برطانوی اسٹور کا کارنامہ، شلوار کے بغیر کُرتے کو ڈریس کے طور پر متعارف کرادیا

ای میل

کمپنی نے کُرتے کے ڈیزائن کو چوری کرنے کے بعد اسے بوہو ڈریس کا نام دیا—فوٹو: ٹوئٹر
کمپنی نے کُرتے کے ڈیزائن کو چوری کرنے کے بعد اسے بوہو ڈریس کا نام دیا—فوٹو: ٹوئٹر

مغربی فیشن ہاؤسز یا مغربی ممالک کی جانب سے مشرقی اور خصوصی طور پر جنوبی ایشیائی کلچر پر تنقید کرنا کوئی نئی بات نہیں۔

تاہم گزشتہ چند سال سے مغربی فیشن ہاؤس، برانڈزاور کلاتھنگ اسٹورز جنوبی ایشیائی کلچر کو کاپی کرنے میں مصروف ہیں۔

رواں برس مارچ میں جہاں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ فرنچ شوز فیشن ڈیزائنر کرسٹین لوبوٹن نے پاکستان کی مشہور پشاوری چپل کی کاپی کرکے انہیں ’عمران سینڈلز‘ کا نام دیا تھا۔

امریکی کمپنی نے اجرکے کی طرز پر بنائے گئے لباس کو مختلف رنگوں کے بلاکس میں تیار شدہ کپڑے قرار دیا تھا—فوٹو: ایف ڈبلیو آر ڈی
امریکی کمپنی نے اجرکے کی طرز پر بنائے گئے لباس کو مختلف رنگوں کے بلاکس میں تیار شدہ کپڑے قرار دیا تھا—فوٹو: ایف ڈبلیو آر ڈی

وہیں رواں برس اپریل میں بھی ایک امریکی فیشن ہاؤس نے سندھ کے ثقافتی کپڑے اجرک کے ڈیزائن کو کاپی کرکے نئے کپڑے متعارف کرائے تھے۔

امریکی فیشن ہاؤس ’سی‘ نے اجرک کے ڈیزائن پر شرٹ کو فروخت کے لیے پیش کرتے ہوئے اسے ’پولش ڈیزائن‘ قرار دیا تھا۔

اور اب ایک برطانوی کلاتھنگ اسٹور نے جنوبی ایشیا اور خاص طور پر پاکستان و بھارت میں خواتین کے مقبول ڈریس ’کُرتے‘ کے ڈیزائن کو کاپی کرتے ہوئے اسے ’بوہو ڈریس‘ کے نام سے فروخت کے لیے پیش کیا ہے۔

’بوہو ڈریس‘ دراصل مغربی طرز کا ’کُرتے‘ اور ’فراک‘ سے ملتا جلتا لباس ہوتا ہے، تاہم ’بوہو ڈریس‘ کے ساتھ خواتین دوپٹہ نہیں پہنتیں اور بعض شلوار کو بھی استعمال نہیں کرتیں۔

تاہم مشرقی خواتین ’کُرتے‘ یا ’فراک‘ کے ساتھ شلوار اور دوپٹہ استعمال کرتی ہیں۔

برطانوی کلاتھنگ اسٹور’تھرفٹ‘ نے پاکستان و بھارت میں زیادہ استعمال ہونے والے ’کُرتے‘ کو ’بوہو ڈریس‘ کے نام سے فروخت کے لیے پیش کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی نے ’کُرتے‘ کو شلوار کے بغیر فروخت کے لیےپیش کیا، چوں کہ اسٹور کا خیال ہے کہ شلوار کے بغیر بھی ڈریس مکمل ہوتی ہے۔

برطانوی اسٹور کی جانب سے شلوار کے بغیر کُرتے کو فروخت کے لیے پیش کیے جانے پر مشرقی خواتین نے سخت اعتراض کیا اور سوشل میڈیا پر کمپنی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

متعدد مشرقی خواتین نے برطانوی اسٹور کی جانب سے کُرتے کو بغیر شلوار کے مکمل ڈریس کے طور پر فروخت کے لیے پیش کیے جانے پر حیرت کا اظہار کیا اور بعض خواتین نے تو اپنے تجربات شیئر کیے اور بتایا کہ جب انہوں نے کئی سال قبل یہی ڈریس برطانیہ میں پہنا تو انہیں تضحیک کا نشانہ بنایا گیا اور آج ان کے ہی ڈریس کو کاپی کرکے فروخت کےلیے پیش کیا گیا۔

برطانوی اسٹور کی جانب سے کُرتے کو شلوار کے بغیر فروخت کے لیے پیش کیے جانے اور اسے ’بوہو ڈریس‘ کا نام دیے جانے کے بعد مشرقی خواتین نے ٹوئٹر پر شلوار اور قمیض میں اپنی تصاویر شیئر کرتے ہوئے طنزیہ اپنے ڈریس کو ‘بوہو ڈریس‘ قرار بھی دیا۔