ایچ آئی وی وائرس کے علاج کی جانب مزید پیشرفت

12 ستمبر 2019

ای میل

چینی سائنسدانوں نے کرسپر تیکنیک کا استعمال کیا — شٹر اسٹاک فوٹو
چینی سائنسدانوں نے کرسپر تیکنیک کا استعمال کیا — شٹر اسٹاک فوٹو

ایچ آئی وی وائرس کو ناقابل علاج سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ وائرس پورے جینوم کو متاثر کرتا ہے اور خود کو خفیہ مقامات پر چھپا کر کسی بھی وقت دوبارہ سر اٹھالیتا ہے۔

ویسے اس وقت ایسی انتہائی موثر ادویات موجود ہیں جو اس وائرس کو دبا دیتی ہیں اور مریض میں یہ وائرس ایڈز کی شکل اختیار نہیں کرپاتا جس سے صحت مند اور لمبی زندگی گزارنا ممکن ہوجاتی ہے، تاہم یہ ادویات ایچ آئی وی کو ختم کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔

مگر اب چین سے تعلق رکھنے والے سائنسدان کرسپر جینیاتی تدوین کی تینیک کے ذریعے ایچ آئی وی کے شکار ایک شخص کا علاج کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو اس مرض کے طریقہ علاج کے حوالے سے اہم پیشرفت قرار دی جارہی ہے۔

کرسپر تیکنیک انسانی جینز کی ایڈیٹنگ کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور سائنسدانوں کو توقع ہے کہ اس کی مدد سے مستقبل میں انسانی زندگی کو بہتر بنانے اور موروثی بیماریوں کو روکنا ممکن ہوسکے گا۔

امریکی جریدے نیوز ویک میں شائع رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے محققین نے کرسپر کاس 9 تیکنیک کو ڈونر کے اسٹیم سیل کی تدوین کے لیے استعمال کرکے انہیں ایچ آئی وی اور خون کے کینسر کے شکار 27 سالہ مریض میں اس توقع کے ساتھ ٹرانسپلانٹ کیا کہ یہ خلیات بچنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور پھر اپنی نقل بنا کر ایچ آئی وی کا علاج ثابت ہوں گے۔

اس طریقہ کار میں ڈونر کے اسٹیم سیلز سے سی سی آر 5 نامی جین کو نکال دیا گیا، سی سی آر 5 ایک ایسا پروٹین ہے جو ایچ آئی وی وائرس انسانی خون کے خلیات کے اندر استعمال کرتا ہے اور ماضی میں ہونے والی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ایسے جینز کو متاثر کرتا ہے جو ایچ آئی وی سے محفوظ ہوتے ہیں۔

طبی جریدے نیو جرنل آف میڈیسین میں شائع تحقیق کے مطابق تحقیقی ٹیم ڈونر کے اسٹیم سیلز کے 17,8 فیصد حصے کو ایڈٹ کرنے میں کامیاب رہے اور ٹرانسپلانٹ کے 19 ماہ بعد بھی یہ تدوین شدہ خلیات بدستور کام کرتے رہے، مگر اس دورانیے میں نصف سے زائد ایڈٹ شدہ خلیات مرگئے۔

تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ مریض میں ٹرانسپلانٹ کے بعد کسی قسم کے مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔

تحقیق میں شامل بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی کے بائیولوجسٹ ہونگ کوئی ڈینگ نے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو دیئے گئے انٹرویو میں بتایا 'یہ پہلا تجربہ تھا تو اس وقت سب سے اہم چیز ٹیسٹ کا تحفظ ہے، ہمارے نتائج ایک خیال کی حقیقی شکل کو ظاہر کرتے ہیں'۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں اس حوالے سے پینسلوانیا یونیورسٹی کے پروفیسر کارل جون نے لکھا 'انہیں 90 فیصد یا اس سے زائد تک پہنچنا چاہیے تھا، میرے خیال میں پھر ایچ آئی وی کے علاج کا امکان تھا، مگر یہ بات مثبت ہے کہ سائنسدانوں نے دیگر جینز کو متاثر کرنے کی بجائے ہدف کو ہی نشانہ بنانے کی کوشش کی'۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے فیوڈور یونوو نے جریدے نیچر میں اس تحقیق کے بارے میں کہا کہ یہ انسانی امراض کے علاج کے لیے جینز کی تدوین کے استعمال کی جانب ایک اہم قدم ہے 'میں حیران نہیں کہ 5 فیصد وائرس کے لوڈ کو کم کرنے کے یے ناکافی ثابت ہوئے، مگر اب ہم جانتے ہیں کہ کرسپر سے تدوین شدہ خلیات برقرار رہ سکتے ہیں اور ہمیں ان کی تعداد 5 فیصد سے زیادہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے'۔

انہوں نے کہا کہ اس تحقیق کے باعث ہم اب جان گئے ہیں کہ یہ تدوین شدہ خلیات مریض میں زندہ رہ سکتے ہیں اور انہیں وہاں رہنا چاہیے'۔

اس سے پہلے رواں سال جولائی میں سائنسدانوں نے پہلی بار ادویات اور جین ایڈیٹنگ کی مدد سے لیبارٹری کے چوہے کے پورے جینوم میں ایچ آئی وی کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

امریکا کی نبراسکا یونیورسٹی کے ماہرین نے ایچ آئی وی سے نجات دلانے والے نئے طریقہ کار کو دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کی جو کہ 5 سال سے اس پر کام کررہے تھے۔

اس طریقہ کار میں انہوں نے آہستی سے اثر کرنے والی ادویات اور جین ایڈیٹنگ کرسپر کاس 9 کا استعمال کیا اور اس کے نتیجے میں لیبارٹری کے ایک تہائی چوہوں کے مکمل جینوم سے ایچ آئی وی کو ختم کرنے میں کامیاب رہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس کامیابی پر ہمیں یقین ہی نہیں آیا، پہلے تو ہمیں لگا کہ یہ اتفاق ہے یا گرافس میں کوئی گڑبڑ ہے، مگر کئی بار اس عمل کو دہرانے کے بعد ہمیں یقین آیا ہے کہ ہم نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ طبی جریدوں نے بھی ہم پر یقین نہیں کیا اور کئی بار ہمارے مقالے کو مسترد کیا گیا اور ہم بڑی مشکل سے یقین دلانے میں کامیاب ہوئے کہ ایچ آئی وی کا علاج اب ممکن ہے۔