’دعا ہے گھر کی باری کبھی نہ آئے‘

اپ ڈیٹ 04 فروری 2019

ای میل

یہ کچھ دن پہلے کی بات ہے جب سفر کے دوران شدید ٹریفک جام نے بُرا حال کردیا۔ کم و بیش سیکڑوں گاڑیاں، بسیں، ویگنیں، چھوٹی بڑی کاریں، رکشے، چنگ چی، موٹرسائیکل، ریڑھی تانگے، غرض ہر رنگ کی سواری اور ہر رنگ کا سوار یہاں موجود تھا۔ مجھے لگا کہ یہ ٹریفک جام نہیں، ’تمثیل دنیا‘ ہے، زندگی ہے۔

ہم اپنے چھوٹے سے علاقے کے جانے پہچانے چہرے ہیں، جنہیں دیکھ کر لوگ رکتے ہیں، سلام کرتے ہیں۔ سواری والے احتراماً رُک کر راستہ دیتے ہیں۔ بچوں کے اسکول جانا ہو تو ڈاکٹر ہونے کے سبب عزت ملتی ہے۔ ڈاکٹر ہونے کے سبب مارکیٹ جانا مسئلہ بننے لگا تھا کہ دکاندار یا تو دام نہ لینے پر مصر ہوتے یا جہاں چیز مہنگی لگتی وہاں بحث کرنے میں پہچان کا عنصر آڑے آتا۔ غرض ذاتی اہمیت اور دنیاوی پہچان کا ایک خناس ذہن میں لاشعوری طور پر جڑ پکڑنے لگا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ ہم وی آئی پی ہیں، ایک جہان ہمیں جانتا ہے۔ گویا یہ دنیا تو بس ہم سے ہی ہے اور ہمارے لیے ہی قائم ہے۔

مگر اس ٹریفک جام میں پھنسے تو بخوبی اندازہ ہوا کہ خود کو توپ چیز سمجھنے والے ہم ان ہزاروں نفوس میں عام لوگ جیسے ہی ہیں۔ یہاں خود سے پوچھا کہ اس ہجوم میں ہم کون اور ہمیں کون جانتا تھا؟ اس روز اپنی حیثیت اور وقعت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ ہونے لگا۔

پھر سوچا کہ یہ بھی تو عین ممکن ہے کہ اس بھیڑ میں حکومت کا کوئی کل پرزہ ہو، کوئی جاگیردار ہو جس کے حکم کے بنا اس کی جاگیر میں کوئی آواز بھی نہ نکالتا ہو۔ لیکن اس بے ہنگم ٹریفک جام میں تمام محمود ایاز تھے اور تمام ایاز محمود بن چکے تھے۔ عام لوگ، عوام کا جمِ غفیر گویا بھیڑوں کا ریوڑ!

اب کمال بات یہ ہے کہ ان عام لوگوں میں سے کسی کو بھی اٹھائیں، گولیوں سے بھون دیں اور پھر جو چاہیں لیبل لگا دیں۔ کچھ شور ہوگا مگر کچھ دیر بعد سب اپنی زندگی میں مصروف ہوجائیں گے۔ گاہے لگتا ہے کہ ہم پاکستانی عوام بھیڑیں ہیں، جن کے راکھوالے شیر، چیتے، لومڑ، گیڈر اور گدھ ہیں۔ کوئی شکار کرتا ہے، کوئی بچا کھچا کھاتا ہے اور کوئی گلتے سڑتے مردار کا انتظار کرتا ہے۔ ساری بھیڑیں خود اپنے اندر سے کالی بھیڑ تلاش کرتی رہتی ہیں۔ لیکن درحقیقت ہر شکار کردہ، زخم خوردہ، خون آلودہ بھیڑ کو مالکوں کے کہنے پر کالا مان لیا جاتا ہے اور خود کو تب تک سفید سمجھتے رہتے ہیں جب تک مالک کے دانت ہمارے نرخرے تک نہ پہنچیں۔ شکار ہونے کا خوف ایک طرف اور کالی بھیڑ ٹھہرائے جانے کا خوف دوسری طرف۔

کوئی بتائے کہ لوگ اپنے پیاروں کے جنازے اٹھائیں، ان پر ماتم کریں یا ان پیاروں کے نام پر لگے دہشت گردی کے لیبل کی صفائی پیش کریں۔ سفید پوش لوگوں کے پاس جان سے بڑھ کر پیاری شے عزت ہی تو ہوتی ہے۔ کیسی بے بسی ہے کہ جان بھی جاتی ہے اور خاندانی نام و نسب بھی تبدیل کردیا جاتا ہے۔ باعزت ابن عزت دار کے بجائے دہشت گرد ابن دہشت گرد کا لیبل لگنے کا نتیجہ کسی سڑک پر بچوں کے سامنے موت کی صورت میں نکلتا ہے۔

8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے نے ہر صاحبِ دل کو شدید خوفزدہ کردیا تھا۔ مجھے لگتا تھا جیسے ہم چھت کے قیدی ہیں۔ چھت کے نیچے رہنا عافیت بھی تھی اور خوف بھی۔ لیکن وہ آسمانی آفت تھی، خدائی حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کیے بنا چارہ بھی تو نہیں تھا۔ ایک اچھی بات یہ تھی کہ عوام اس وقت ایک قوم کی شکل اختیار کرگئے تھے۔ چند موقع پرست تب بھی موجود تھے لیکن بہت کم۔

پھر سانحہ سیالکوٹ میں 2 بھائیوں کی المناک موت نے بھیڑوں کے ہجوم کو بھیڑیا بنتے دیکھا۔ یہاں عوام ظالم تھی اور 2 معصوم بدترین اذیت کے ساتھ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ یوں پھر کئی عرصے تک 2 بھائیوں کا موٹرسائیکل پر سیر کے لیے نکلنا مشکوک اور غیر محفوظ ہوگیا کہ ہر کوئی عدالت بنا پھرتا ہے۔

سانحہ پشاور ہوا تو ہر صاحبِ اولاد سہم گیا، اسکول بند ہوگئے، حفاظت کے نام پر اسکولوں میں مورچے تعمیر ہوئے، بچوں کو حفاظتی ڈرلز کروائی گئیں، استادوں کے ہاتھ سے مولا بخش لے کر انہیں رائفلز تھما دی گئیں۔ اسکول کھلنے کے بعد بھی عرصے تک والدین بچوں کو اسکول بھیجنے سے خوفزدہ ہی رہے۔ آئے روز دھمکی آجاتی اور بچوں کو واپس لانے کے لیے دوڑیں لگ جاتیں۔ تب بہت سی ماؤں کا دل کہتا تھا کہ کوئی بات نہیں، سال دو سال درسگاہیں بند کردیں، پہلے حالات پر قابو پائیں، پھر بچے پڑھ لیں گے۔ قوم خوفزدہ تھی، نادیدہ بھیڑیوں سے ڈرتی تھی، اسکول کا دوسرا نام مقتل گاہ بن گیا تھا۔

لیکن مسلسل کوششوں سے درس گاہیں تو بیرونی دشمنوں سے محفوظ بنا دی گئیں مگر اندرونی دشمنی جڑ پکڑ چکی تھی۔ مشعال خان کا واقعہ ہوا۔ ماحول پر چھائے اسٹریس میں کسی سازشی کی گفتگو نے بھس میں چنگاری کا کام کیا، طلبہ کا ہجوم موب بن گیا اور فساد کی آگ مشعال کے خون سے بجھائی، یوں طلبہ امن دشمن بن گئے۔ تعلیم حاصل کرنے پر پابندی تو نہ تھی لیکن زبان اور سوچ ضرور مقفل کردی گئی تھی۔

چارسدہ یونیورسٹی پر حملہ ہوا، اسکول کے بعد یونیورسٹی بھی جانی جہاد کا میدان بن گئی۔ قوم سے درس گاہیں چھین لی گئیں۔ لیکن پھر بھی لوگ سیر و تفریح کرتے تھے۔ عزیز رشتہ داروں کے پاس آتے جاتے تھے، ملنا جلنا باقی تھا، دشمن باہر سے تھا، عوام ایک تھی۔ مگر سانحہ گلشن اقبال پارک لاہور ہوگیا اور یوں عوام سے سستی تفریح بھی چھین لی گئی۔ پارکس، سنیما گھر اور عوامی اجتماع کے تمام مقامات ویران ہوگئے۔

قصور کی زینب سمیت 8 بچیوں کا واقعہ منظرِ عام پر آیا۔ گھر سے باہر کی گلی اور محلہ بھی غیر محفوظ ہوگیا۔ لیکن اب بھی لوگ اپنے گھر اور اپنی سواری میں مامون محسوس کرتے تھے۔ معاشرتی میل جول باقی تھا لیکن پھر سانحہ ساہیوال سامنے آگیا۔

نتیجتاً اپنی گاڑی میں اپنے بچوں کے ساتھ باہر نکلنا بھی مشکوک ٹھہر گیا۔ جانے کب کہاں کون موت بن کر ٹوٹ پڑے اور جان کے ساتھ ساتھ عزتِ سادات سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں۔ پیچھے رہ جانے والے رشتے داروں کے لیے دہشت گردی کا لیبل باقی رہ جائے۔ خاندانی نسب، ہاشمی، قاسمی، خان بہادر، رانا، ملک کے بجائے دہشتگرد کا باپ بھائی، دہشت گرد کی ماں یا بیوہ اور دہشت گرد کی اولاد رہ جائے۔ یہ تو عمومی رویہ ہے کہ جب زیادہ تر سفید بھیڑیں کسی کو کالی بھیڑ مان لیں تو اس کا معاشرتی مقاطعہ اصول کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

کیا محض شک یا صرف مخبری پر کسی کو مارنے کے بعد اس پر الزام لگایا جاسکتا ہے؟ کیا مارنے کے بعد ثبوت اکٹھے کیے جاتے ہیں یا یہ ترتیب اس سے الٹ ہوتی ہے؟ شک، ثبوت، الزام، مقدمہ، دلائل، فیصلہ اور سزا کی ترتیب الٹ کیسے ہوگئی ہے؟ جبکہ سورج تو آج بھی مشرق سے ہی طلوع ہوتا ہے۔ دن روشن اور رات کالی ہوتی ہے۔ تو نہتے شہریوں کو دہشت گرد قرار دے کر اس کی سواری کو اس کا تابوت کیوں بنا دیا جاتا ہے؟

اس قوم نے درسگاہیں کھو دیں۔ عوامی تفریحی مقامات پر جانا بند ہوا۔ گلی محلے غیر محفوظ ہوگئے اور اب کسی منزل پر جانے کا آسرا سڑکیں بھی چھن گئیں۔ جان ہے تو جہان ہے کے مصداق قوم جان بچانے اور عزت سادات سنبھالنے کے لیے اپنے گھروں میں قید کردی گئی ہے۔ اب بس میری دعا ہے کہ گھر کی باری کبھی نہ آئے۔