بھارت میں انتخابات کا آخری مرحلہ مکمل

اپ ڈیٹ 19 مئ 2019

ای میل

کلکتہ میں کیتھولک ننز اپنا حق رائے دہی استعمال کررہی ہیں — فوٹو: رائٹز
کلکتہ میں کیتھولک ننز اپنا حق رائے دہی استعمال کررہی ہیں — فوٹو: رائٹز

بھارت میں لوک سبھا (ایوان زیریں) کے 17 ویں انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے میں آج (بروز اتوار) کو حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سربراہ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حلقے سمیت 59 نشستوں پر پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے ملک میں 6 ہفتوں پر محیط طویل انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے میں جاری ووٹنگ میں 10 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔

انتخابات کے ساتویں مرحلے میں پنجاب، اترپردیش، مغربی بنگال، بہار، مدھیہ پردیش، ہیماچل پردیش، جھارکھنڈ اور چندی گڑھ میں پولنگ ہوئی۔

بھارتی انتخابات کے آخری مرحلے میں 7 ریاستوں اور یونین علاقے کی 59 نشستوں پر 918 سے زائد امیداور مد مقابل ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت میں انتخابات کا چھٹا مرحلہ: دہلی سمیت 7 ریاستوں کی 59 نشستوں پر پولنگ

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے یہ مرحلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، 2014 کے انتخابات میں بی جے پی نے ان نشستوں میں سے 30 پر کامیابی حاصل کرکے اقتدار کی راہ ہموار کی تھی۔

بی جے پی کو اترپردیش میں گرینڈ الائنس کا سامنا ہے جبکہ بہار میں اس کے مقابلے پر راشٹریا جناتا دل، پنجاب میں کانگریس اور مغربی بنگال میں ترینامول کانگریس اہم حریف ہیں۔

آخری مرحلے میں وارانسی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حلقے میں بھی ووٹنگ ہوئی جہاں کانگریس کے اجے رائے اور گرینڈ الائنس کی شالینی یادو ان کے مدمقابل ہیں۔

یاد رہے کہ نریندر مودی نے 2014 کے انتخابات میں وارانسی سے 37 لاکھ ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔

اس علاقے میں پریانکا گاندھی کی ریلیوں سے مودی کی حمایت میں کمی آئی ہے۔

اسی طرح گورکھ پور میں بی جے پی کا مکمل اثر و رسوخ تھا تاہم ریاست میں سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور راشٹریا لوک سبھا (آر ایل ڈی) کے گرینڈ الائنس نے گزشتہ برس ریاستی انتخابات میں حکمراں جماعت کو شکست دی تھی۔

دوسری جانب پنجاب کے شہر گرداس پور میں بھارتی اداکار سنی دیول بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے انتخاب لڑرہے ہیں جبکہ کانگریس کے سنیل جاکھر ان کے مدمقابل ہیں۔

آخری مرحلے میں پنجاب کے شہر امرتسر کا حلقہ بھی اہم ہے جہاں کانگریس نے اس وقت کامیابی حاصل کی تھی جب 2014 میں اس حلقے سے نریندر مودی کی جیت کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا۔

امرتسر میں کانگریس کے گرجیت سنگھ اور بی جے پی کے ہردیپ سنگھ پوری مدمقابل ہیں۔

بھارتی انتخابات کی مرحلہ وار پولنگ

واضح رہے کہ بھارتی انتخابات میں مرحلہ وار پولنگ کا پہلا سلسلہ 11 اپریل کو ہوا تھا، جس میں 20 ریاستوں اور وفاقی انتظامی علاقوں کی 91 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی تھی۔

اس مرحلے میں 14 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے۔

انتخابات کے پہلے روز پولنگ کے دوران پرتشدد واقعات بھی رونما ہوئے جن میں 7 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی طرح دوسرے مرحلے کے سلسلے میں پولنگ 18 اپریل کو ہوئی تھی جس میں 12 ریاستوں کی 95 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی، جہاں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 15 کروڑ 50 لاکھ تھی۔

اس مرحلے میں جن ریاستوں میں ووٹنگ ہوئی اُن میں آسام، بہار، چھتیس گڑھ، مقبوضہ کشمیر، کرناٹک، مہاراشٹر، مانی پور، اوڈیشا، اتر پردیش، مغربی بنگال، پودوچھری شامل تھے۔

بھارتی انتخابات کا تیسرا مرحلہ 23 اپریل کو ہوا تھا، جہاں نریندر مودی کے حلقے سمیت 15 ریاستوں کی کل 117 نشستوں پر پولنگ ہوئی تھی۔

اس مرحلے میں بھارت کی 15 ریاستوں میں 18 کروڑ 80 لاکھ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی انتخابات کا چوتھا مرحلہ: 9 ریاستوں کی 72 نشستوں پر پولنگ

انتخابات کا چوتھا مرحلہ 29 اپریل کو منعقد ہوا تھا جس میں 9 ریاستوں کی 72 نشستوں پر پولنگ ہوئی تھی۔

تاہم چوتھے مرحلے میں مغربی بنگال میں ہونے والے انتخاب فسادات کی نذر ہوگئے تھے اور بی جے پی نے دوبارہ انتخابات کروانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

انتخابات کا پانچواں مرحلہ 6 مئی کو منعقد ہوا تھا جس میں 7 ریاستوں کی 51 نشستوں پر ووٹنگ میں 8 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

چھٹے مرحلے میں 12 مئی کو دارالحکومت دہلی اور 6 ریاستوں کی 59 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی تھی جس میں 10 کروڑ 17 لاکھ سے زائد افراد نے ووٹ کاسٹ کیا تھا۔

بھارت میں جاری انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کا عمل 23 مئی کو شروع ہوگا اور اسی روز نتائج کا اعلان بھی کردیا جائے گا۔