دوحہ میں افغان امن مذاکرات میں خواتین بھی شریک ہوں گی

اپ ڈیٹ 16 اپريل 2019

ای میل

افغانستان میں جامع جنگ بندی کے انتظام پر توجہ مرکوز ہے—فائل فوٹو: اے پی
افغانستان میں جامع جنگ بندی کے انتظام پر توجہ مرکوز ہے—فائل فوٹو: اے پی

واشنگٹن: افغان حکومت اور طالبان دونوں حکام نے کہا ہے کہ دوحہ امن مذاکرات کے اگلے دور میں درجنوں خواتین شرکت کریں گی، جو رسمی طور پر 19 اپریل سے شروع ہوں گے۔

تاہم افغان میڈیا کی جانب سے رپورٹ کیا جارہا کہ ابتدائی مذاکرات کا آغاز پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔

ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں موجود صحافیوں کو بذریعہ فون بتایا کہ ’دوحہ میں طالبان وفد میں خواتین شامل ہوں گی‘۔

مزید پڑھیں: قطر: طالبان، افغان حکومتی نمائندوں سے ملاقات پر رضا مند

قبل ازیں افغان حکومتی عہدیداروں نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ ہفتے دوحہ میں مذاکرات میں شرکت کرنے والے 150 اراکین پر مشتمل وفد کی فہرست کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں، اس وفد میں ’درجنوں خواتین‘ بھی شامل ہوں گی۔

اس بارے میں افغان خبر رساں ادارے طلوع نے رپورٹ کیا کہ امریکا اور طالبان کا وفد ابتدائی مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچ گیا ہے، تاہم رسمی ملاقات کا آغاز 19 اپریل سے ہوگا، ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد بھی قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مذاکرات میں طالبان کو افغان حکومت اور امریکی فورسز کے خلاف موسم بہار کی جارحانہ کارروائیوں کے اعلان کو واپس لینے پر قائل کیا جائے گا اور ایک جامع جنگ بندی کا اعلان کیا جائے گا۔

دوسری جانب متعدد ٹوئٹس میں زلمے خلیل زاد نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ افغانستان میں جامع جنگ بندی کے انتظام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں لیکن انہوں نے مذاکرات کے آغاز کے حوالے سے نہیں بتایا۔

انہوں نے لکھا کہ ’افغان عوام مستحق ہیں اور وہ ایک جامع جنگ بندی اور دیرپا امن کے لیے مذاکرات چاہتے ہیں‘۔

امریکی نمائندہ خصوصی کا کہنا تھا کہ ’ہلاکتوں کو تیزی سے روکنے کا راستہ جنگ بندی پر رضا مندی ہے، طالبان کی سینئر قیادت نے اپنے نمائندوں کو میز پر آنے اور مذاکرات کی اجازت دی اور میں اس معاملے میں دباؤ جاری رکھوں گا‘۔

واضح رہے کہ گزشہ ماہ ایک نیوز کانفرنس میں وزیر خزانہ شاہ محمود قریشی نے اشارہ دیا تھا کہ دوحہ مذاکرات کا اگلا دور شیڈول سے پہلے شروع ہوسکتا ہے اور یہ ایک ’منطقی نتیجے‘ کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان حکومت کی طالبان سے مذاکرات کیلئے وفد بھیجنے کی تیاری

علاوہ ازیں برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے طالبان کی جانب سے اپنی ٹیم میں خواتین کو شامل کرنے پر رائے لیتے ہوئے لکھا کہ ’خواتین کے حقوق کے لیے سخت قدامت پسند رویے کی وجہ سے بدنام گروپ کے لیے یہ اقدام مطالبات کو حل کرنے کی جانب ایک قدم کی نمائندگی کرتا ہے کہ خواتین مذاکرت میں شامل ہوں گی‘۔

طالبان کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ ’ان خواتین کا طالبان کے سینئر اراکین کے ساتھ کوئی خاندانی تعلق نہیں ہے، یہ ملک کے اندر اور باہر موجود عام افغان ہیں، جو حمایتی ہیں اور اسلامی ریاست کی جدوجہد کا حصہ ہیں‘، تاہم اس موقع ہر انہوں نے اس ٹیم میں شامل ہونے والی خواتین کے نام نہیں بتائے۔


یہ خبر 16 اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی