لفظ تماشا: روسیا کتے کا پلّا

اپ ڈیٹ 27 جولائ 2019

ای میل

اہل عرب ’روس‘ کو ’روسیا‘ کہتے ہیں۔ ایک اردو شاعر نے اپنی معشوقہ اول کے عاشقِ دوم کو ’روسیا‘ نسل کا کتا قرار دیا اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ وہ یارِ طرحدار کی ’ابرو‘کو چتوَن نہیں کہتا بلکہ بَھوں پکارتا ہے:

رقیب روسیا کتے کا پلا

چتوَن یار کو کہتا ہے بَھوں

کافی سوچ بچار پر بھی یہ عقدہ نہیں کُھلا کہ دیسی کتوں کا ایسا کون سا توڑا پڑ گیا تھا، جو شاعر نے تشبیہ کے لیے روسی کتے کا انتخاب کیا۔ پھر روسی کتا ہی کیوں؟ جرمن شیفرڈ یا انگلش اسپرنگر کیوں نہیں؟ پھر خیال گزرا کہ شاید روسی کتے بہت ہی ’کتے‘ ہوں گے، تبھی شاعر کو بھاگئے۔

اس کتے پن پر غور جاری تھا کہ اس شعر کا ایک اور ’نسخہ‘ ہاتھ لگا۔ جس کے مطابق لفظ ’روسیا‘ نہیں ’روسیاہ‘ ہے، جو اردو میں ’کلمُوہا‘ کہلاتا ہے۔ اگر ایک ہی وقت میں کسی کو کالے منہ والا، حاسد، کمبخت، الو اور پاجی وغیرہ قرار دینا ہو تو فارسی میں ’روسیاہ‘ اور اردو میں ’کلمُوہا‘ کہہ کر توانائی بچاتے ہیں۔

ہمارے یہاں حاسدین کی ایک ایسی قسم بھی ہے جن کا نشانہ ٹرک ہوتے ہیں۔ ایسے میں رفع شر کے لیے ٹرکوں پر جلی حروف میں ’جلنے والے کا منہ کالا‘ لکھوایا جاتا ہے۔

روس کے ذکر سے یاد آیا کہ صدر پیوٹن سے پہلے روس کا کمیونزم اور ان دونوں سے پہلے روس کے بادشاہ مشہور تھے۔ روسی زبان میں بادشاہ کو ’Czar‘ کہتے ہیں۔ اس کا تلفظ ’زار‘ ہے۔ یعنی اس Czar میں ’C‘ خاموش (Silent) ہے۔ ’زارِ روس‘ ایک عام اصطلاح ہے۔ اردو کے سب سے بڑے اخبار میں ’Czar‘ کو ’سی زار‘ لکھا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ ’جو دکھتا ہے وہ لکھتا ہے‘۔ روک سکو تو روک لو۔

’زار‘ کی زوجہ زارینہ (Czarina) کہلاتی ہے۔ روسی ’زارینہ‘ کو پاکستانی ’زرینہ‘ سے کوئی نسبت نہیں، کیونکہ ’زرینہ‘ کی نسبت پہلے ہی ’زرین‘ سے طے ہے۔

زار (Czar) کو انگریزی زبان میں سیزر (Caesar) کہتے ہیں۔ عام روایت کے مطابق قدیم رومہ میں ہر وہ بچہ ’سیزر‘ کہلاتا تھا جس کی ولادت سے عین قبل اس کی ماں کا انتقال ہوجائے اور بچے کو ماں کا پیٹ چاک کرکے نکالا جائے۔

سیزیرین پیدائش (Cesarean birth) اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ چونکہ روم کے اقبال مند حکمران جولیس کی پیدائش بھی کچھ اسی طرح ہوئی تھی اس لیے ’سیزر‘ اس کے نام کا جزو بن گیا اور وہ جولیس سیزر کہلایا۔ بعد میں سبھی رومی حکمران اپنے نام کے ساتھ ’سیزر‘ لکھنے لگے۔ جیسے آگسٹس سیزر، تیبیریس سیزر وغیرہ’۔ سیزر ‘بادشاہوں کے نام کا جزو بن جانے کی وجہ سے لفظ ’بادشاہ‘ کا مترادف ہوگیا۔

’سیزر‘ سرزمینِ عرب پہنچ کر ’قیصر‘ کہلایا۔ پھر عربوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس قیصر کے محل کو ’قصر‘ کا نام دیا اور اس کی جمع ’قصور‘ بنائی۔ علامہ اقبال کو ’شکوہ‘ تھا کہ:

قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملے حور و قصور

اور بیچارے مسلمان کو صرف وعدہ حور

یہی قصر حرف ’ر‘ کے ’ل‘ سے بدلنے پر انگریزی میں کیسل (castle) کہلاتا ہے۔ مگر محل کے معنی میں نہیں بلکہ ایسے قلعے کے معنی میں جہاں فوج کے ساتھ عام طور پر بادشاہ بھی مقیم ہوتا ہے۔

تقریباً 15 یا 20 برس پہلے کی بات ہے، ایک روز سینئر صحافی مرحوم ڈاکٹر اشتیاق صاحب نے علامہ اقبال کے شعر میں موجود ’قصور‘ کو ’قیصر‘ کی باندیاں بتایا تھا۔ بات دل کو لگی کہ عمر ہی کچھ ایسی تھی۔ ’کفار‘ کے ’ڈبل مزے‘ پر رشک ہی تو آگیا تھا۔ بعد میں کوشش کے باوجود اس بیان کی تائید نہیں ہوسکی۔

اردو کی کسی لغت اور فارسی کی کسی فرہنگ نے ڈاکٹر صاحب کی بات کا ساتھ نہ دیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہم کراچی میں اور ڈاکٹر صاحب دنیا میں نہیں رہے۔ حوالہ چاہیں بھی تو کس سے؟ دعا ہے اللہ پاک ڈاکٹر صاحب کو حور و قصور سے ہمکنار فرمائے۔ آمین

چند دن پہلے خبر گرم تھی: ’پمپنگ اسٹیشن سے کتے کی لاش برآمد، سعید غنی کا نوٹس‘۔ یہ سرخی بھی ایک بڑے اخبار ہی نے جمائی ہے۔بہتر تو یہ تھا کہ ’کتے کی لاش برآمد‘ کے بجائے ’مردہ کتا برآمد‘ لکھا جاتا۔ سعید غنی کے نوٹس والی بات جانے دیں کہ ناحق کتے کی روح پکار اٹھے: ’کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ‘۔

’نعش‘ اور ’لاش‘ اردو میں ہم معنی الفاظ ہیں۔ ان دونوں کے معنوں میں ’مردہ، جسد، جنازہ، میت اور تابوت‘ وغیرہ شامل ہیں، یعنی اپنے مفہوم اور محلِ استعمال میں دونوں یکساں ہیں۔ عام طور پر اخبارات ’نعش‘ اور ’لاش‘ دونوں لکھتے ہیں، مگر اس فرق کے ساتھ کہ ’نعش‘ سے احترام وابستہ ہوتا ہے، جو ’لاش‘ کے حصے میں نہیں آتا، اس لیے کتے کی ’لاش‘ برآمد کرلیتے ہیں۔

’نعش‘ عربی زبان کا اور ’لاش‘ ترکی زبان کا لفظ ہے۔ گمان ہے کہ عربی زبان کا ’نعش‘ لہجے کے تھوڑے سے فرق کے بعد ترکی زبان میں ’لاش‘ ہوگیا ہے۔

فرہنگ آصفیہ والے مولوی سید احمد دہلویؒ نے ’نعش‘ کے معنی بیان کرچکنے کے بعد لکھا ہے:

’اس لفظ کو شعرائے ہند نے لاش کے موقع پر استعمال کیا ہے مگر لاش اور نعش میں فرق ہے‘۔

کیا فرق ہے؟ یہ واضح نہیں کیا۔ خجل اس وقت ہونا پڑا جب موصوف نے ’لاش‘ کے معنوں میں ’نعش‘ درج کرکے اپنے لکھے کی خود ہی تردید کردی۔

جہاں تک ہم سمجھ سکے ہیں لفظ ’نعش‘ عربی زبان میں ’تابوت اور اس چارپائی یا تختے کے لیے بولا جاتا ہے جس پر میت رکھی یا اٹھائی جاتی ہے۔ چونکہ تابوت یا تختہ ’مردے‘ سے متعلق ہے، اس رعایت سے اردو زبان میں ’نعش‘ اور ترکی زبان میں لاش، مردہ، جسد، جنازہ، میت اور تابوت وغیرہ کا مترادف ہوگیا ہے۔

اس ’لاش‘ کی ایک صورت ’لاشہ‘ بھی ہے تاہم اس کے لیے مرنا ضروری نہیں کیونکہ لاشہ کے معنوں میں بے جان جسم کے علاوہ ’کمزور، لاغر، دُبلا، ضعیف اور مطلق جسم‘ بھی شامل ہے۔

’نعش‘ کے معنوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب ذرا ’بناتُ النعش‘ پر غور کریں کہ جن کی بے حجابی کی خبر غالب نے یہ کہہ کر دی تھی :

تھیں بنات النعش گردوں دن کو پردے میں نہاں

شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہوگئیں

آپس کی بات ہے، اگر غالب نے کچھ ایسا ویسا دیکھ بھی لیا تھا، تو اس کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ رہی بات ’بَناتُ النَّعش‘ کے لفظی تعاقب کی تو اس کا بیان کسی آئندہ نشست کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔