‘سعودی عرب سے 16 لاکھ غیرملکی ملازمین وطن واپسی پر مجبور ہوئے‘

اپ ڈیٹ 19 اپريل 2019

ای میل

شعبہ تعمیرات کو تقریباً 9 لاکھ 10 ہزار غیرملکی ورکز نے خیر باد کہا—فوٹو: اے ایف پی
شعبہ تعمیرات کو تقریباً 9 لاکھ 10 ہزار غیرملکی ورکز نے خیر باد کہا—فوٹو: اے ایف پی

سعودی عرب کی کمپنی جدویٰ انویسٹمنٹ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان، بھارت، فلپائن سمیت دیگر ممالک تعلق سے رکھنے والے تقریباً 16 لاکھ مزدور گزشتہ 2 برس کے دوران سعودی عرب میں ملازمت چھوڑ کر اپنے اپنے ملک واپس جانے پر مجبور ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق جولائی 2017 اور جنوری 2018 کے درمیانی عرصے میں غیرملکی ورکز اور ان کے اہلخانہ پر فیس میں غیرمعمولی اضافے کے باعث مزدوروں نے سعودی عرب چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: محمد بن سلمان کا دورہ، عرب دوست پاکستان سے کیا چاہتے ہیں؟

اس حوالے سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق تمام شعبہ جات میں غیرملکی ورکرز کی کمی دیکھنے میں آئی تاہم شعبہ تعمیرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوا جو 57 فیصد بنتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شعبہ تعمیرات کو تقریباً 9 لاکھ 10 ہزار غیرملکی ورکز نے خیر باد کہا۔

علاوہ ازیں تجاری شعبہ بشمول ہول سیل اور ریٹیل سے مجموعی طور پر 3 لاکھ 40 ہزار غیرملکی ملازمین نے ملکی واپسی کا سفر کیا۔

اردو نیوز پر شائع رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہنے والوں کی سب سے بڑی تعداد بھارتی باشندوں کی جبکہ پاکستان دوسرے نمبر پر آتا ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ’سعودی حکومت نے جولائی 2017 میں تمام غیرملکی ورکرز اور ان کے تمام اہلخانہ پر انفرادی طورپر فیملی فیس کا نفاذ کیا‘۔

مزیدپڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 10ارب ڈالر سے زائد کے معاہدے متوقع

بتایا گیا کہ ’پہلے سال ہر غیر ملکی ورکر پر 100، دوسرے سال 200، تیسرے سال 300 اور چوتھے سال 400 ریال ماہانہ فیس عائد کردی گئی تھی‘۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے معاشی اصلاحات اور وژن 2030 کے تحت ہی گزشتہ برس خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دیے جانے سمیت انہیں سرکاری عہدوں پر تعینات بھی کیا گیا تھا۔

عرب نیوز نے اپنی رپورٹ میں سعودی عرب کے محکمہ شماریات کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ایک سال سے کم عرصے کے دوران سعودی عرب میں 2 لاکھ 60 ہزار ملازمین کا اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب بیلسٹک میزائل تیار کررہا ہے، امریکی جوہری ماہرین

اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں سیلز اور اس طرح کی دیگر نوکریوں میں 2 لاکھ 60 ہزار افراد کو ملازمتیں ملیں، جن میں سے 48 فیصد ملازمتیں خواتین کی دی گئیں۔

محکمہ شماریات کے مطابق 2017 کی پہلی سہ ماہی میں 44 ہزار سعودی عرب کے افراد نے ملازمتین حاصل کی تھیں اور 2018 کی تیسری سہ ماہی تک ملازموں کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔