دریائے ستلج میں سیلاب کا خطرہ، لوگ نقل مکانی پر مجبور

اپ ڈیٹ 20 اگست 2019

ای میل

سیلابی صورتحال کے پیش نظر عوام نقل مکانی کر رہی ہے — فوٹو: محمد تیمور
سیلابی صورتحال کے پیش نظر عوام نقل مکانی کر رہی ہے — فوٹو: محمد تیمور

بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیشگی اطلاع دیئے بغیر پانی چھوڑنے دیا، جس کے بعد دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور لوگ نقل مکانی کرتے ہوئے محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے۔

ڈی سی قصور اظہر حیات کا کہنا ہے کہ سیلاب کے پیش نظر تمام تر انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں اور پولیس، رینجرز اور فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔

سیلابی صورتحال کے پیش نظر پولیس، رینجرز اور فوج کی خدمات طلب کرلی گئیں — فوٹو:  محمد تیمور
سیلابی صورتحال کے پیش نظر پولیس، رینجرز اور فوج کی خدمات طلب کرلی گئیں — فوٹو: محمد تیمور

فلوڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں میں 1.5 لاکھ کیوسک کا ریلا پاکستان میں داخل ہوسکتا ہے۔

ڈویژن حکام کے مطابق انڈیا نے بھارتی پنجاب میں واقع بھاکڑا ڈیم سے پانی چھوڑا ہے جس کی وجہ سے دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ بڑھنا شروع ہوگیا ہے۔

سیلاب اور حفاظتی اقدامات پر وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر متاثرہ علاقوں میں 31 امدادی کیمپ کے قیام کے ساتھ مسلسل صورتحال کو مانیٹر کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت کی آبی جارحیت کے باعث پاکستانی دریاؤں میں سیلاب کا خطرہ

ترجمان نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) برگیڈیئر مختار احمد کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس وقت گنڈا سنگھ والا پر پانی کا لیول 17.80 فٹ اور بھاؤ 37640 کیوسک ہے۔

ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ سے 1.5 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا آج شب سے کل دوپہر تک گنڈا سنگھ والا ہیڈ ورکس سے گزرے گا، 23 اگست کو یہ ریلا سیلیمانکی ہیڈ ورکس سے گزرے گا اور 25اگست تک یہ ریلہ اسلام ہیڈ ورکس پر پہنچ جائے گا۔

ان کے مطابق سیلاب 28 اگست کو پنجند کے مقام پر دریائے چناب میں شامل ہو جائے گا۔

ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے پنجاب، متعلقہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، پاک فوج کے دستے تمام تیاریاں مکمل کیے ہوئے ہیں اور دریا کے اطراف نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کی منتقلی کا پلان تیار ہے اور ہنگامی کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں۔