بدمعاش واشنگٹن کو اپنے حصے کا تُرش پھل کھانا پڑے گا، چین

اپ ڈیٹ 24 اگست 2019

ای میل

وزارت تجارت کے ترجمان نے واشنگٹن کے فیصلے کو یکطرفہ اور بدمعاشی قرار دیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
وزارت تجارت کے ترجمان نے واشنگٹن کے فیصلے کو یکطرفہ اور بدمعاشی قرار دیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

امریکا کی جانب سے چین کی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرنے بعد چین نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ ’بدمعاش واشنگٹن کو آخر کار اپنے حصے کا تُرش پھل کھانا پڑے گا‘۔

دوسری جانب یورپی رہنماؤں نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چین اور یورپ کے ساتھ تجارتی محاذ آرائی سے خبردار کردیا۔

واضح رہے کہ امریکا مختلف مراحل میں چین کی مصنوعات پر مجموعی طور پر 550 ارب ڈالر کے ٹیرف عائد کرچکا ہے۔

مزیدپڑھیں: ٹیرف تنازع: ٹرمپ کا امریکی کمپنیوں کو چین سے واپسی حکم

حالیہ ٹیرف کے اضافے پر چین نے بھی بدلے میں امریکی مصنوعات پر 75 ارب ڈالر کا نیا ٹیرف عائد کیا تھا، جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو فوری طور پر بیجنگ سے واپسی کا حکم دیا تھا۔

ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’ہمارے ملک نے کئی برسوں سے چین کے ساتھ بے وقوفی میں کھربوں ڈالرز ضائع کردیے، انہوں نے ہماری جائیداد کو ایک سال میں سیکڑوں اربوں ڈالر کی قیمت میں چوری کیا اور وہ اس کو جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن میں ایسا نہیں ہونے دوں گا‘۔

امریکی صدر کے اس بیان پر چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے واشنگٹن کے فیصلے کو ’یکطرفہ اور بدمعاشی‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے ٹیرف میں اضافہ کر کے’ کثیرالجہتی تجارتی نظام اور عالمی تجارتی آرڈر کو نقصان‘ پہنچایا ہے، لہٰذا ’امریکا کو اپنے حصے کا تُرش پھل کھانا پڑے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا چین تجارتی جنگ، ‘بیجنگ میں مذاکرات کا پہلا دور مثبت رہا‘

ترجمان نے کہا کہ ’چین، امریکا پر زور دیتا ہے کہ وہ صورتحال کے بارے میں غلط اندازہ نہ لگائے اور چین کے لوگوں کے عزم کو کم نہ سمجھے‘۔

وزارت تجارت کے ترجمان نے خبردار کیا کہ ’امریکا اپنی احمقانہ غلطی کو روکے، بصورت دیگر نتائج کی مکمل ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوگی‘۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ رواں برس کے اواخر میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی محاذ کی وجہ سے تمام درآمدات اور برآمدات کو متاثر ہوں گی۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ امریکا کی بیشتر کمپنیاں چین کی خدمات پر انحصار کرتی ہیں۔

مزیدپڑھیں: چین کی امریکا کو نایاب دھاتوں سے محروم کرنے کی ’دھمکی‘

دوسری جانب یورپی یونین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے امریکا کو خبردار کیا کہ ٹرمپ کی چین اور یورپ کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے نتیجے میں پوری دنیا کی اقتصادی صورتحال متاثر ہوگی اور بے روزگاری بڑھے گی۔