امریکا، افغانستان میں امن کیلئے ہر ’ذمہ دار‘ قوم کی حمایت کا متلاشی

اپ ڈیٹ 05 دسمبر 2018

ای میل

امریکی سیکریٹری دفاع نے بھارتی وزیر دفاع کے ساتھ مشترکہ نیوز کنفرنس کی—فائل فوٹو
امریکی سیکریٹری دفاع نے بھارتی وزیر دفاع کے ساتھ مشترکہ نیوز کنفرنس کی—فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی سیکریٹری دفاع جم میٹس کا کہنا ہے امریکا کی خواہش ہے کہ ’ہر ذمہ دار‘ قوم برصغیر اور افغانستان میں امن کی کوششوں کی حمایت کرے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات بھارتی وزیر دفاع نرملا سیتھا رامن کے ساتھ پینٹاگون میں ایک مشترکہ نیوز بریفنگ میں کہی۔

ان کی جانب سے بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو افغانستان میں امن عمل میں اپنے خصوصی سفیر ’زلمے خلیل زاد‘ کی مکمل حمایت کی درخواست کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا عمران خان کو خط، افغان طالبان کو مذاکرات کیلئے آمادہ کرنے کی درخواست

اسی طرح جب جیمز میٹس سے امریکی صدر کے لکھے گئے خط کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم برصغیر اور افغانستان میں جاری جنگ کے لیے تمام ’ذمہ دار‘ اقوام کی حمایت کے متلاشی ہیں۔

انہوں نے 1979 میں سوویت یونین کے چڑھائی کے بعد افغانستان میں شروع ہونے والی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کو 40 برس ہورہے ہیں، 40 برس بہت بڑا عرصہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ہے کہ ہر کوئی ایک میز پر آئے اور اقوامِ متحدہ کی حمایت کرے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حمایت کرے، افغان صدر اشرف غنی کی حمایت کرے اور ان سب کی حمایت کرے جو قیامِ امن کی کوششوں میں مصروف ہیں اور دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کی خواہشمند ہیں۔

مزید پڑھیں: افغان مفاہمتی عمل کے امریکی نمائندے کی وزیرخارجہ سے ملاقات

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا اب امریکی وزارت دفاع کو پاکستان کی امن مذاکرات میں مدد کے ارادوں پر زیادہ بھروسہ ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم اس پر کام کررہے ہیں اور یہ سفارتی سطح پر ہورہا ہے، ہم افغان عوام کے تحفظ کے لے اپنی بہترین کوششیں کریں گے۔

قبل ازیں اس حوالے سے ہونے والی ایک گفتگو میں جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کے اہم نکات وہی ہیں جو ہیلری کلنٹن نے بطور سیکریٹری اسٹیٹ بیان کیے تھے۔

خیال رہے کہ ہیلری کلنٹن نے طالبان کے سامنے 3 شرائط پیش کی تھیں جس میں القاعدہ کے ساتھ روابط ختم کرنا، افغان عوام کا قتلِ عام روکنا اور آئینی دائرہ کار میں رہنا شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: زلمے خلیل زاد کی شاہ محمود سے ملاقات،ٹرمپ کے خط کی تفصیلات سے آگاہ کیا

جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ یہ وہ 3 ابتدائی نکات تھے جن پر ہمیں جنگ کے خاتمے کے لیے مشاورت کرنی تھی۔

امریکی سیکریٹری دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ اقوامِ متحدہ اور خطے کے دیگر ممالک کی حمایت کے ساتھ جنگ کا خاتمہ کیا جائے۔