ہانگ کانگ میں مظاہرے، چیف ایگزیکٹو نے عوام سے معافی مانگ لی

اپ ڈیٹ 16 جون 2019

ای میل

مظاہرین نے کیرم لام کے استعفے کا مطالبہ کیا — فوٹو: رائٹرز
مظاہرین نے کیرم لام کے استعفے کا مطالبہ کیا — فوٹو: رائٹرز

ہانگ کانگ میں مجرموں کی حوالگی سے متعلق بل کے خلاف لاکھوں افراد نے لگاتار دوسرے اتوار احتجاج کیا جس کے باعث چیف ایگزیکٹو کیری لام نے عوام سے مانگ لی۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ میں لاکھوں افراد نے بڑے ہجوم کی صورت میں کئی گھنٹوں تک احتجاج کیا اور چیف ایگزیکٹو کیری لام کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ عوام کی جانب سے غم و غصے اور شدید احتجاج کے بعد کیرم لام مجرمان کی حوالگی سے متعلق مجوزہ بل پر بحث منسوخ کرنے پر مجبور ہوگئی تھیں۔

ہانگ کانگ کی پارلیمنٹ جانے والے راستوں پر لاکھوں افراد نے احتجاج کرتے ہوئے گزشتہ اتوار کے مظاہرے کا ریکارڈ بھی توڑ دیا جس میں 10 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی۔

مزید پڑھیں: ہانگ کانگ: ملزمان کی حوالگی کے قانون کے خلاف لاکھوں افراد کا احتجاج

کیرم لام کے دفتر سے جاری بیان میں اعتراف کیا گیا کہ انتتظامیہ کی جانب سے بِل پیش کرنے اور اس سے متعلق معاملات سنبھالنے کی وجہ سے کئی تنازعات نے جنم لیا اور اکثر شہری پریشان اور مایوس ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’چیف ایگزیکٹو شہریوں سے معذرت خواہ ہیں اور تنقید کو سنجیدگی سے قبول کرتی ہیں‘۔

قبل ازیں ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کی جانب سے غیرمعینہ مدت تک بِل منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

—فوٹو: رائٹرز
—فوٹو: رائٹرز

تاہم چیف ایگزیکٹو کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کیری لام کے استعفے، بل کو مستقل طور پر منسوخ کرنے اور پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کے استعمال پر معافی مانگنے کا مطالبہ پورا نہیں کیا گیا۔

سیاسی تجزیہ کار ڈکسن سنگ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہانگ کانگ کے عوام کو لگتا ہے کہ کیری لام سنجیدہ نہیں ہیں اور وہ انتہائی مغرور ہیں، میرا خیال نہیں کہ عوام کے اشتعال میں کمی آئے گی‘۔

12 جون کو ہانگ کانگ میں احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے دوران جھڑپیں شدت اختیار کرگئی تھیں جسے دہائی کا بدترین مظاہرہ قرار دیا جارہا تھا۔

اکثر مظاہرین نے پولیس کو طاقت کے زیادہ استعمال کرنے کا ذمہ دار قرار دیا اور حکام کی جانب سے نوجوان مظاہرین کو ’ فسادی‘ کہنے پر عوام کے غم و غصے میں مزید اضافہ ہوا تھا۔

ہانگ کانگ میں احتجاج کے دوران اب تک 80 افراد زخمی ہوئے جن میں 22 پولیس افسران بھی شامل ہیں۔

گزشتہ روز کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے احتجاج کے دوران ایک شخص عمارت سے گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا تھا۔

—فوٹو: رائٹرز
—فوٹو: رائٹرز

مظاہرین نے عمارت سے گرنے والے شخص کی یاد میں اس مقام پر پھول رکھے اور موم بتیاں بھی جلائیں۔

گزشتہ اتوار ہانگ کانگ میں ملزمان کی حوالگی سے متعلق پیش کیے قانون کے خلاف لاکھوں افراد نے احتجاج کیا تھا جس کے باوجود حکومت نے قانون منظور کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ: ملزمان کی حوالگی کے قانون کیخلاف احتجاج میں شدت

یاد رہے کہ مظاہرین نے ہانگ کانگ میں 16 جون کو احتجاجی ریلی اور 17 جون کو شہر بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ مجرمان کی حوالگی سے متعلق پیش کیے گئے قانون کے تحت نیم خود مختار ہانگ کانگ اور چین سمیت خطے کے دیگر علاقوں میں کیس کی مناسبت سے مفرور ملرمان کو حوالے کرنے کے معاہدے کیے جائیں گے۔

مذکورہ قانون کی مخالفت کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ بِل چینی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا ہے اور خدشہ ہے کہ بیجنگ اس قانون کو سماجی کارکنان، ناقدین اور دیگر سیاسی مخالفین کی چین حوالگی کے لیے استعمال کرے گا۔

دوسری جانب قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کی مدد سے ہانگ کانگ کو مفرور ملزمان کی پناہ گاہ بنانے سے بچایا جاسکے گا۔