کراچی: ایک ماہ میں دوسری مرتبہ 3 روز کیلئے ہیٹ ویو الرٹ جاری

23 مئ 2019

ای میل

محکمہ موسمیات کے مطابق 25 سے 27 مئی تک شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39 سے 41  سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے — فوٹو: شٹر اسٹاک
محکمہ موسمیات کے مطابق 25 سے 27 مئی تک شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39 سے 41 سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے — فوٹو: شٹر اسٹاک

صوبہ سندھ کے دارالحکومت اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں موسمِ گرما کے آغاز کے بعد ایک ہی ماہ میں دوسری مرتبہ ہیٹ ویو کا انتباہ جاری کردیا گیا۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 25 مئی سے 27 مئی تک کراچی میں ہیٹ ویو کا خدشہ ہے، اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39 سے 41 سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔

ہیٹ ویو سے متعلق جاری کیے گیے بیان کے مطابق اس دوران شہر میں دن کے اوقات میں شمال مغرب سے ہوائیں چلنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور ہوا میں نمی کا تناسب 40 سے 50 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی میں ایک مرتبہ پھر ہیٹ ویو کا خطرہ

محکمہ موسمیات کی جانب سے حکام اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو احتیاطی تدابیر کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل یکم مئی سے 3 مئی تک کراچی میں ہیٹ ویو کے اثرات نمایاں ہونے کے ساتھ ہی موسم انتہائی گرم ہوگیا تھا، اس دوران درجہ حرارت 40 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا۔

احتیاطی تدابیر

طبی ماہرین کے مطابق ہیٹ ویو کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلا جائے اور اگر باہر نکلنا ضروری ہو تو گیلا تولیہ اور چھتری ساتھ رکھیں، اس کے ساتھ پانی زیادہ پینے کا بھی مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

طبی ماہرین نے طبیعت بحال رکھنے کے لیے 2 سے 3 گھنٹے بعد نہانے اور گرمی سے طبیعت بگڑنے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ بھی دیا۔

ہیٹ ویو سے متاثر ہونے کی علامات

  • جسم میں پانی کی کمی
  • گرم و خشک موسم
  • گرم موسم میں سخت مشقت یا ورزش
  • دھوپ میں براہ راست بہت زیادہ گھومنا
  • گھر سے باہر کام یا آﺅٹ ڈور ورکنگ
  • غشی طاری ہونا
  • جسم سے پسینے کا اخراج رک جانا
  • دل کی دھڑکن بہت زیادہ بڑھ جانا
  • جلد سرخ، گرم اور خشک ہوجانا

ہیٹ اسٹروک جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے تاہم اس کی علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

جسمانی درجہ حرارت 104 فارن ہائیٹ ہوجانا۔

ایسے میں کیا کرنا چاہیے؟

سب سے پہلے تو ایمبولینس کو طلب کریں یا متاثرہ شخص کو خود ہسپتال لے جائیں (طبی امداد میں تاخیر جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے)، ایمبولینس کے انتظار کے دوران مریض کو کسی سایہ دار جگہ پر منتقل کردیں۔

مریض کو فرش پر لٹا دیں اوراسکے پیر کسی اونچی چیز پر رکھ دیں (تاکہ دل کی جانب خون کا بہاﺅ بڑھ جائے اور شاک کی روک تھام ہوسکے)۔

مریض کے کپڑے ٹائٹ ہوں تو ان کو ڈھیلا کردیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا کراچی گرمی کی اگلی شدید لہر کے لیے تیار ہے؟

مریض کے جسم پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں یا ٹھنڈے پانی کا اسپرے کریں۔

پیڈسٹل پنکھے کا رخ مریض کی جانب کردیں تاہم بجلی نہ ہو تو اخبار سے خود مریض کو ہوا دیں۔

اس سے ہٹ کر بھی گھر سے باہر نکلتے ہوئے پانی کی بوتل اپنے پاس رکھیں چاہے روزہ ہی کیوں نہ ہو اور طبیعت بگڑنے پر فوری پانی کا استعمال کریں کیونکہ روزے کا کفارہ ہوسکتا ہے مگر جان پھر واپس نہیں آسکتی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں 4 سال قبل 2015 میں 50 سال کی بدترین گرمی کی لہر آئی تھی جس کے نیتجے میں اس سے صرف کراچی میں 1200 سے زائد افراد جاں بحق اور 40 ہزار افراد ہیٹ اسٹروک اور گرمی کی وجہ سے تھکان کا شکار ہوئے تھے۔