مِری تقریر میں مضمر ہے ہر صورت خرابی کی

15 دسمبر 2018

ای میل

2 افعال انجام دینے کا سوچ کر بھی ہمارے سینے میں ہول اُٹھنے لگتے ہیں، ایک تدبیر دوسری تقریر۔ جب بھی ہمیں تقریر کے لیے مدعو کیا جائے تب ہی تدبیر سے رجوع کرتے ہیں اور اس مشکل سے بچنے کے لیے گلے کی بھیانک خرابی کے عذر سے پھوپھی، جو تولد ہی نہیں ہوئیں، کے اچانک انتقال تک ہر پینترا آزماتے ہیں، اگر پھر بھی ہمیں تقریر کرنا پڑے تو یہ سامعین کی خرابئ تقدیر کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

ایسا ہرگز نہیں کہ ہمیں خطابت کا شوق نہیں، لیکن اس کا کیا کریں کہ جب بھی 4 لوگوں میں بولنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں دل بیٹھ جاتا ہے، اور وہ برمحل، خوبصورت اور شائستہ الفاظ جو ہمارے سامنے یوں ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں جیسے ہم جوش ملیح آبادی ہوں، بار بار بُلانے پر بھی نہیں آتے، اور ایسے نظریں جھکائے اور سُنی ان سُنی کیے ساکت جامد کھڑے رہتے ہیں جیسے ہم جوش والی متھیرا ہوں اور وہ جماعت اسلامی کی شوریٰ ہوں، آخر پتہ چلتا ہے کہ وہ ہمارے احترام میں ہاتھ نہیں باندھے، نیت باندھ چکے ہیں۔ پھر ہماری تقریر کے اختتام تک ان کی نماز ختم نہیں ہوتی۔

محویت اور محکومیت کا فرق

اپنی اس کمی کے سبب ہمیں مقررین اور خطیبوں پر رشک آتا ہے۔ برِصغیر اور خاص کر اس خطے کے مسلمان تو تقریر کی نعمت سے مالامال ہیں، چنانچہ ہمیں رشک بھی بہت زور کا اور بار بار آتا ہے۔ مولانا عطا اﷲ شاہ بخاری کے بارے میں تو سُنتے آئے ہیں کہ وہ ساری ساری رات بولتے تھے اور مجمع پوری محویت سے انہیں سُنتا تھا۔ بعد میں ہمیں ایک ایسے مقرر بھی عطا ہوئے جو سامعین کے لیے بخار ہوجاتے تھے۔ وہ گھنٹوں بولتے اور بڑے بڑے دانشور، شاعر، ادیب اور علما بھی ’تقریر‘ کے پابند نباتات و جمادات بنے بیٹھے رہتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس سُننے میں محویت نہیں محکومیت کا عنصر ہوتا تھا۔ ’دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا’ کے مصرعے میں تقریر کا دیکھنا ہماری سمجھ میں نہیں آتا تھا، لیکن جب موصوف کو تقریر کرتے دیکھا تو ہم غالب کی زباں دانی کے ساتھ ان کی پیش بینی کے بھی قائل ہوگئے۔ ان مقرر کی تقریر سُننے سے زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی، تب ہی ہم پر کُھلا کہ رقص تقریر کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے۔

گالیوں سے پیش گوئیوں تک شیخ رشید کا سفر

ہمیں جن دوسرے مقرر نے متاثر کیا وہ ہیں شیخ رشید۔ انہوں نے پیش گوئیاں کرنا تو بعد میں شروع کیا، پہلے تو دورانِ تقریر وہ گالیاں پیش کرتے تھے۔ اس میں شک نہیں کہ شیخ صاحب کی وہ تقریریں سُن کر، خاص طور پر ان جملوں کی وجہ سے جو ’لذتِ تقریر‘ تھے، ذہن میں ’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے‘ کا مصرعہ گونجتا تھا، یہ ایسے لفظ، اشارے، کِنائے تھے جو منہ پر آجائیں تو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا، بشرطیکہ آدمی سیاستدان نہ ہو۔

اوئے سے وزیرِاعظم عمران خان تک

غالب نے خطوط کے ذریعے نثر کو گفتگو بنا دیا تھا، شعبہءِ تقریر میں یہ سعادت عمران خان صاحب کے حصے میں آئی ہے۔ ان کی تقریر میں وہی اپنائیت ہوتی ہے جو غالب کے خطوط میں ہے، فرق بس ’اوئے‘ کا ہے۔ جس طرح مرزا نوشہ کا مشغلہ تھا ’خط اک اور لکھ رکھوں‘ خان صاحب کا شغل ہے تقریر۔ جب تک وہ حزبِ اختلاف میں تھے اور کنٹینر پر سوار ہوکر تقاریر کیا کرتے تھے تو صاف لگتا تھا مدعا ’اُن کا‘ ہے اپنے عالم تقریر کا۔

اب وہ خیر سے وزیرِاعظم ہیں، کوئی بھی واقعہ ہو عوام خوفزدہ ہوجاتے ہیں کہ اب وزیرِاعظم قوم سے خطاب کریں گے۔ وہ ان خطابوں میں جو خواب دکھاتے ہیں اسے دیکھتے ہوئے ان کا ہر خطاب خطبہ الہ آباد معلوم ہوتا ہے۔ علامہ اقبال نے تو خطبہ الہ آباد میں صرف نئی مملکت کا تصور پیش کیا تھا، خان صاحب نئے پاکستان کی پوری تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ اُس تصویر کی طرح ہوتی ہے جو بَر دکھوے کے لیے جاتی تھی، اور شلوار قمیض پر ٹائی باندھ کر بنوائی جاتی تھی۔ فوٹو گرافر پیشہ ورانہ مہارت کو مبالغے کی حد سے بھی آگے لے جاکر رنگوں کی آمیزش کرکے لڑکے کو اتنا گورا اور گلابی کردیا کرتا تھا کہ لڑکی والے الٹا بدگمان ہوجاتے تھے، بعض منہہ پھٹ تو پوچھ بھی بیٹھتے تھے ’صاحب زادے کی والدہ یورپ میں قیام کرچکی ہیں؟‘ کچھ ایسی ہی بدگمانیاں ہمارے وزیرِاعظم کی تقریروں سے بنتی تصویر بھی پیدا کرتی ہے۔

گرتے مائیک، گرتی حکومت اور شریف برادران

جہاں تک شریف برادران کا تعلق ہے تو شہباز شریف کا جوشِ خطابت مائیک گرادیتا ہے اور نواز شریف کی تقریر حکومت گرادیتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مائیک بھی ان کا اپنا ہوتا ہے اور حکومت بھی۔ نواز شریف کی حکمرانی اور تقریر کی خامی یا خوبی یہ ہے کہ ہر کوئی سمجھنے لگتا ہے جب یہ کرسکتے ہیں تو میں کیوں نہیں؟

ابھی کچھ عرصہ پہلے تک جب شہبازشریف مسلسل اقتدار میں تھے، ان کی تقاریر جوش اور جذبات کا شاہکار ہوا کرتی تھیں، خاص کر جب وہ جالب کی نظم ’ایسے دستور کو، صبح بے نور کو، میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا‘ لہک لہک بلکہ بہک بہک کر پڑھتے تھے تو گمان گزرتا تھا کہ ان کے اندر کا چھپا انقلابی اور باغی باہر نکلنے کو بے تاب ہے اور کسی روز وہ اپنی ہی صوبائی حکومت کے خلاف بغاوت کردیں گے۔ باغی تو باہر نہیں آیا، وہ خود اندر چلے گئے۔

پاکستان کھپے اور آصف زرداری

آصف علی زرداری ہماری سیاسی دنیا کے ایک ایسے خطیب ہیں جو لگی لِپٹی رکھے بغیر اپنی بات کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر انہیں جب چھوٹے چھوٹے پلاٹوں کے بجائے پوری پاک سرزمین چاہیے تھی تو صاف کہہ دیا ’پاکستان کھپّے‘۔ پس تو ثابت ہوا کہ اقتدار تقدیر سے ہی نہیں تقریر سے بھی مل سکتا ہے۔ یوں تو پیپلزپارٹی کے ہر رہنما کی تقریر الگ رنگ کی ہوتی ہے اور سائیں قائم علی شاہ تو رنگ میں بھنگ بھی ڈال دیتے ہیں، لیکن زرداری صاحب کی خطابت کے کئی رنگ ہوتے ہیں، کبھی وہ چُمکارتے ہیں، کبھی افہام و تفہیم پر ابھارتے ہیں اور کبھی دھمکاتے دُھتکارتے ہیں۔ دراصل یہ ایک ہی رنگ کا مضمون ہوتا ہے جو وہ سو رنگ سے باندھتے ہیں اور وہ مضمون بس اتنا ہے ’مجھے کُھلا رہنے دو۔‘

خطاب، انقلاب اور طاہر القادری

اپنے علامہ طاہرالقادری کی تو گفتگو بھی خطاب ہوتی ہے۔ ان کے لہجے کی تیزی اور اونچی آواز سے لگتا ہے کہ ان کی سرگوشی بھی سُننے والے کے کان میں صور اسرافیل پھونک دیتی ہوگی۔ جگانے والے کی آواز اتنی ہی بلند ہونی چاہیے، مگر وہ سوتی قوم کو نہیں سوتے روزہ داروں کو جگانے والے ہیں، سو جگا کر ٹھہرے نہیں رہتے، واپسی کی راہ لیتے ہیں۔

علامہ کا کمال یہ ہے کہ کینیڈا سے آتے با آواز بلند ہیں، مگر جاتے یوں دبے پاؤں ہیں کہ لوگ ڈھونڈتے ہی رہ جاتے ہیں، کِدھر سے آیا کِدھر گیا وہ۔ طاہرالقادری صاحب کی پاکستان آمد کے ہمیشہ 2 مقاصد ہوتے ہیں، خطاب اور انقلاب۔ وہ اپنے خطاب میں انقلاب سے لوگوں کی اتنی امیدیں باندھ دیتے ہیں، کہ انقلاب سوچنے لگتا ہے بھیا میں یہ سب کر بھی پاؤں گا؟ اور جواب نفی میں پاکر آتے پلٹ جاتا ہے۔ سو انقلاب کے چلے جانے کے بعد آخرکار خود علامہ بھی چلے جاتے ہیں۔

جماعت اسلامی کا سفر کتابوں سے انتخابات تک

خطابت میں جو اعتماد جماعت اسلامی والوں کو حاصل ہے، اگر اسے عوام کا بھی ایسا اعتماد میسر ہوتا تو اقتدار حاصل کرچکی ہوتی۔ ایک زمانے میں یہ لکھنے والوں کی جماعت تھی، جس کی پہچان اس کے زعماء کی کتابیں تھیں۔ پھر جماعتِ اسلامی انتخابات کی ہوگئی اور ’یہ اُمت خطابات میں کھوگئی۔‘ ہم نے جس اعتماد کی بات کی وہ انتخابی جلسوں میں عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ مقررین پورے یقین سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ عوام سب سے مایوس ہوچکے ہیں اور ہمک ہمک کر جماعتِ اسلامی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کا یقین جماعت کے حامیوں کے لیے جماعت کی کامیابی اتنی یقنی بنادیتا ہے کہ یہ شریف النفس لوگ ’الخدمت‘ کے جذبے کے تحت یہ سوچ کر دوسروں کو ووٹ دیے دیتے ہیں کہ انہیں کچھ ووٹ تو ملیں۔

مولوی حضرات

سیاستدانوں کے مقابلے میں مولوی حضرات کو تقریر کرنے کا کہیں زیادہ موقع ملتا ہے، شاید اسی وجہ سے وہ سیاست دانوں کے مقابلے پر ہیں۔ ہم ایک ایسے مولوی صاحب سے واقف ہیں جو دورانِ تقریر مسائل غسل کی باریکیاں کھولتے ہیں تو سادہ لوح کنواروں کے منہ کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں اور گھروں میں بیٹھی بیبیاں لاؤڈ اسپیکر کی سمت سے آنکھیں پھیر کر منہ ڈھانپ لیتی ہیں۔ غسل کو وہ اتنی تفصیل سے بیان کرتے ہیں کہ بعض مضبوط ایمان والے لیکن ضعیف الاعضا حضرات پر غسل واجب ہوجاتا ہے۔

لاؤڈ اسپیکر کا ذکر آگیا ہے تو اتنا عرض کردیں ہمارا مشاہدہ بتاتا ہے کہ آدمی اتنا پی کر نہیں بہکتا جتنا لاؤڈ اسپیکر پر بہک جاتا ہے۔ اعلائے کلمة الحق کی دُھن میں عالم باطل کا ایجاد کردہ یہ آلہ بڑی بے دردی سے استعمال کیا جاتا ہے، یہ آلہ فقہا کے دور میں ایجاد نہیں ہوا تھا ورنہ ہمیں یقین ہے زنابالجبر کی طرح ’سُنا بالجبر‘ کی سزا بھی مقرر کردی جاتی۔

تو اب آپ نے یقیناً ہماری تحریر سے اندازہ لگالیا ہوگا کہ ہم ہرگز ہرگز تقریر کے قابل نہیں، اگر ہم نے کہیں تقریر کرڈالی تو یہی کہا جائے گا، تری ’تقریر‘ میں مضمر ہے ہر صورت خرابی کی۔