امریکا کا سعودی عرب اور یو اے ای میں مزید فوج بھیجنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2019

ای میل

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج بھیجنے کی منظوری دے دی— فوٹو: اے پی
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج بھیجنے کی منظوری دے دی— فوٹو: اے پی

امریکا نے تیل تنصیبات پر حملے کے بعد ایران پر نئی سخت پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی درخواست پر خلیجی ممالک میں اپنی مزید فوج بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئی پابندیاں لگانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی بھی ملک پر لگائی گئیں سخت ترین پابندیاں ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا نے ایران کے مرکزی بینک پر پابندی عائد کردی

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے کے بعد ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا جو ہماری مضبوطی کی علامت ہے تاہم انہوں نے ساتھ ساتھ واضح کیا کہ امریکا کا ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں۔

امریکی صدر نے اس موقع پر ان ناقدین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جن کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران حملے اور ایک نئی جنگ چھیڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے لیے سب سے آسان چیز یہ تھی کہ میں ایران میں 15 مختلف چیزوں کو تباہ کر دیتا لیکن میرے خیال میں مضبوطی کی علامت یہ ہوتی ہے ہم تحمل مزاجی کا مظاہرہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں: تیل کی تنصیبات پر حملے یمن سے نہیں ایران سے ہوئے، سعودی عرب

یاد رہے کہ جون میں ایران کی جانب سے خفیہ امریکی ڈرون مار گرانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوجی حملے کی منظوری دی تھی لیکن پھر آخری لمحات میں اپنے اس حکم کو منسوخ کردیا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران کے سینٹرل بینک پر پابندیاں عائد کردی ہیں جہاں امریکا کا کہنا تھا کہ اس کے پاس واضح ثبوت موجود ہیں کہ تیل کی تنصیبات پر حملے ایران سے کیے گئے۔

امریکی ڈیفنس سیکریٹری مارک ایسپر نے کہا کہ جون میں امریکی خفیہ ڈرون کے بعد اب تیل کی تنصیبات پر حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایرانی جارحیت میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب تیل تنصیبات پر حملے میں ایران براہ راست ملوث ہے، امریکا

پنٹاگون کے سربراہ نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر امریکا خلیجی خطے میں فوج بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

ایسپر نے کہا کہ سعودی عرب کی درخواست پر امریکا نے اپنی افواج بھیجنے کی منظوری دے دی ہے جہاں اس کا مقصد دفاع کرنا ہو گا اور بنیادی توجہ فضائی اور میزائل ڈیفنس پر ہو گی۔

تاہم جوائنٹ چیف آف اسٹاف جو ڈن فورڈ نے کہا کہ سعودی عرب میں بھیجے جانے والے فوجیوں کی تعداد ہزاروں تک نہیں پہنچے گی۔

ادھر امریکا نے ایران کے مرکزی بینک، نیشنل ڈیولپمنٹ فنڈ اور مالیاتی کمپنی اعتماد تجارت پارس پر پابندی لگانے کا اعلان کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا سعودی بادشاہت کا خاتمہ قریب آگیا؟

پابندیوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 'امریکا نے ایران کے مرکزی بینک، نیشنل ڈیولپمنٹ فنڈ اور ایرنی کمپنی اعتماد تجارت پارس پر پابندی عائد کردی گئی ہے جو ملیٹری کی خریداری کے لیے مالی امداد میں ملوث پائی گئی ہے'۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 'یہ ادارے ایرانی حکومت کی دہشت گردی اور دہشت گرد قرار دی گئی فوج پاسداران انقلاب کے ذریعے خطے میں جارحیت پھیلانے اور ایرانی حکومت کی بڑی پراکسی فورس قدس اور حزب اللہ کی مدد کرتے تھے'۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تجارتی اور معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں جبکہ معاہدے کے دیگر عالمی فریقین برطانیہ، جرمنی، فرانس، روس اور چین نے ایران سے معاہدہ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں: سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کس مشن پر پاکستان آئے؟

خیال رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ڈرون حملے کیے گئے تھے۔

ان حملوں کی ذمے داری ایران کے حمایت یافتہ یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کی تھی جس کی عالمی برادری کی جانب سے شدید مذمت کی گئی تھی۔

تاہم امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کہا تھا کہ آرامکو کے 2 پلانٹس پر ہونے والے ڈرون حملوں میں ایران براہ راست ملوث ہے۔

دوسری جانب ایران نے سعودی عرب میں ڈرون حملے میں ملوث قرار دینے کے امریکی الزام کو مسترد کردیا تھا اور وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا تھا کہ 'پومپیو زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ میں ناکامی کے بعد اب ’زیادہ سے زیادہ دھوکا‘ دینے کی جانب چلے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ‘ایران پر امریکی، سعودی فضائی حملے کی صورت میں کھلی جنگ ہوگی‘

سعودی عرب نے بھی ایران کو حملوں کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آرامکو تیل کمپنی پر حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون اور میزائل کے ٹکڑے پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ’یہ ایرانی جارحیت کے ناقابل تردید شواہد ہیں‘۔

اس مرحلے پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے کیونکہ ایران نے کہا تھا کہ سعودی یا امریکا کی جانب سے ایران پر کسی بھی قسم کی فضائی کارروائی کو کھلی جنگ تصور کیا جائے گا۔