وفاقی وزیر سردار علی خان مہر انتقال کرگئے

اپ ڈیٹ 21 مئ 2019

ای میل

سردار علی محمد خان مہر نے الیکشن میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ —فوٹو بشکریہ قومی اسمبلی ویب سائٹ
سردار علی محمد خان مہر نے الیکشن میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ —فوٹو بشکریہ قومی اسمبلی ویب سائٹ

گھوٹکی: وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات اور سابق وزیراعلیٰ سندھ علی محمد خان مہر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق علی محمد خان مہر گھوٹکی میں اپنے گھر پر ہی تھے کہ ان کی طبیعت اچانک بگڑگئی، جس پر فیملی ڈاکٹر کو بلایا گیا لیکن اس دوران ہی ان کا انتقال ہوگیا، ڈاکٹر کے مطابق علی خان مہر کی وفات حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوئی۔

سردار علی محمد خان مہر نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 205 سے آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔

کامیابی کے بعد انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کرلی تھی، تاہم وزیراعظم عمران خان نے انہیں کابینہ میں شامل کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات کا قلمدان سونپا۔

خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل علی محمد خان مہر کے کراچی میں موجود گھر میں ملسح افراد داخل ہوگئے تھے جنہوں نے ان کے ملازمین پر تشدد کیا اور اس دوران جب وفاقی وزیر نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو اس دوران وہ بھی زخمی ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: وفاقی وزیر علی محمد مہر کے گھر مسلح افراد کا دھاوا، آئی جی نے رپورٹ طلب کرلی

سردار علی محمد خان مہر نے پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے انتخابات میں 2002 میں حصہ لیا تھا جہاں انہوں نے این اے 201 گھوٹکی سے متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے غلام رسول کلہوڑو کو شکست دے کر آزاد حیثیت سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔

مذکورہ انتخابات میں ہی انہوں نے صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 6 گھوٹکی سے بھی حصہ لیا جہاں انہوں نے نیشنل الائنس کے امیدوار احسان اللہ خان سندرانی کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی تھی۔

علی محمد خان مہر نے قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ کر صوبائی اسمبلی کی نشست اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

وہ دسمبر 2002 میں سندھ کے 25ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، تاہم انہوں نے سیاسی وجوہات پر جون 2004 اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں: وفاقی وزیر علی مہر کی رہائش گاہ پر مبینہ ڈکیتی

اس کے بعد 2008 میں ہونے والے عام انتخابات میں بھی انہوں نے آزاد حیثیت سے حصہ لیا جہاں انہیں ایک نشست پر کامیابی جبکہ ایک میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

سردار علی محمد خان نے 2013 کے انتخابات سے قبل پاکستانی پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی جس کے ٹکٹ پر اس نے 2013 میں ہونے والے انتخابات میں این اے 201 گھوٹکی سے کامیابی حاصل کی تھی۔

گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں بھی انہوں نے حصہ لیا، لیکن پیپلز پارٹی کو خیر باد کہنے کے بعد انہوں نے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا اور این اے 205 سے کامیابی حاصل کی۔