لاپتہ افراد کا معاملہ: 'پولیس رپورٹس قصہ کہانیوں پر مبنی ہیں'

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2018

ای میل

سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کے کیسز کی سماعت کے دوران پولیس رپورٹس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ پولیس رپورٹس افسانوی اور قصہ کہانیوں پر مبنی ہوتی ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے 50 سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت نے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر پولیس حکام پر برہمی اور جے آئی ٹیز رپورٹس پر عدم اعتماد کا اظہارکیا۔

مزید پڑھیں: لاپتہ افراد بازیابی کیس: سندھ ہائی کورٹ کا پولیس کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پولیس رپورٹس افسانوی اور قصہ کہانیوں پر مبنی ہوتی ہیں، عدالت لاپتہ افراد کے عزیز و اقارب سے بھر گئی ہے، حکومت اس معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔

عدالت نے حکم جاری کیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔

لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے بھائی رضوان کو پی آئی بی کالونی سے حراست میں لیا گیا تھا لیکن ابھی تک ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔

یہ بھی پڑھیں: لاپتا افراد کیس: انصاف نہ ملنے پر خاتون کی کمرہ عدالت میں خودسوزی کی کوشش

اس کے علاوہ ایک درخواست میں عدالت کو بتایا گیا کہ غفور کو نیو کراچی سے حراست میں لیا گیا اور2014 سے اب تک 8 جے آئی ٹیز ہوچکی ہیں مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

عدالت عالیہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ فیڈرل بی ایریا سے نور زمان کو 2015 میں لاپتہ کیا گیا اور ان کے وکیل نے بتایا کہ اب تک 6 جے آئی ٹیز ہوچکی ہیں، مگر نور زمان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔

مزید پڑھیں: خفیہ اداروں کو لاپتہ سائنسدان سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم

ایک اور درخواست گزار نے بتایا کہ محمد یونس کو 5 جنوری 2015 سے لاپتہ کیا گیا اور اس معاملے پر 6 جی آئی ٹیز بن چکی ہیں لیکن کوئی پیش رفت سامنے نہیں۔

بعد ازاں عدالت عالیہ نے پولیس حکام کو لاپتہ افراد کے حوالے سے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔