نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ

اپ ڈیٹ 21 دسمبر 2018

ای میل

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف — فائل فوٹو
سابق وزیرِ اعظم نواز شریف — فائل فوٹو

اسلام آباد: احتساب عدالت نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سابق وزیراعظم نے احتساب عدالت سے مزید مہلت کی استدعا کی تھی جسے مسترد کردیا گیا۔

احتساب عدالت العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز پر محفوظ گیا گیا فیصلہ 24 دسمبر کو سنائے گی۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف دونوں ریفرنسز کی سماعت کی، جس کے دوران فریقین کی جانب سے ریفرنسز کے قانونی نکات پر دلائل دیے گئے۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ نوازشریف نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ انہوں نے کیپٹل ایف زیڈ ای سے تنخواہ وصول کی، کیپٹل ایف زیڈ ای میں نوازشریف کا عہدہ اعزازی تھا۔

یہ بھی پڑھیں: العزیزیہ، فلیگ شپ ریفرنسز:عدالت نے نواز شریف کی درخواست منظور کرلی

انہوں نے کہا کہ شروع دن سے یہی مؤقف رہا ہے کہ نوازشریف نے کبھی تنخواہ وصول نہیں کی جبکہ سپریم کورٹ نے قابل وصول تنخواہ کو اثاثہ قرار دیا۔

نواز شریف کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ کیپٹل ایف زیڈ ای میں ملازمت صرف ویزا کے مقاصد کے لیے تھی۔

خواجہ حارث کی طرف سے احتساب عدالت میں جہانگیر ترین نا اہلی کیس کا حوالہ بھی دیا گیا۔

سماعت کے دوران نوازشریف کی جانب سے حسن نواز کی آف شور کمپنیوں کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کی گئیں۔

مزید اضافی دستاویزات جمع کرانے کیلئے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے ایک ہفتے کی مہلت دینے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔

مزید پڑھیں: نوازشریف پر فلیگ شپ ریفرنس میں فرد جرم عائد

واضح رہے کہ احتساب عدالت نمبر ایک اور دو میں نوازشریف کے خلاف ریفرنسز کی مجموعی طور پر 183 سماعتیں ہوئیں۔

العزیزیہ ریفرنس میں 22 اور فلیگ شپ ریفرنس میں 16 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف مجموعی طور پر 130 بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، نوازشریف 70 بار جج محمد بشیر اور 60 بار جج ارشد ملک کے روبرو پیش ہوئے۔

ایون فیلڈ میں سزا کے بعد نوازشریف کو 15 بار اڈیالہ جیل سے لاکر عدالت پیش کیا گیا۔

احتساب عدالت نمبر ایک میں 70 میں سے65 پیشیوں پر مریم نواز نوازشریف کے ساتھ تھیں۔

احتساب عدالت نے مختلف اوقات میں نوازشریف کو 49 سماعتوں پر حاضری سے استثنیٰ دیا، جج محمد بشیر نے 29 جبکہ جج ارشد ملک نے نواز شریف کو 20 سماعتوں پر حاضری سے استثنیٰ دیا۔

نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کی تفصیلات

28 جولائی 2017 کو پاناما پیپرز اسکینڈل میں سپریم کورٹ نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو قومی اسمبلی کی رکینت سے نااہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد وہ وزارتِ عظمیٰ سے بھی نااہل ہوگئے تھے۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں شریف خاندان کے خلاف نیب کو تحقیقات کا حکم دیا، سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو حکم دیا تھا کہ نیب ریفرنسز کو 6 ماہ میں نمٹایا جائے۔

عدالتی حکم کے مطابق نیب نے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس تیار کیا تھا جبکہ نواز شریف، اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس بنایا تھا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر ان تینوں ریفرنسز کی سماعت کررہے تھے۔

20 اکتوبر 2017 کو نیب کی جانب سے فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے حوالے سے دائر ریفرنس کے سلسلے میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر فردِ جرم عائد کی تھی اور ان کے دو صاحبزادوں، حسن نواز اور حسین نواز کو مفرور ملزمان قرار دیا تھا۔

6 جولائی 2018 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ہی ایون فیلڈ ریفرنس پر فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 سال اور کیپپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: احتساب عدالت نے نواز شریف کےخلاف ریفرنس میں 5ویں بار توسیع مانگ لی

بعد ازاں شریف فیملی نے جج محمد بشیر پر اعتراض کیا تھا جس کے بعد دیگر دو ریفرنسز العزیریہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جج ارشد ملک کو سونپ دی گئی تھی جنہوں نے ہی آج 19 دسمبر کو ان دونوں ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کیا ہے۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی جانب سے اپنی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں تھیں جنہیں 16 جولائی کو سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا تھا۔

سزا معطلی کی درخواستوں میں تاخیری حربے استعمال کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی قومی احتساب بیورو کو 10 ہزار روپے جرمانہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ 20 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے مجرمان کی جانب سے سزا کے خلاف دائر کی گئیں اپیلوں پر سزا معطلی کا فیصلہ مؤخر کردیا تھا۔

عدالتی چھٹیوں کے بعد اس کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا تھا، جس کے بعد جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں نیا بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

19 ستمبر 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن پر مشتمل ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سزا معطلی کی درخواست منظور کرتے ہوئے مختصر فیصلہ سنایا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست دہندگان کی اپیلوں پر فیصلہ آنے تک سزائیں معطل رہیں گی۔

نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو 5، 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔