العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست کی سماعت کیلئے بینچ تشکیل

اپ ڈیٹ 10 ستمبر 2019

ای میل

جج ارشد ملک کے ویڈیو لیک تنازع کے بعد سے ان کی سزا کے خلاف یہ پہلی سماعت ہو گی — فائل فوٹو: اے ایف پی
جج ارشد ملک کے ویڈیو لیک تنازع کے بعد سے ان کی سزا کے خلاف یہ پہلی سماعت ہو گی — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست کی سماعت کے لیے 2 رکنی بینچ تشکیل دے دیا۔

مذکورہ بینچ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ہوگا جو مسلم لیگ (ن) کے قائد کی سزا کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 18 ستمبر کو کرے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک کے ویڈیو لیک تنازع کے بعد سے ان کی سزا کے خلاف یہ پہلی سماعت ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: جج ارشد ملک ویڈیو کیس: ناصر جنجوعہ سمیت 3 ملزمان عدم شواہد پر بری

یاد رہے کہ ایک پریس کانفرنس میں ویڈیو دکھاتے ہوئے مریم نواز نے بتایا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے جج نے فیصلے سے متعلق ناصر بٹ کو بتایا کہ 'نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، فیصلے کے بعد میرا ضمیر ملامت کرتا رہا اور جس کے بعد رات کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں، لہٰذا نواز شریف تک یہ بات پہنچائی جائے کہ ان کے کیس میں جھول ہوا ہے‘۔

ارشد ملک وہی جج ہیں، جنہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا تھا۔

دوسری جانب جج ارشد ملک نے بیان حلفی میں دعویٰ کیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں کی جانب سے انہیں العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے پر مجبور کرنے کے لیے رشوت کی پیشکش اور سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی، بعد ازاں عہدے سے استعفیٰ دینے پر بھی مجبور کیا گیا۔

مزید پڑھیں: حسین نواز نے 50 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی، جج ارشد ملک

بیان حلفی میں جج ارشد ملک نے کہا تھا کہ جب فلیگ شپ ریفرنس اور العزیزیہ ریفرنس کے ٹرائل میں دلائل کا مرحلہ جاری تھی تو ایک مرتبہ پھر مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ نے مجھ سے رابطہ کیا اور اس مرتبہ وہ نواز شریف کی جانب سے مالی پیشکش بھی ساتھ لائے تھے۔

جج ارشد ملک نے کہا کہ فروری 2019 میں خرم بٹ اور ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران ناصر بٹ نے پوچھا کہ کیا ناصر جنجوعہ نے آپ کو ’ملتان والی ویڈیو‘ دکھا دی جس پر میں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا کہ کس حوالے سے بات کر رہے ہیں۔

ناصر بٹ نے کہا کہ آپ کو چند دن میں ویڈیو دکھا دی جائے گی، بعد ازاں میاں طارق اور ان کے بیٹے نے مجھ سے ملاقات کی جن سے میری جان پہچان اس وقت سے تھی جب میں 2000 سے 2003 تک ملتان میں بطور ایڈیشنل اور سیشن جج تعینات تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ سنا دیا

یہ بات مدِ نظر رہے کہ ویڈیو اسکینڈل میں ملوث طارق محمود کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا لیکن دیگر 3 ملزمان ناصر جنجوعہ، مہر غلام جیلانی اور خرم یوسم کو ایف آئی اے کی تحویل میں دیا گیا تھا۔

بعدازاں ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں ملزمان کو پیش کیا گیا اور تحقیقی افسر نے موقف اختیار کیا کہ تینوں ملزمان کے خلاف شواہد نہیں ملے، عدالت چاہے تو انہیں رہا کردے جس پر عدالت نے ان کی رہائی کا فیصلہ سنا دیا۔