لاہور ہائیکورٹ: حافظ سعید اور دیگر کے خلاف مقدمات کے اخراج کیلئے درخواست دائر

ای میل

کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ کو سی ٹی ڈی نے گرفتار کیا تھا—فائل فوٹو: اے پی
کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ کو سی ٹی ڈی نے گرفتار کیا تھا—فائل فوٹو: اے پی

لاہور ہائی کورٹ میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید اور دیگر 65 افراد کے خلاف درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آرز) کے اخراج کے لیے درخواست دائر کردی گئی۔

عدالت عالیہ میں دائر اس درخواست پر سماعت جمعرات 22 اگست کو ہوگی، جماعت الدعوۃ کے رہنما ملک ظفر اقبال کی جانب سے ماہر قانون اے کے ڈوگر کے توسط سے دائر کی گئی اس درخواست میں وفاقی اور پنجاب حکومت، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ریجنل ہیڈکوارٹر کو فریق بنایا گیا ہے۔

ملک ظفر اقبال جن کا نام پولیس رپورٹس میں بھی ہیں، ان کی طرف سے دائر درخواست کے مطابق مقدمات کا اندراج 'بغیر قانونی اختیار کے ہے اور یہ قانونی طور پر موثر نہیں'۔

مزید پڑھیں: جماعت الدعوۃ کےسربراہ حافظ سعید کو نماز کی امامت سے روک دیا گیا

درخواست میں کہا گیا کہ جس پراپرٹی کے بارے میں سوال کیا جارہا وہ مسجد کے لیے تھی اور اسی مقصد کے لیے اس کا استعمال ہوا، لہٰذا درج کی گئی 23 ایف آئی آرز 'قانونی اختیار کے بغیر ہیں'۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اس پراپرٹی کو 'کبھی بھی یہ جگہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال نہیں ہوئی اور ہی ان سنگین الزامات کی حمایت میں ریکارڈ پر کوئی ناقابل تردید ثبوت ہیں'۔

درخواست کے مطابق ان مقدمات میں حافظ محمد سعید پر کالعدم عسکریت پسند گروپ لشکر طیبہ کے سربراہ ہونے کا الزام 'حقیقت میں اور قانونی طور پر بے بنیاد ہے'۔

عدالت میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت یہ قرار دے کہ درخواست گزاروں اور اس کے ساتھیوں کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا یہ ایف آئی آرز 'بغیر قانونی اختیار ہے ہیں اور یہ قانونی طور پر موثر نہیں'۔

واضح رہے کہ 3 جولائی کو کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور نائب امیر عبدالرحمٰن مکی سمیت اعلیٰ قیادت کے 13 رہنماؤں پر انسانی دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے تقریباً 2 درجن سے زائد کیسز درج کیے گئے تھے۔

ان 2 قائدین کے علاوہ جماعت الدعوۃ کے جن رہنماؤں پر مقدمات درج کیے گئے تھے، ان میں ملک اقبال ظفر، امیر حمزہ، محمد یحیٰ عزیز، محمد نعیم، محسن بلال، عبدالرقیب، ڈاکٹر احمد داؤد، ڈاکٹر محمد ایوب، عبداللہ عبید، محمد علی اور عبدالغفار شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: حافظ سعید کی گرفتاری پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل سامنے آگیا

سی ٹی ڈی کی جانب سے پنجاب کے 5 شہروں میں مقدمات درج کیے گئے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ غیرمنافع بخش تنظیموں اور فلاحی اداروں الانفال ٹرسٹ، دعوت الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ وغیر کے ذریعے جمع ہونے والے فنڈز سے جماعت الدعوۃ دہشت گردی کےلیے مالی معاونت کرتی۔

ان غیرمنافع بخش تنظیموں پر اپریل سے پابندی عائد کردی گئی تھی کیونکہ سی ٹی ڈی کو اپنی تفصیلی تحقیقات میں معلوم ہوا تھا کہ ان اداروں کے جماعت الدعوۃ اور اس کی قیادت سے تعلقات تھے اور ان پر پاکستان میں جمع کیے گئے فنڈز سے بڑے اثاثے/جائیداد بناکر دہشت گردی کی مالی معاونت کا الزام تھا۔

بعد ازاں 17 جولائی کو محکمہ انسداد دہشتگردی نے دہشت گردی کے لیے مالی معاونت پر حافظ محمد سعید کو لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے گرفتار کرلیا تھا۔