے جنہوں نے ٹیکس ریٹرن کے لیے دیر سے گوشوارے جمع کروائے تھے۔

خودکار آڈٹ رکوانے کے لیے ایف بی آر کی یہ اسکیم انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 214 ای کے تحت ہے جس سے 10 لاکھ 22 ہزار افراد 31 دسمبر 2018 سے قبل فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

علاوہ ازیں انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 2014 کو فنانس ایکٹ 2018 میں سے حذف کردیا گیا ہے تاکہ نئے ٹیکس فائلرز کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید پڑھیں: نئی حکومت کا سابقہ حکومت کی ٹیکس استثنیٰ پالیسی واپس لینے پر غور

ایف بی آر کے ٹیکس دہندہ گان آڈٹ کی نوشین جاوید امجد نے اپنے ایک بیان میں اعلان کیا کہ ایسے ٹیکس دہندہ گان جنہوں نے ٹیکس ریٹرن کے لیے گوشوارے دیر سے جمع کروائے اور انہیں سیکشن 214 ڈی کے تحت منتخب کیا گیا ہے وہ اس اسکیم سے جرمانہ ادا کرکے یا پھر زیادہ ٹیکس کی ادائیگی کرکے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایسے تنخواہ دار جن کی آمدن ایف ٹی آر یا پی ٹی آر کے زمرے میں آتی ہے انہیں آڈٹ کو بند کروانے کے لیے لازماً جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

تاہم ایسے ٹیکس دہندہ گان جن کی آمدن کسی بھی دوسری کیٹیگری میں آتی ہے انہیں سیکشن 2014 ای کے تحت اپنے ریٹرنز پر نظر ثانی کے لیے درخواست دینا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: ریئل اسٹیٹ کے 16 ہزار ٹیکس نادہندہ گان کی فہرست تیار

نوشین جاوید امجد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹیکس ریٹرن پر نظر ثانی کے کام کو انجام دینے کے لیے سسٹم میں ایک جگہ متعین کردی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ریجنل ٹیکس آفسز میں موجود متعلقہ کمشنر درخواست کو 3 روز کے اندر منظور کرلے گا اور اگر 3 روز میں یہ منظوری نہیں آتی تو چوتھے روز نظام اس کی نظر ثانی کو منظور کردے گا۔

نظام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں کیٹیگریز میں ٹیکس کا تعین کرے گا، جیسے ہی ادائیگی کردی جائے گی متعلقہ سی پی آر کو منسلک کرتے ہوئے رقم کو جمع کرلیا جائے گا اور پھر اس کے ساتھ ہی خود بخود آڈٹ کا عمل بھی رک جائے گا۔


یہ خبر 15 نومبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی