ملک بھر میں یومِ عاشور عقیدت و احترام سے منایا گیا، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

ای میل

یومِ عاشور کے موقع پر صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے خصوصی پیغام جاری کیے — تصویر: اے پی
یومِ عاشور کے موقع پر صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے خصوصی پیغام جاری کیے — تصویر: اے پی

سخت ترین مصائب کا سامنا کر نے کے باوجود حق اور سچ کا پرچم تھام کر اپنی اور اپنے رفقا کی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسینؓ و دیگر شہدائے کربلا کی یاد میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں یومِ عاشور (10 محرم الحرام) انتہائی عقیدت و احترام سے منایا گیا۔

اس سلسلے میں ملک کے مختلف علاقوں میں سخت سیکیورٹی میں ماتمی جلوس نکالے گئے جس میں عزادار ماتم اور نوحہ خوانی کرتے ہوئے شہدائے کربلا پر ڈھائے گئے مظالم کو یاد کرتے رہے۔

جلوسوں کے راستوں میں بڑی تعداد میں نذر و نیاز کا سلسلہ بھی جاری رہا جبکہ جلوس کے اختتام پر مجالس برپا کی گیں جس میں واقعہ کربلا اور اہلِ بیت کے فضائل و مراتب بیان کیے گئے۔

ملک بھر میں یوم عاشور کے جلوسوں کی حفاظت کے لیے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ متعدد شہروں میں جلوس کی گزرگاہوں میں موبائل فون سروس بند کی گئی تھی جبکہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں9 محرم الحرام کے جلوس سخت سیکیورٹی میں اختتام پذیر

عاشورہ کے سلسلے میں ملک بھر میں سیکیورٹی کو خصوصی طور پر ہائی الرٹ رکھا گیا تھا جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سول آرمڈ فورسز اور پاک فوج کے جوانوں نے سیکیورٹی کے انتظامات سنبھالے تھے۔

صدر اور وزیراعظم کے پیغامات

یوم عاشور 10محرم الحرام 1441ہجری کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ نواسہ رسولﷺ حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ بیت اطہار اور رفقائے کار کے ساتھ میدان کربلا میں شہادت پا کر تاریخ اسلام میں اس دن کو تا قیامت انمٹ بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ عظیم قربانی ہرسال مسلمانوں کو اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ فسق و فجور کی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ آئیے آج کے دن تجدید عہد کریں کہ ہم اُسوہ امام حسینؓ کی روشنی میں ہر وہ کام کریں گے جو اعلائے کلمة اللہ، فروغ حق، اسلامی روایات کی پاسداری اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے مفید ہوں اور دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے سدباب کے لیے کسی بھی قسم کا اقدام کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔

دوسری جانب اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے مختلف اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے، تاریخ اسلام میں اس دن کو ایک الگ رفعت و بلندی اور خاص اہمیت و انفرادیت حضرت امام حسینؓ کی شہادت اور واقعہ کربلا کی بدولت حاصل ہوئی۔

مزید پڑھیں: محرم الحرام ضابطہ اخلاق: ’ڈی ایس این جی جلوس کا حصہ نہیں ہوگی‘

انہوں نے کہا کہ کربلا کا یہ عظیم معرکہ حق و باطل، یہ بات باور کراتا ہے کہ اسلام کی اعلیٰ اقدار کے فروغ و احیاء کے لیے اپنی یا اپنے پیاروں، شیر خوار بچوں، جوان بیٹوں، بھائیوں اور ساتھیوں کی قربانی سے گریز نہیں کرنا چاہیے اور اپنی جانوں کے علاوہ اپنا سب کچھ راہ خدا میں دین اسلام کی سر بلندی کے لیے نچھاور کردینا ہی عظمت اور کامیابی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جذبہ شبیری ؓ مسلمانوں کے ایمان و یقین، سچائی اور اصول پرستی کی روایت کو جلا بخشتا ہے اور یہ اسلام کے ابدی پیغام اور جذبہ قربانی کی لازوال اور روح پرور روایت کی آبیاری کا سرچشمہ ہے جس کی نظیر تاریخ انسانی میں مشکل سے ہی ملتی ہے.

کوئٹہ میں ماتمی جلوس

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علمدار روڈ پر بھی انتہائی سخت سیکیورٹی میں یومِ عاشور کا جلوس نکالا گیا جس کے شرکا نے باچا خان چوک پر پہنچ کر نمازِ ظہرین ادا کی۔

بعدا ازاں جلوس لیاقت بازار، پرنس روڈ اور دیگر روایتی راستوں سے گزرتا ہوا علمدرار روڈ آباد پر اختتام پذیر ہوا۔

یومِ عاشور کے موقع پر شہر میں امن وعامہ کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے 5 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ حساس علاقوں اور چیک پوسٹوں پر کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ایف سی اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے۔

دوسری جانب کوئٹہ شہر کے مختلف مقامات سے چھوٹے ماتمی جلوس نکالے گئے جو علمدار روڈ پر دیگر جلوسوں میں شامل ہوئے۔

سندھ کے ماتمی جلوسوں کی نگرانی

کراچی سمیت سندھ بھر میں 10 محرم الحرام کے سلسلے میں جلوس نکالے گئے جن کی سیکیورٹی کے لیے سخت اتنظامات کیے گئے تھے۔

کراچی میں یومِ عاشور کا مرکزی ماتمی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا جو حسینیہ ایرانیہ امام بارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

جلوس کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر سعید غنی کے ساتھ پریڈی اسٹریٹ لائن پہنچے اور جلوس کی قیادت بھی کی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے کوشش کی ہے کہ شرکا کو تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں، اس کے علاوہ کچھ خطرات بھی تھے تاہم اس سلسلے میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے'۔

یہ بھی پڑھیں: محرم الحرام کے جلوس کیلئے سیکیورٹی کے انتظامات مکمل

اس کے ساتھ وزیراعلیٰ سندھ نے ماتمی جلوسوں کے منتظمین اور انتظامیہ کی کاوشوں پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

بعدازاں وزیراعلیٰ سندھ سکھر روانہ ہوئے جہاں انہوں نے سکھر، روہڑی، خیرپور، کوٹ ڈیجی، شکار پور، جیکب آباد کے ماتمی جلوسوں کی سیکیورٹی کا بھی جائزہ لیا۔

دوسری جانب انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے بھی مرکزی جلوس کے مختلف روٹس کا دورہ کیا اور یوم عاشور کے مرکزی جلوس کے روٹس پر پولیس کی تعیناتی اور مجموعی سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔

آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ مرکزی مجالس یا جلوس کی سیکیورٹی مانیٹرنگ وضع کردہ جدید سسٹم سے یقینی بنائی جارہی ہے اور سندھ پولیس کے تمام یونٹس محرم سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد میں مصروف ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مرکزی جلوس کے روٹس پر سیکیورٹی حکمت عملی اور لائحہ عمل میں اسنائپرز کو بھی اہم ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔

لاہور میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات

ملک بھر کی طرح لاہور میں بھی یوم عاشور نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نثار حویلی سے برآمد ہوا، جو اپنے قدیمی راستوں موچی گیٹ، موری گیٹ، مسجد وزیر خان اور پانی والا تالاب سے ہوتا ہوا رنگ محل پہنچا جہاں نماز ظہرین ادا کی گئی۔

جس کے بعد مرکزی جلوس بھاٹی گیٹ پہنچا اور شام کو کربلا گامے شاہ جا کر اختتام پذیر ہوا، جلوس میں نوحہ خوانی، ماتم داری اور زنجیر زنی کی گئی جبکہ اس دوران نذر و نیاز کا بھی سلسلہ جاری رہا۔

پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے تھے، 8 ہزار کے قریب پولیس اہلکاروں نے ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیئے، مرکزی جلوس کی سیکیورٹی پر 14 ایس پیز، 24 ڈی ایس پیز اور 87 انسپکٹرز تعینات رہے۔

جلوس کے روٹ میں آنے والی تمام گلیوں کو خاردار تاریں اور رکاوٹیں لگا کر مکمل طور پر سیل کیا گیا، عزادار خواتین کی چیکنگ کے لیے خواتین پولیس اہلکار اور رضا کار بھی تعینات تھیں۔

جلوس کے روٹ میں آنے والی عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز تعینات تھے، شرکاء کو 3 مراحل میں سیکیورٹی چیکنگ کے بعد ہی جلوس میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔

پولیس افسران کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پولیس افسران اور جوان انتہائی الرٹ رہیں، عزا داروں کے مکمل منتشر ہونے تک کوئی جوان اپنا ڈیوٹی پوائنٹ نہ چھوڑے۔

پشاور میں یومِ عاشور

ملک کے دیگر علاقوں کی طرح پشاور کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی جلوس کی گزرگاہوں پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔

سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعلیٰ کے پی محمود خان نے دیگر وزراء کے ہمراہ محکمہ داخلہ میں کنٹرول روم کا دورہ کیا اس دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سیکیورٹی فورسز کے اقدامات پر مطمئن دکھائی دیے۔

پشاور میں 10 محرم کے جلوسوں کی حفاظت کے لیے موثر انتظامات کیے گئے تھے، شہر بھر میں 5 ہزار پولیس اور 2 ہزار ٹریفک اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ شہر میں موبائل فون سروس بھی معطل کردی گئی تھی۔

دوسری جانب لکی مروت میں بغیر شناختی کارڈ دکھائے نقل و حمل پر پابندی عائد تھی، کوئٹہ اور پشاور میں موبائل فون نیٹ ورکس مکمل بند تھے جبکہ دیگر شہروں میں موبائل سروس جلوسوں کے راستوں پر معطل تھی۔