سینیٹ انتخابات: کتنے بجکر کتنے منٹ پر کیا ہوا؟

اپ ڈیٹ 02 اگست 2019

ای میل

اور صادق سنجرانی ایک بار پھر سب کو حیران کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

صادق سنجرانی میں ایسا کیسا جادو ہے جو ہر بار حیران کردیتا ہے؟ ان کی مدِمقابل اپوزیشن کی جماعتوں کو اس بات کا ادراک ضرور تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہ جوا کھیلا، بالکل رات کے پچھلے پہر میں ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح! جو ہر بار جیت کی امید میں کھیلتا ہے اور ناکام ہوجاتا ہے۔

رواں سال اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے بعد بننے والی رہبر کمیٹی نے باقاعدہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد کی قرارداد ایوان میں لائیں گے، کیونکہ سینیٹ میں اپوزیشن کے پاس اکثریت موجود ہے، اور چیئرمین سینیٹ ایوان میں اکثریت کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں، لہٰذا اب انہیں جانا چائیے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف پہلی آواز اسی سال آصف زرداری نے بلند کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘وہ سب کو بیرون ملک گھما رہے ہیں اور خود بھی گھوم رہے ہیں، ہمیں ان سے جو امیدیں تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں’۔ حالانکہ یہ آصف زرداری ہی تھے جو گزشتہ برس سینیٹ چیئرمین کے انتخابات کے دوران بلوچستان ہاؤس گئے تھے اور بلوچستان سے آزاد منتخب ہونے والے سینیٹرز کی جھولی میں بلوچستان کی محرومی کے نام پر اپنے ووٹ غیر مشروط طور پر دے آئے تھے۔ پھر صادق سنجرانی کو چیئرمین بنانے کا اعلان بھی زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ایک طویل اجلاس کے بعد کیا گیا۔ جس کا اعلان اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور صادق سنجرانی کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری نے خود کیا تھا۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی تو انہیں پہلے ہی حمایت حاصل تھی۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اور ان کی اتحادی جماعتوں نے راجا ظفرالحق کو چیئرمین کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا، لیکن صادق سنجرانی کے مقابلے میں وہ شکست کھاگئے۔ ان دنوں (ن) لیگ اقتدار میں تھی، اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت صادق سنجرانی اپوزیشن کی حمایت سے کامیاب ہوئے تھے، اور اب کی بار سنجرانی صاحب حکومت کی مہربانیوں سے خود کو بچانے اور اپوزیشن کو بدترین شکست دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

یکم اگست کا دن اسلام آباد میں خاص اہمیت اختیار کرگیا تھا کیونکہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ ہونا تھی۔ ایک رات قبل اسلام آباد میں شدید بارش تھی، پارلیمنٹ لاجز میں رات دیر تک گاڑیاں دوڑتی رہیں، گھروں کے دروازے کھلتے اور بند ہوتے رہے۔

رات دیر تک جاگے ہوئے حکومتی اور اپوزیشن کے سینیٹرز کے چہروں پر رات کی تھکان واضح نظر آ رہی تھی۔ یہ سب گیارہ بجے صبح سے ہی اپنے اپنے گھروں سے نکل چکے تھے۔ اپوزیشن کے سینیٹرز اور دیگر رہنما پارلیمنٹ ہاؤس آنا شروع ہوگئے۔ ملک بھر کی طرح پارلیمنٹ کی راہداریوں میں بھی جتنی زبانیں تھیں اتنے ہی تبصرے تھے، ہر کسی کے پاس صادق سنجرانی کی کامیابی اور ناکامی کے اپنے دلائل تھے۔ لیکن سب کو دوپہر 2 بجے کا انتظار تھا۔

سینیٹ انتخابات کے دوران ایوان میں کیا کچھ ہوا، ہم آپ کو لمحہ بہ لمحہ اس کی کچھ تفصیلات بتاتے ہیں۔

وقت: 11 بج کر 15 منٹ

سوا 11 بجے سے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینیٹ ارکان کی پارلیمنٹ ہاؤس آمد کا آغاز ہوگیا۔ اپوزیشن کے تمام سینیٹرز اور رہنماؤں کا رخ سینیٹ کے بینکوئیٹ ہال کی طرف تھا جہاں شہباز شریف کی جانب سے پُرتکلف برنچ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ برنچ اس لیے رکھا گیا تھا کہ ناشتہ اور دوپہر کا کھانا ساتھ ہوجائے کیونکہ دوپہر 2 بجے اجلاس تھا، جو دیر تک چلنا تھا۔

وقت: 11 بج کر 35 منٹ

11 بج کر 35 منٹ پر میزبان شہباز شریف بھی پہنچ گئے۔ 12 بجے تک اس برنچ کی تقریب میں 54 سینیٹرز موجود تھے، جن کی لسٹ بھی میڈیا کو جاری کی گئی۔

پھر 12 بج کر 15 منٹ پر یہ تعداد بڑھ کر 59 تک پہنچ ہوگئی۔

سینیٹ اجلاس سے قبل اپوزیشن رہنماؤں کی بیٹھک ہوئی —فوٹو: ڈان نیوز
سینیٹ اجلاس سے قبل اپوزیشن رہنماؤں کی بیٹھک ہوئی —فوٹو: ڈان نیوز

اس تقریب میں سینیٹر بیگم کلثوم پروین اپنی نشست سے اٹھ کر شہباز شریف کے پاس جانے لگیں تاکہ وہ یہ وضاحت پیش کرسکیں کہ آخر وہ حکومت کے عشائیے میں کیوں گئی تھیں، مگر شہباز شریف نے انہیں اپنی طرف آنے سے روک دیا اور ان کی وضاحت سننے سے انکار کردیا، جس پر کلثوم پروین کو سخت شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

جس وقت شہباز شریف اپنے برنچ میں ارکان سے مخاطب تھے اس وقت چیئرمین سینیٹ بھی اپنے چیمبر میں پہنچ چکے تھے، جبکہ حکومت کے ارکان کا اجلاس پختون خواہ ہاؤس میں ہورہا تھا۔ جبکہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال وزیرِاعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کر رہے تھے۔ وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی نعیم الحق انتہائی پُراعتماد انداز میں صحافیوں کو بتارہے تھے کہ ایک، دو گھنٹے میں پتہ لگ جائے گا کہ اپوزیشن جیتتی ہے یا نہیں؟

وقت: 12 بج کر 31 منٹ

12 بج کر 31 منٹ تک شہباز شریف کے برنچ میں اپوزیشن کے سینیٹرز کی تعداد 60 ہوچکی تھی۔ اس برنچ میں جب ووٹ دینے کے لیے طریقہ کار پر بات ہورہی تھی تو چند سینیٹرز نے اپنے پرس اور جیبیں ٹٹولیں تو ان کو خیال آیا کہ وہ سینیٹ کے جاری کردہ شناختی کارڈ تو گھر بھول آئے ہیں۔ اس دوران مشاہداللہ خان، رحمان ملک، مولانا غفور حیدری، رخسانہ زبیری اور دیگر نے اپنے ملازمین کو دوڑایا کہ وہ گھر جائیں اور کارڈ لے آئیں۔

اس برنچ میں جو پہلو واضح طور پر نظر آیا وہ پہلو تھا 'شک' کا، جس کا کافی دنوں سے اندرونِ خانہ ذکر ہورہا تھا۔ کافی لوگ ایک دوسرے سے کھچے کھچے بھی نظر آرہے تھے، لیکن ہر کوئی یہی تاثر دینے کی کوشش کررہا تھا کہ وہ تو اپنی پارٹی کے فیصلے کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ اپنی پارٹی کو ہی ووٹ دے گا۔

وقت: 12 بج کر 50 منٹ

12 بج کر 50 منٹ پر برنچ لگنا شروع ہوا اور 1:30 بجے تک چلتا رہا۔ جب برنچ ختم ہوا تو شہباز شریف منسٹر انکلیو میں اپنے گھر چلے گئے اور 4:30 بجے اس وقت واپس پارلیمنٹ ہاؤس آئے جب اپوزیشن کی تحریک عدمِ اعتماد کی قرارداد مسترد ہوچکی تھی۔

وقت: 2 بج کر 05 منٹ

بلاول بھٹو زرداری 2 بج کر 5 منٹ پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے اور اپنے چیمبر میں کچھ دیر رکنے کے بعد سیدھے سینیٹ کی کارروائی دیکھنے کے لیے مہمانوں کی گیلری میں آکر بیٹھ گئے۔ ان کے ساتھ سابق وزیرِاعظم راجا پرویز اشرف بھی تھے۔ مہمانوں کی گیلری میں وزیرِاعلیٰ بلوچستان جام کمال، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری، چیف وہپ عامر ڈوگر سمیت حاصل بزنجو اور صادق سنجرانی کے مہمان بھی موجود تھے۔

وقت: 2 بج کر 13 منٹ

سینیٹ کا اجلاس 2 بج کر 13 منٹ پر شروع ہوا اور 5 بج کر 23 منٹ پر ختم ہوا۔ صدرِ مملکت نے سینیٹ چیئرمین کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد پر ووٹنگ کرانے کے لیے بیرسٹر محمد علی سیف کو پریزائڈنگ افسر مقرر کیا گیا تھا۔ سیکریٹری سینیٹ محمد انور نے کارروائی کا باقاعدہ آغاز کرنے کے لیے پریزائڈنگ افسر کو چیئرمین کی نشست پر بیٹھنے کا کہا۔

پھر راجا ظفرالحق نے تحریک عدمِ اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ کے لیے تحریک پیش کی۔ جس پر پہلے ووٹنگ کرائی گئی۔ رولز کے مطابق کسی بھی تحریک کی منظوری کے لیے پورے ایوان کی ایک چوتھائی تعداد کا ایوان میں ہونا ضروری ہے، لیکن حیران کن طور پر 64 ارکان اس تحریک کی حمایت میں کھڑے ہوگئے۔ ارکان کی تعداد کا اعلان ہوا تو ڈیسک بجائے گئے اور اپوزیشن نے اس گنتی کو اپنی قرارداد کی کامیابی قرار دیا۔

2:40 پر پہلا ووٹ پڑا

چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد کی قرارداد پر پولنگ کا مرحلہ شروع ہوا۔ اپوزیشن کی طرف سے جاوید عباسی اور حکومت کی طرف سے نعمان وزیر پولنگ ایجنٹ مقرر کیے گئے۔ 2 بج کر 40 منٹ پر پہلا ووٹ حافظ عبدالکریم نے، دوسرا مولانا عبدالغفور حیدری اور تیسرا ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم نے کاسٹ کیا۔

وقت: 3 بج کر 58 منٹ

3 بج کر 58 منٹ پر پولنگ کا عمل مکمل ہوا۔ 100 ارکان نے اس انتخاب میں حصہ لیا جبکہ 3 ارکان مشتاق احمد، سراج الحق اور چوہدری تنویر ایوان میں موجود نہیں تھے، اور ان کے نام 3، 3 بار پکارے گئے۔

وقت: 4 بج کر 18 منٹ

سینیٹ سیکریٹری کے روبرو دونوں فریقین کے پولنگ ایجنٹ موجود تھے۔ روسٹرم پر 3 باکس رکھے گئے۔ جو تحریک عدمِ اعتماد کی حمایت، مخالفت اور مسترد شدہ ووٹ کے لیے مختص کیے گئے تھے۔

اس تاریخی نتائج کو دیکھنے کے لیے مہمانوں اور صحافیوں کی گیلریاں مکمل طور پر بھر چکی تھیں۔ گنتی کے پورے عمل کو صحافی خصوصی طور پر دھیان سے دیکھ رہے تھے۔ جو ووٹ جس باکس میں جاتا وہ صحافی اپنے پاس درج کرلیتے۔ جیسے ہی گنتی مکمل ہوئی تو حکومتی پولنگ ایجنٹ نعمان وزیر نے قائد ایوان شبلی فراز کو دوڑ کر ان کی نشست پر جاکر مبارک باد دی اور حکومتی بینچوں سے نعرے بازی شروع ہوگئی۔

’ایک سنجرانی سب پر بھاری‘ کے نعروں کے ساتھ حکومتی بینچوں پر موجود ارکان اپنی نشستوں سے اٹھے اور صادق سنجرانی کو مبارک باد دینے لگے۔

پریزائڈنگ افسر بیرسٹر محمد علی سیف نے اعلان کیا کہ 50 ووٹوں سے تحریک عدمِ اعتماد کی قرارداد مسترد کی جاتی ہے۔ قرارداد کی مخالفت میں 50 ووٹ پڑے، جن میں سے 5 ووٹ مسترد ہوئے۔ ذرائع کے مطابق جو 5 ووٹ مسترد ہوئے ان پر ایک ہی انداز میں اسٹیمپ دو جگہ لگی ہوئی تھی۔

اعلان کے ساتھ ہی اپوزیشن بینچوں پر موجود بیشتر ارکان کے چہروں کا رنگ اُڑ چکا تھا۔ رضا ربانی جیسے لوگ، جو صادق سنجرانی کو گزشتہ برس ووٹ دینے کے بعد اپنے فیصلے پر ندامت کا برملا اظہار کرتے ہوئے ایوان سے نکل گئے تھے، یہ گھڑی ان کے لیے اُس دن سے بھی زیادہ بھاری تھی۔

اس کے بعد ڈپٹی چیئرمین کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد کی قرارداد کی تحریک کی منظوری کے لیے 32 ارکان نے ووٹ دیا اور تحریک کی منظوری کے بعد ایک بار پھر ڈپٹی چیئرمین کے خلاف یا حمایت میں ووٹنگ کا عمل شروع ہوا۔ مگر اس بار اپوزیشن نے ووٹنگ میں جان بوجھ کر حصہ نہیں لیا کیونکہ انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر 64 ارکان نے ایک بار پھر ووٹنگ میں حصہ لیا تو کہیں دپٹی چیئرمین کا عہدہ بھی ہاتھ سے نہ چلا جائے۔

یہاں سینیٹ میں ہونے والی ایک خفیہ کارروائی کا ذکر کرنا بھی ٹھیک رہے گا کہ جب سینیٹ میں ووٹنگ کا عمل جاری تھا اور حکومت اور اپوزیشن کامیابی کے لیے بہت بے چین تھے، عین اسی وقت سینیٹ چئیرمین کے امیدوار صادق سنجرانی، قائد اعوان شبلی فراز، پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفی نواز کھوکھراورقرۃ العین مری بیک بینچوں پر بیٹھ کر خوش گپیوں میں مصروف نظر آئے۔

اس پورے مرحلے نے ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی یہ سمجھ رہی تھی کہ اس بار صادق سنجرانی کو ہٹا کر وہ پچھلے سال کی گئی اپنی غلطی کا کفارہ ادا کردے گی، لیکن اپوزیشن کے حالیہ فیصلے نے اس کے لیے مزید پریشانیاں پیدا کردی ہیں۔

شاید اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اپنی اکثریت کے زعم میں یہ فیصلہ کرلیا لیکن زمینی حقائق کو مدِنظر نہیں رکھا۔ اگر وہ تحریک عدمِ اعتماد کی قرارداد کی ناکامی کے آپشن پر سوچتے اور اس حقیقت کا بھی جائزہ لیتے کہ اگر صادق سنجرانی بچ گئے تو اس کا نقصان کس کو ہوگا۔ ایسا سوچا جاتا تو فیصلہ کرنے میں یقینی طور پر اتنی جلدی نہیں کی جاتی۔

کہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر کو معلوم تھا کہ کون کون سے ارکان انہیں دھوکہ دیں گے۔ اگر یہ درست ہے اور ان کو سارے حقائق معلوم تھے، لیکن اس کے باوجود اگر اپوزیشن نے یہ قدم اٹھایا ہے تو اپنے ساتھ ساتھ حزبِ اختلاف کی سیاست کا بھی نقصان کیا، کیونکہ یکم اگست کے فیصلے کے بعد عوامی سطح پر جو تبصرے ہورہے ہیں، ان میں نشانہ سیاست اور سیاستدان ہی ہیں۔