نریندر مودی پر سوانح حیات نہیں کامیڈی فلم بننی چاہیے، ارمیلا

20 اپريل 2019

ای میل

نریندر مودی پر کامیڈی فلم بنائی جانی چاہیے، اداکارہ—فوٹو: ہندوستان ٹائمز
نریندر مودی پر کامیڈی فلم بنائی جانی چاہیے، اداکارہ—فوٹو: ہندوستان ٹائمز

بولی وڈ کی ’چھما چھما‘ گرل اور حال ہی میں انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) میں شمولیت اختیار کرنے والی ارمیلا ماٹونڈکر نے پہلی بار انتخابی مہم میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

45 سالہ اداکارہ و سیاستدان ارمیلا ماٹونڈکر نے مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں اپنے حلقے میں انتخابی مہم کے دوران خطاب میں نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان پر سوانح حیات نہیں بلکہ کامیڈی فلم بنائی جانی چاہیے تھی۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ارمیلا ماٹونڈکر کا کہنا تھا کہ نریندر مودی سے ایسا کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا جو ان کی زندگی پر فلم بنائی گئی۔

اداکارہ و سیاستدان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی چھاتی 56 انچ چوڑی ہے تاہم ان کی کارکردگی انتہائی بدتر ہے۔

اداکارہ کانگریس کی ٹکٹ پر لوک سبھا کا انتخاب لڑ رہی ہیں—فوٹو: انسٹاگرام
اداکارہ کانگریس کی ٹکٹ پر لوک سبھا کا انتخاب لڑ رہی ہیں—فوٹو: انسٹاگرام

ارمیلا ماٹونڈکر کے مطابق نریندر مودی نے بطور حکومتی سربراہ کوئی اچھا کارنامہ نہیں دیا، ملک میں غربت اور فرقہ پرستی میں اضافہ ہوا۔

کانگریس رہنما اور لوک سبھا کی امیدوار کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کی زندگی پر فلم بنانا جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے۔

ارمیلا ماٹونڈکر کے مطابق بھارتی وزیر اعظم کی زندگی پر فلم بنانے کا کوئی جواز نہیں بنتا، البتہ اگر ان پر کوئی کامیڈی فلم بنائی جاتی تو بہتر ہوتا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ارمیلا ماٹونڈکر نے اپنی انتخابی مہم میں وزیر اعظم پر تنقید کی۔

نریندر مودی کی زندگی پر حال ہی میں ’پی ایم نریندر مودی‘ نامی فلم بنائی گئی تھی، جس پر بھارتی الیکشن کمیشن نے پابندی لگادی۔

ارمیلا ماٹونڈکر لوک سبھا کے انتخابات سے ایک ماہ قبل ہی کانگریس میں شامل ہوئی تھیں، وہ پہلی بار شمالی ممبئی سے کانگریس کی سیٹ پر لوک سبھا کے انتخابات لڑ رہی ہیں۔

نریندر مودی کی زندگی پر فلم بنانا جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے، ارمیلا—فوٹو: انسٹاگرام
نریندر مودی کی زندگی پر فلم بنانا جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے، ارمیلا—فوٹو: انسٹاگرام

ان کے حلقے پر انتخابات کے چوتھے مرحلے یعنی 29 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔

لوک سبھا کے انتخابات مجموعی طور پر 7 مراحل میں ہوں گے جن میں سے 2 مراحل مکمل ہوچکے۔

لوک سبھا انتخابات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل جب کہ دوسرا مرحلہ 18 اپریل کو ہوا تھا۔

تیسرا مرحلہ 23 اپریل اور چوتھا مرحلہ 29 اپریل کو ہوگا، باقی تین مراحل مئی میں ہوں گے اور انتخابی نتائج کا اعلان بھی 23 مئی کو کیا جائے گا۔

ارمیلا ماٹونڈکر مقابلہ بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار گوپال شیٹھی سے ہوگا۔

ارمیلا ماٹونڈکر مارچ 2019 میں کانگریس میں شامل ہوئی تھیں—فوٹو: آئی این سی فیس بک
ارمیلا ماٹونڈکر مارچ 2019 میں کانگریس میں شامل ہوئی تھیں—فوٹو: آئی این سی فیس بک

ارمیلا ماٹونڈکر انتخابی مہم کے دوران انتہائی متحرک دکھائی دیتی ہیں، وہ اپنے حلقے کے نوجوان ووٹرز کے ساتھ جہاں کرکٹ کھیلتی دکھائی دیں، وہیں انہوں نے بازاروں میں ملنے والی خواتین کے ساتھ بھی راہ چلتے باتیں کیں۔

اگرچہ ارمیلا ماٹونڈکر نے انتخابی مہم کے دوران مخالف جماعت بی جے پی پر کم ہی تنقید کی، تاہم اداکارہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی انتخابات کے وہ حقائق جنہیں آپ ضرور جاننا چاہیں گے

انتخابی مہم کے آغاز میں ہی گزشتہ ماہ ان کے خلاف خبریں پھیلائی گئی تھیں کہ ارمیلا ماٹونڈکر نے کشمیری مسلمان صنعت کار سے شادی کے بعد مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کرلیا تھا اور انہوں نے اپنا نام مریم رکھا تھا۔

ارمیلا شمالی ممبئی سے انتخاب لڑ رہی ہیں—فوٹو: انسٹاگرام
ارمیلا شمالی ممبئی سے انتخاب لڑ رہی ہیں—فوٹو: انسٹاگرام

’دی کئنٹ’ کے مطابق 29 مارچ کو کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے کے ایک دن بعد ہی ارمیلا ماٹونڈکر کے حوالے سے یہ خبریں پھیلائی گئیں کہ انہوں نے کشمیری صنعت کار سے شادی کے بعد اسلام قبول کرلیا تھا۔

خبریں پھیلائی گئی تھیں کہ شادی کے بعد ارمیلا نے اسلام قبول کرکے اپنا نام ’مریم اخترمیر‘ رکھ لیا تھا اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کئی خبریں وائرل ہوگئیں۔

تاہم خبریں وائرل ہونے کے بعد ارمیلا ماٹونڈکر نے انہیں افواہ قرار دیتے ہوئے اپنے خلاف سازش قرار دیا تھا۔

ارمیلا نے 2016 میں کشمیری صنعت کار سے اچانک شادی کرکے سب کو حیران کردیا تھا—فوٹو: ٹوئٹر
ارمیلا نے 2016 میں کشمیری صنعت کار سے اچانک شادی کرکے سب کو حیران کردیا تھا—فوٹو: ٹوئٹر

ارمیلا ماٹونڈکر کے مطابق ایسی افواہوں اور خبروں کے پھیلانے کے پیچھے حکمران جماعت بی جے پی کا ہاتھ ہے۔

علاوہ ازیں بی جے پی کارکنان نے ارمیلا ماٹونڈکر کے شوہر محسن اختر میر کو پاکستانی بھی کہا گیا۔

کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے اور لوک سبھا انتخابات لڑنے کے اعلان کے بعد اپنے خلاف ہونے والی تنقید اور پروپیگنڈا کے خلاف ارمیلا ماٹونڈکر نے پولیس میں سیکیورٹی کے لیے درخواست بھی دائر کی۔

مزید پڑھیں: ’چھما چھما‘ گرل ارمیلا ماٹونڈکر کی ’بے وفا بیوٹی‘ کے بعد سیاست میں انٹری

اداکارہ و سیاستدان کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے، انہیں سیکیورٹی فراہم کی جائے۔

خیال رہے کہ 45 سالہ ارمیلا ماٹونڈکر نے 2016 میں کشمیری صنعت کار محسن اختر میر سے شادی کی تھی۔

ارمیلا نے 1980 میں فلمی کیریئر کا آغاز کیا—فوٹو: انڈین ایکسپریس
ارمیلا نے 1980 میں فلمی کیریئر کا آغاز کیا—فوٹو: انڈین ایکسپریس

ارمیلا ماٹونڈکر نے فلمی کیریئر 1980 میں بطور چائلڈ اسٹار مراٹھی فلم ’زاکول‘ سے کیریئر کا آغاز کیا، بعد ازاں وہ 1981 میں کل یگ اور 1983 میں بولی وڈ فلم ’معصوم‘ میں نظر آئیں۔

ارمیلا ماٹونڈکر کو شہرت 1995 میں ریلیز ہونے والی فلم ’رنگیلا‘ سے ملی، انہوں نے ’بلیک میل‘ کے آئٹم گانے ’بے وفا بیوٹی‘ سے قبل بھی متعدد آئٹم گانوں پر پرفارمنس کی۔

یہ بھی پڑھیں: ارمیلا ماٹونڈکر کا بے وفا بیوٹی گانے کو ڈانس نمبر ماننے سے انکار

ارمیلا ماٹونڈکر نے 2016 میں اچانک صنعتکار میر محسن اختر سے شادی کرکے سب کو حیران کردیا تھا، شادی کے 2 سال بعد وہ اب آئٹم سانگ سے بولی وڈ میں واپس ہوئی ہیں۔

ان کے دیگر مشہور گانوں میں ’چھما چھما‘، ’محبوبہ محبوبہ‘، ’قیامت قیامت‘، ’ہارے رے‘ اور ’ہاں مجھے پیار ہوا اللہ میاں‘ شامل ہیں۔

اداکارہ کو انتخابی مہم کے دوران شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے—فوٹو: انسٹاگرام
اداکارہ کو انتخابی مہم کے دوران شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے—فوٹو: انسٹاگرام

ارمیلا ماٹونڈکر اگرچہ 2014 میں مراٹھی فلم میں نظر آئیں تھی، تاہم وہ فلم میں بطور مکمل اداکار آخری بار 2008 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ای ایم آئی‘ میں نظر آئی تھیں۔

اور اب سیاست میں آنے سے قبل مئی 2018 میں وہ ایک آئٹم سانگ ’بے وفا بیوٹی‘ میں نظر آئی تھیں۔

ادھیڑ عمری میں آئٹم سانگ میں پرفارمنس کرنے پر امریلا ماٹونڈکر نے خوشی کا اظہار کیا تھا اور ان کی پرفارمنس کو بھی سراہا گیا تھا۔