عمران خان کے دورہ امریکا سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، ترجمان دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2019

ای میل

دورہ امریکا میں وزیر اعظم امریکی صدر سے ملاقات کریں گے—فوٹو: عمران خان فیس بک پیج
دورہ امریکا میں وزیر اعظم امریکی صدر سے ملاقات کریں گے—فوٹو: عمران خان فیس بک پیج

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکا سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے جواب کے بعد میڈیا میں آنے والی رپورٹس پر ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک ٹوئٹ کی۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ وزیر اعظم کے دورے سے متعلق قیاس آرئیوں سے اجتناب کیا جائے گا، ہم امریکی حکام سے قریبی رابطے میں ہیں اور روایتی طور پر باضابطہ اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔

عمران خان کے دورے کی وائٹ ہاؤس نے تصدیق نہیں کی، امریکی محکمہ خارجہ

اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ عمران خان کے دورہ امریکا سےمتعلق وائٹ ہاؤس کی جانب سے تصدیق نہیں کی۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان 22 جولائی کو امریکی صدر سے ملاقات کریں گے

ترجمان امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ مورگن آرٹگس نے پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال پر عمران خان کے دورے سے متعلق جواب دیا تھا۔

بریفنگ کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستانی لیڈر عمران خان اس ماہ کے آخر میں امریکا آرہے ہیں، اس حوالے سے ملاقات کا کیا شیڈول ہے، آپ ہمیں کچھ بتاسکتی ہیں؟

اس پر مورگن آرٹگس نے جواب دیا کہ میری معلومات ہیں کہ اس دورے کی وائٹ ہاؤس نے تصدیق نہیں کی، میں نے بھی وہی رپورٹس پڑھیں ہیں جو آپ کے پاس ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس دورے کی تصدیق یا تردید سے متعلق وائٹ ہاؤس سے رابطہ کریں گی لیکن وہ محکمہ خارجہ کی طرف سے اس وقت کوئی اعلان نہیں کرسکتیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم دورہ امریکا کے دوران مہنگے ہوٹلز میں نہ رہنے کے خواہش مند

یاد رہے کہ 4 جولائی کو ترجمان دفتر خارجہ نے وزیر اعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 22 جولائی کو ملاقات کی تصدیق کی تھی۔

ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی صدر کی دعوت پر وزیر اعظم عمران خان واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔

انہوں نے بتایا تھا دورے میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی جبکہ وزیراعظم امریکی صدر ٹرمپ سے اہم ملاقات کریں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ڈان اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا وزیراعظم عمران خان 'آفیشل ورکنگ وزٹ' پر امریکا کا دورہ کریں گے جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے، تاہم یہ دورہ امریکا کے لیے پہلے نہیں بلکہ تیسرے درجے کا دورہ تصور کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا دورہ امریکا ' تیسرے درجے' کا ہوگا

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکا جس دورے کو اول درجہ دیتا ہے وہ 'اسٹیٹ وزٹ' ہے جس کی دعوت صرف صدور یا بادشاہوں کو دی جاتی ہے اور اس میں حکومت کا سربراہ یا وزیراعظم شامل نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ ایک امریکی صدر کے 4 سالہ دور اقتدار میں کبھی کبھار ہی اسٹیٹ وزٹ کیے جاتے ہیں۔

امریکا کا اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ غیر ملکی سربراہان کا ریکارڈ مرتب کرتا ہے اور ان دوروں کو 5 درجات میں تقسیم کرتا ہے جن میں پہلا 'اسٹیٹ وزٹ'، دوسرا 'آفیشل وزٹ'، تیسرا 'آفیشل ورکنگ وزٹ'، چوتھا 'ورکنگ وزٹ' اور پانچواں 'پرائیویٹ وزٹ شامل ہے'۔