کلبھوشن کیس، کب کیا ہوا؟

سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار بھارتی جاسوس پاکستان میں تخریب کاری کا اعتراف بھی کر چکا ہے۔
اپ ڈیٹ جولائ 18, 2019 11:00am

پاکستان کی سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران 3 مارچ 2016 کو بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی پاک فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد یہ خبر پاک بھارت سرحد کے دونوں اطراف میں رہائش پذیر کروڑوں افراد کے درمیان موضوع بحث بن گئی۔

پاک فوج نے اس گرفتاری کو ’بھارتی مداخلت اور ریاستی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی کا ثبوت قرار دیا‘۔

جس کے بعد بھارت کے متضاد دعوے، جوابی الزامات، اعترافی بیان، جاسوسی کرنے پر کلبھوشن یادیو کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل، تخریب کاری اور دہشت گردی کی دفعات کے واقعات رونما ہوئے اور پھر یہ کیس بین الاقوامی عدالت انصاف میں جا پہنچا۔

بھارت نے پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے کلبھوشن کو سزائے موت دینے کے فیصلے کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع کیا تھا جس کے بعد پھانسی پر حکم امتناع جاری کردیا گیا تھا۔

بھارتی جاسوس کے 3 سال پر محیط اس کیس میں اب ایک فیصلہ کن موڑ آن پہنچا ہے جب عالمی عدالت انصاف بھارت کے اعتراض پر 17 جولائی کو فیصلہ سنائے گی۔

اس اہم ترین متوقع فیصلے کے پیشِ نظر ڈان نے مارچ 2016 میں کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد سے اب تک اس تمام قضیے میں پیش آنےوالے اہم ترین واقعات پر روشنی ڈالی ہے۔

3 مارچ 2016

کلبھوشن یادیو، بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ (را) کا جاسوس حسین مبارک پٹیل کے جعلی نام سے کام کرتا تھا جس بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے پاکستان میں جاسوسی اور تخریب کاری میں ملوث ہونے پر ایک آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔

25 مارچ 2016

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ایک بیان میں کلبھوشن یادیو نے بتایا کہ وہ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر ہے تاہم بھارتی دارالحکومت سے اسی روز ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن سابق نیوی افسر ہے۔

علاوہ ازیں بھارت نے بھارتی جاسوس سے کسی بھی قسم کے روابط ہونے سے انکار کیا اور اس تک قونصلر کی رسائی طلب کی، اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ کلبھوشن کی بلوچستان سے گرفتاری کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

12 اپریل 2016

پاکستان میں کلبھوشن یادیو کے خلاف کوئٹہ کے محکمہ انسداد دہشت گردی میں پہلا مقدمہ درج کیا گیا۔

2 مئی 2016

بھارتی جاسوس کے خلاف ابتدائی تحقیقات کا آغاز ہوا۔

16 جون 2016

چونکہ بھارتی جاسوس غیر قانونی طور پر ایران کی سرحد عبور کر کے بلوچستان میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا لہٰذا پاکستانی حکومت نے ایران سے رابطہ کیا تھا جس پر 16 جون کو ایران نے جواب بھجوایا تھا تاہم اس کی تفصیلات ذرائع ابلاغ میں جاری نہیں کی گئیں۔

6جنوری 2017

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے سیکریٹری جنرل کو پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے اور کلبھوشن کی گرفتاری پر ایک ڈوزیئر پیش کیا۔

10 اپریل 2017

کلبھوشن یادیو کا کورٹ مارشل کیا گیا اور فوجی عدالت نے اسے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائی جبکہ بھارت نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے سزائے موت سنائے جانے کو ’سوچا سمجھا قتل‘ قرار دیا۔

15 اپریل 2017

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف کلبھوشن یادیو کی اپیل کی پیروی کرنے حوالے سے وکلا کو خبردار کیا۔

بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری عامر سعید نے کہا کہ وکلا کلبھوشن کو رہا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ’جو پاکستان کے معصوم شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کا مرتکب پایا گیا‘۔

8 مئی 2017

بھارت نے پاکستان کے فیصلے کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا اور کلبھوشن یادیو کیس میں ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

18 مئی 2017

جس پر عالمی عدالت انصاف نے پاکستان میں کلبھوشن کی سزائے موت پر ’عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ سنائے جانے تک‘ عمدرآمد روک دیا۔

علاوہ ازیں عالمی عدالت نے اس پاکستانی موقف کو بھی مسترد کردیا تھا کہ آئی سی جے اس معاملے میں مداخلت کا اختیار نہیں رکھتی اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ چونکہ اس کیس میں ویانا کنوینش کی خلاف ورزی کا الزام شامل ہے جسے پاکستان اور بھارت دونوں تسلیم کرتے ہیں لہٰذا وہ اس کیس کی سماعت کرسکتے ہیں۔

22 جون 2017

کلبھوشن یادیو کا دوسرا اعترافی بیان جاری کیا گیا جس میں اس نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ ریپبلک آرمی کے ساتھ مل کر بلوچستان میں تخریب کار سرگرمیاں کرنے کا اعتراف کیا اس کے ساتھ سزائے موت پر آرمی چیف سے رحم کی اپیل بھی کی۔

13ستمبر 2017

بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں تحریری درخواست دائر کی جس میں قونصلر تک رسائی نہ دینے کی وجہ سے پاکستان پر ویانا کنویشن کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا۔

10 نومبر 2017

پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان میں بھارتی جاسوس کی اس کی اہلیہ سے ملاقات کروانے کی پیشکش کی۔

13 دسمبر 2017

بھارتی دعوے پر پاکستان نے عالمی عدالت میں اپنا جواب جمع کروایا جس میں یہ موقف اختیار کیا کہ جاسوسی کی کارروائیوں میں ویانا کنویشن کا اطلاق نہیں ہوتا۔

25 دسمبر 2017

دفتر خارجہ میں کلبھوشن یادیو کی اس کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کروائی گئی، یہ ملاقات دونوں ممالک کے مابین سفارتی سرد مہری ختم کرنے کی غرض سے جذبہ خیر سگالی کے تحت کروائی گئی اس دوران کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ سیکیورٹی چیک سے گزارا گیا اور ملاقات میں کسی دوسری زبان میں بات کرنے پر بھی پابندی تھی۔

6 جنوری 2018

بھارتی خبروں کی ایک ویب سائٹ ’دی قوائنٹ‘ نے ایک آرٹیکل شائع کیا جس میں بتایا گیا کہ کلبھوشن یادیو ’را‘ کا ملازم تھا اور پاکستان میں ایجنٹس کے لیے انسانی وسائل کو استعمال کرنے کی نئے سرے سے کوششیں کررہا تھا‘۔

2 فروری 2018

بھارت کے ایک مایہ ناز جریدے ’فرنٹ لائن‘ نے ایک آرٹیکل میں اس بات کا اعتراف کیا کہ کلبھوشن ممکنہ طور پر نیوی افسر تھا اور بھارت پاکستان میں خفیہ طور پر جنگ کررہا ہے۔

6 فروری 2018

ایک عہدیدار نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کلبھوشن یادیو تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزمات پر مقدمے کا سامنا کررہا ہے دوسری جانب پاکستان نے کلبھوشن سے متعلق کیس میں 13 بھارتی عہدیداروں تک رسائی مانگی تھی تاہم بھارت نے اس حوالے سے تعاون کرنے سے انکار کیا۔

18 فروری 2019

پلوامہ حملے کے پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والے باقاعدہ جھڑپ کے بعد عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا تھا جس میں بھارت نے اعلیٰ عدالت سے استدعا کی کہ کلبھوشن کے خلاف سزا کو مسترد کیا جائے۔

عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزا کے خلاف کیس کی سماعت کے دوسرے روز پاکستانی وکیل خاور قریشی نےکلبھوشن کے پاسپورٹ سے متعلق برطانوی رپورٹ پیش کی۔

21 فروری 2019

آئی سی جے میں زیر سماعت کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کلبھوشن یادیو کی رہائی کے اپنے ہی مطالبے سے دستبردار ہوگیا۔

4 جولائی 2019

عالمی عدالت انصاف نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کلبھوشن یادیو کیس میں حتمی فیصلہ 17 جولائی کو سنایا جائے گا۔