'کشمیر امہ کا مسئلہ نہیں' کا بیان سعودی عرب نے نہیں امارات نے دیا، زلفی بخاری

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2019

ای میل

زلفی بخاری وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی ہیں—فائل فوٹو: اے پی پی
زلفی بخاری وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی ہیں—فائل فوٹو: اے پی پی

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی زلفی بخاری نے 'کشمیر امہ کا مسئلہ نہیں' سے متعلق بیان پر کہا ہے کہ 'امہ والا بیان سعودی عرب نے نہیں متحدہ عرب امارات نے دیا تھا'۔

برطانوی آن لائن اخبار انڈپینڈنٹ کی اردو سروس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زلفی بخاری نے وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب سے متعلق بات کی۔

دوران گفتگو ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کہہ چکے ہیں کہ کشمیر امہ کا مسئلہ نہیں تو اس پر وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے کیا بات کی؟

اس پر زلفی بخاری نے کہا کہ 'امہ والا بیان سعودی عرب نے نہیں متحدہ عرب امارات نے دیا تھا جبکہ سعودی ولی عہد نے یقین دہانی کرائی کہ اکتوبر میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس بلایا جائے گا تاکہ مسئلہ کشمیر کو مزید اجاگر کیا جاسکے'۔

مزید پڑھی: سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کس مشن پر پاکستان آئے؟

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کا مقصد محمد بن سلمان کو کشمیر کے مسئلے کی حساسیت سے آگاہ کرنا تھا اور دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر بھارتی وزیراعظم سے بات کریں گے۔

زلفی بخاری نے کہا کہ بھارت کے سعودی عرب کے ساتھ مفاد جڑے ہوئے ہیں، جس کے باعث کشمیر کے معاملے پر سعودی عرب اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ ہی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ ایک ساتھ پاکستان آئے تھے اور پاکستان کی اہم سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں، جس میں بھارت کے 5 اگست کے اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

اس دورے کے بعد اس طرح کی خبریں زیرگردش تھیں کہ ان وزرائے خارجہ نے پاکستان کی 'حکومت کو کہا کہ کشمیر کو مسلم امہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے'۔

تاہم 12 ستمبر کو دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ کے دورہ پاکستان سے متعلق ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی رپورٹس کو مسترد کردیا تھا۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں ان رپورٹس کو 'قیاس آرائیاں' قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ دونوں حکام نے 'پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیر کاز کے لیے حمایت کی یقین دہانی کروائی'۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر پر سعودی و اماراتی وزرا کے بیان سے متعلق رپورٹس 'قیاس آرائیاں' ہیں، دفترخارجہ

انٹرویو کے دوران خطے میں جاری سعودی عرب اور ایران کے تنازع سے متعلق جب ان سے پاکستان کے موقف کے بارے میں پوچھا گیا تو زلفی بخاری نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے تنازع میں کسی کی حمایت نہیں کررہا اور نہ ہی کسی کو منتخب کررہا ہے بلکہ 'پاکستان صرف امن کو منتخب کر رہا'۔

اپنے جواب کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کو بھی یہی بات کہی کہ پاکستان، سعودی عرب اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے ہرقسم کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے'۔

زلفی بخاری نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تنازع مذاکرات سے حل ہو کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے ایران کے دورے سے متعلق سوال پر معاون خصوصی نے کہا کہ اس وقت ایران کا فوری دورہ نہ بھی ہوا تو پاکستان، سعودی عرب اور ایران کے تنازع پر سفارتی سطح پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرے گا۔

خیال رہے کہ 14 سمتبر کو سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملے کے بعد خطے کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا نے ایران کے مرکزی بینک پر پابندی عائد کردی

آرامکو تیل تنصیبات حملے کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کی تھی تاہم سعودی حکام نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ حملہ شمال کی جانب سے ہوا۔

سعودی عرب اور امریکا نے ان حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا تھا جبکہ تہران نے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

ان حملوں کی وجہ سے ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی میں بھی مزید اضافہ ہوا تھا جس کے باعث امریکا نے 21 ستمبر کو ایران پر نئی سخت پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی درخواست پر خلیجی ممالک میں اپنی مزید فوج بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کا رد عمل دیتے ہوئے ایران کی پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی نے کہا تھا کہ ایران اپنی سرزمین پر کسی کو بھی جنگ کی اجازت نہیں دے گا اور چھوٹے پیمانے پر حملہ کرنے والوں کو تباہ کردیں گے۔