وزیر اعظم کا صحافی سمیع ابراہیم کو فون، تھپڑ کے واقعے پر اظہار افسوس

اپ ڈیٹ 17 جون 2019

ای میل

وفاقی وزیر کی جانب سے سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنے کا واقعہ پیش آیا تھا—فوٹو: سوشل میڈیا
وفاقی وزیر کی جانب سے سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنے کا واقعہ پیش آیا تھا—فوٹو: سوشل میڈیا

وزیر اعظم عمران خان نے صحافی اور اینکر پرسن سمیع ابراہیم کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کا نوٹس لے لیا۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق عمران خان نے صحافی سمیع ابراہیم سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور فیصل آباد میں پیش آنے والے واقعے پر اظہار افسوس کیا۔

گفتگو کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کسی ایسے انفرادی فعل کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی جس میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر کسی کی عزت نفس مجروح ہو اور کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔

مزید پڑھیں: فواد چوہدری کا صحافی کو تھپڑ، وزارت نے وضاحت کردی

بیان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ حکومت اور میڈیا جمہوری عمل کے 2 لازم و ملزوم جزو ہیں، نقطہ نظر کے اختلاف کو ذاتی اختلافات کی حد تک لے جانا کسی صورت مناسب نہیں۔

سمیع ابراہیم نے وزیراعظم سے ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق ڈان کو بتایا کہ انہیں آج دوپہر میں عمران خان کی جانب سے کال موصول ہوئی، جس میں وزیراعظم نے فیصل آباد کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔

سینئر صحافی کے مطابق عمران خان نے تاخیر سے کال کرنے پر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بعض مصروفیات کی وجہ سے جلدی رابطہ نہیں کرسکے۔

وزیراعظم نے سمیع ابراہیم سے آئندہ ایک دو روز میں ملاقات کرنے کا بھی کہا، صحافی نے عمران خان کا فون کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: صحافی کیلئے ٹوئٹر پر نامناسب زبان کا استعمال، فواد چوہدری پر تنقید

واضح رہے کہ سمیع ابراہیم نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ عید کے بعد پاکستان کے اداروں کے لوگ، سیاستدان اور تحریک انصاف کے بھی چند لوگ مل کر وزیر اعظم عمران خان سے جان چھڑانے اور پاک فوج کو کمزور کرنے کی سازش کریں گے اور اس سازش میں امریکا اور بھارت بھی شامل ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'جسٹس افتخار چوہدری کے لیے جس طرح کی تحریک چلائی گئی تھی ویسی ہی ایک تحریک چلائی جائے گی جس میں پاکستان کے تمام بار کونسل کے وکلا شامل ہوں گے اور اس تحریک کا مقصد حال ہی میں ججز کے خلاف بننے والے ریفرنسز کو روکنا ظاہر کیا جائے گا'۔

سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ 'اس تحریک کا مقصد قانونی احتساب کے عمل کو روکنا ہے اور عمران خان کو ہٹانا ہے اور اس عمل میں تحریک انصاف کے فواد چوہدری سب سے زیادہ سرگرم ہیں، جن کے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے رابطے ہیں'۔

اس ویڈیو پیغام کے چند روز بعد اس طرح کی خبریں سامنے آئی تھیں کہ فیصل آباد میں ایک تقریب کے دوران وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے صحافی سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارا ہے۔

سمیع ابراہیم نے فیصل آباد کے تھانے منصور آباد میں فواد چوہدری کے خلاف شکایت درج کرائی تھی، جس میں لکھا تھا کہ فواد چوہدری نے انہیں تھپڑ مارا اور گالیاں دیں۔

درج کی گئی شکایت میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انہیں دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: توہین عدالت کی درخواست پر بول کے اینکر پرسن سمیع ابراہیم سے جواب طلب

تاہم اس معاملے پر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس واقعے کو 2 اداروں میں تصادم سمجھنے کے بجائے 2 اشخاص کے درمیان تنازع تصور کرنا چاہیے۔

وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ایک شخص نے دوسرے شخص کی عزت نفس کو مجروح کرنے کی کوشش کی تو متاثر ہونے والے شخص نے اس کا ردعمل دیا، کسی محب وطن پاکستانی اور حکومتی عہدیدار کو بھارتی خفیہ ادارے 'را' یا یہودیوں کا ایجنٹ کہنا اخلاقی اور صحافتی اقدار کے منافی ہے‘۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر فواد چوہدری کے اس عمل پر صحافی برادری نے اظہار مذمت کیا تھا۔