شام: روسی جنگی طیاروں کی بمباری، صحافی سمیت 11 شہری جاں بحق

اپ ڈیٹ 22 جولائ 2019

ای میل

وائٹ ہیلمٹ نے ٹوئٹر پر انس الدیاب کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔
—فائل فوٹو: اے ایف پی
وائٹ ہیلمٹ نے ٹوئٹر پر انس الدیاب کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔ —فائل فوٹو: اے ایف پی

شام میں روسی جنگی طیاروں کی بمباری سے صحافی سمیت 11 شہری جاں بحق ہوگئے۔

غیرملکی خبررساں ادارے اے ایف پی نے شام میں موجود برطانوی مبصر گروپ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ادلب کے علاقے خان شیخون میں روسی جنگی طیاروں کی بمباری سے وائٹ ہیلمٹ میں شامل 20 سالہ فوٹو جرنلسٹ بھی ہلاک ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘امریکا نے شام میں رہائشی علاقوں پر کیمیائی ہتھیار داغے‘

دوسری جانب وائٹ ہیلمٹ نے ٹوئٹر پر ’انس الدیاب کی موت پر افسوس کا اظہار کیا‘۔

علاوہ ازیں بتایا گیا کہ فوٹو جرنلسٹ سیرین سول ڈیفنس سینٹر کے لیے رضاکارانہ طور پر بھی کام کرتا تھا۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ انس الدیاب خبررساں ادارے اے ایف پی کے لیے اپنی صحافتی خدمات پیش کرتا تھا۔

واضح رہے کہ حلب کے بڑے حصے پر باغیوں اور جہادی گروپوں کا قبضہ ہے اور صرف ایک حصے پر روس کی حمایت یافتہ حکومت کا کنٹرول ہے۔

مزیدپڑھیں: شام: فورسز کی مشرقی غوطہ میں بمباری، مزید 70 افراد ہلاک

تنظیم سیرین آبزرویٹری کے مطابق صوبے ادلب کے قریب حملہ کیا گیا جو شامی فورسز اور جنگجوؤں کے مابین معاہدے کے 6 ماہ بعد سب سے خوفناک حملہ تھا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے دسمبر 2018 میں شام سے فوجی انخلا کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ داعش نے 2014 کے موسم سرما میں عراق کے شمال مغرب میں دوسرے بڑے شہر موصل کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد دارالحکومت بغداد کی جانب پیش قدمی کی تھی۔

بعد ازاں امریکا نے فضائی کارروائی کے ذریعے عراق کی سرحدوں پر قبضہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف مسلح مہم شروع کردی تھی اور طویل جدوجہد کے بعد فوج نے نومبر 2017 میں موصل کا قبضہ دوبارہ حاصل کرلیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شام: اسلحہ ڈپو میں دھماکا، 12 بچوں سمیت 39 افراد جاں بحق

امریکا اور روس دونوں نے اپنی اپنی اتحادی فورسز کے ساتھ خصوصی تعاون کیا تھا اور فضائی کارروائیاں کی تھیں۔

روس کی جانب سے شام میں صدر بشارالاسد کی زیرسرپرستی حکومتی فورسز کی پشت پناہی کی جارہی ہے۔