ملک میں ایک لاکھ 'امیر' ٹیکس نان فائلرز کو نوٹسز جاری

اپ ڈیٹ 21 اگست 2019

ای میل

ملک میں 4 ہزار بڑے ری ٹیلرز رجسٹرڈ ہیں —فائل فوٹو: اے ایف پی
ملک میں 4 ہزار بڑے ری ٹیلرز رجسٹرڈ ہیں —فائل فوٹو: اے ایف پی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دیتے ہوئے ایک لاکھ 'امیر' ٹیکس نان فائلرز کو نوٹسز جاری کردیے۔

ایف بی آر نے عندیہ دیا کہ آئندہ چند روز میں مزید ایک لاکھ نوٹسز ارسال کیے جائیں گے جبکہ نوٹسز کا جواب نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اسلام آباد میں ایف بی آر کے رکن ان لینڈ ریونیو پالیسی، رکن آئی آر آپریشنز اور رکن آئی ٹی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

لینڈ ریونیو پالیسی کے رکن ڈاکٹر حامد عتیق سرور نے کہا کہ سالانہ 6 لاکھ روپے بجلی کا بل ادا کرنے والے دکانداروں کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن میں لائیں گے اور ٹیکس رجسٹرڈ افراد کی تعداد 4 لاکھ تک بڑھائیں گے۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر نے آن لائن ٹیکس پروفائل نظام متعارف کروادیا

اس موقع پر رکن آئی آر آپریشنز سیما شکیل نے کہا کہ ایک لاکھ ’ہائی نیٹ ورتھ‘ والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے نوٹسز جاری کردیے ہیں جبکہ مزید ایک لاکھ افراد کو نوٹس جاری کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ نوٹسز کے اجرا کا عمل مرحلہ وار جاری رہے گا اور نوٹسز بینک سے رقوم نکلوانے سمیت معاشی سرگرمیوں کی بنیاد پر جاری کیے جائیں گے۔

اسی حوالے سے رکن آئی آر پالیسی ڈاکٹر حامد عتیق سرور کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن والوں کی تعداد 3 سے 4 لاکھ تک بڑھائیں گے، جو اس وقت ڈھائی لاکھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سالانہ 6 لاکھ روپے یا اس سے زائد بجلی کا بل ادا کرنے والے، ایک ہزار مربع فٹ سے بڑی دکان والے، ریٹیلرز اور صنعتی کنکشنز رکھنے والوں کی سیلز رجسٹریشن ترجیحات میں شامل ہے۔

مزیدپڑھیں: ایف بی آر کا سیکڑوں اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے پر غور

ڈاکٹرحامد عتیق سرور نے کہا کہ ملک میں 4 ہزار بڑے ری ٹیلرز رجسٹرڈ ہیں جو کپڑے اور جوتوں سمیت 15 سے 20 بڑے برانڈز پر مشتمل ہیں۔

علاوہ ازیں ممبر آئی ٹی ایف بی آر محمود اسلم کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن میں لوگوں کو شکایات تھیں لیکن سیلز ٹیکس رجسٹریشن کو آسان کردیا گیا ہے، کوئی بھی شخص اپنے کمپیوٹر اور موبائل فون کے ذریعے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کرواسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے لیے کاغذات کو کم سے کم کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مینوفیکچررز کو مشینری اور بجلی کے بل کی کاپی ساتھ منسلک کرنا ہوگی، نظام کے ذریعے بینک اکاونٹس کی تصدیق کی جائے گی، رجسٹریشن کے بعد متعلقہ افراد کو 30 روز کے اندر نادرا ای سہولت مراکز میں بائیو میٹرک تصدیق کروانا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا چیئرمین ایف بی آر کی تبدیلی پر غور

انہوں نے بتایا کہ مقررہ مدت میں بائیو میٹرک تصدیق نہ ہونے پر رجسٹریشن ان ایکٹو کردی جائے گی۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ بائیو میٹرک تصدیق کی وجہ سے شناختی کارڈ کا غلط استعمال ممکن نہیں رہے گا۔

رکن آئی ٹی کا کہنا تھا کہ جعلی ای میلز کی روک تھام کے لیے سائبر کرائمز ونگ سے رابطہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، جو بڑی کامیابی ہے۔