وزیرِاعظم کی حد سے بڑھتی رجائیت پسندی اور فکری مغالطے

اپ ڈیٹ 26 ستمبر 2019

ای میل

وزیرِاعظم عمران خان افغانستان سمیت دنیا کے اہم ملکوں کی تاریخ پر بے تکان بات کرتے ہیں اور تاریخ کے مطالعے پر زور دیتے ہیں، اس کے ساتھ وہ ہر مشکل ترین معاملے پر حیران کر دینے کی حد تک رجائیت پسند ہیں۔ وزیراعظم کا مطالعہ اور رجائیت پسندی کئی بار ان کی اپنی جماعت کے لیے امتحان بن جاتی ہے اور پارٹی عہدیدار ان کے بیانات کے دفاع کے قابل بھی نہیں رہتے۔

وزیرِاعظم عمران خان نے کونسل آن فارن ریلیشنز کے فورم پر بہت تفصیلی بات کی۔ افغان مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دہشتگردی کی وجوہات اور ان کے مددگاروں پر بھی روشنی ڈالی۔ وزیرِاعظم نے اس حوالے سے 2 ایسی باتیں کی ہیں جس کے اثرات پاکستان کے لیے اچھے ہوں گے نہ تاریخی اعتبار سے ان کی کوئی حقیقت ہے۔

وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی فوج نے القاعدہ کو افغانستان میں لڑنے کے لیے تربیت دی۔ یہ انتہائی خطرناک اور حقائق کے خلاف ایک بیانیہ ہے۔ القاعدہ برِصغیر کی پیداوار ہے نہ اس کا نظریہ یہاں کے حالات میں تشکیل پایا۔ القاعدہ عرب آمریتوں کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کی بنائی تنظیم ہے جو عرب بادشاہتوں کو ہٹانا چاہتے تھے کیونکہ وہ عرب ملکوں پر امریکی اور یورپی بالادستی کے خلاف تھے۔

وزیرِاعظم عمران خان کے اس بیان کو بھارتی اور یورپی میڈیا نے خوب اچھالا اور آنے والے دنوں میں اس بیان کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر براجمان شخصیت کو ایسے معاملات کی حساسیت کا اندازہ ہونا چاہئے۔

وزیرِاعظم نے افغانستان کی تاریخ پڑھنے اور اسے سمجھنے کا دعویٰ ایک سے زائد بار دہرایا لیکن اسی گفتگو میں وزیرِاعظم نے پاک افغان سرحد کے بارے میں ایسی بات کہی جو کسی بھی طور پر پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد متعین نہیں، بلکہ یہ ایک ڈیورنڈ لائن ہے جو انگریزوں نے کھینچی تھی۔

وزیرِاعظم عمران خان کو اندازہ نہیں کہ انہوں نے ڈیورنڈ لائن کا بیان دے کر ایک زمانے میں کالعدم قرار پانے والی جماعت نیپ (موجودہ اے این پی) کے پرانے موقف کی تائید کی ہے اور پختون علیحدگی پسندوں کو جواز مہیا کیا ہے جو ریاست کے لیے نیک شگون نہیں۔ یہی ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے افغانوں نے پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔

پاکستان پر الزام ہے کہ افغان طالبان اس کی مدد سے اقتدار میں آئے تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان طالبان نے بھی ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد ماننے سے انکار کیا تھا۔ افغان طالبان کے بانی ملاعمر کا اس حوالے سے مؤقف سخت تھا اور طالبان دور میں پاکستان کی خواہش کے باوجود یہ قضیہ نمٹ نہیں سکا تھا۔

وزیرِاعظم نے حال ہی میں جب طورخم بارڈر پر گیٹ کا افتتاح کیا تو اس وقت بھی افغان میڈیا نے شور مچایا کہ یہ سرحد طے شدہ نہیں۔ اسی طرح افغانستان کی طرف سے دراندازی کرنے والوں کو روکنے کے لیے پاکستان سرحد پر باڑ لگا رہا ہے مگر افغان فورسز باڑ لگانے والے پاک فوج کے جوانوں پر آئے روز حملے کرتی ہیں اور اب تک کئی جوان اس مشن میں شہید ہوچکے ہیں۔ اشرف غنی ہو یا عبداللہ عبداللہ، یا اس سے پہلے حامد کرزئی کی حکومت، سبھی ڈیورنڈ لائن کو سرحد ماننے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ وزیرِاعظم عمران خان نے کونسل آن فارن ریلیشنز کے پلیٹ فارم پر ڈیورنڈ لائن کا قضیہ دوبارہ زندہ کیوں کیا؟ یہ ان کے مطالعے کا حاصل ہے یا پھر پیری فقیری والے دفترِ خارجہ کی کوئی نئی سوچ ہے؟

وزیرِاعظم عمران خان کے فکری مغالطے حیران کن ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کن ان کی رجائیت پسندی ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان نے امریکی صدر سے ملاقات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ایران کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش بھی کر ڈالی۔ آخر عمران خان امریکا اور ایران یا سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے اس قدر پُرامید کیوں ہیں؟ اس کی وجہ تو وہی جانتے ہوں گے لیکن ثالثی کی پیش کش اور ایسی امید پسندی کا اظہار پہلی بار نہیں ہوا۔

عمران خان نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے دورہ سعودی عرب میں بھی یمن جنگ کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ اس پیشکش پر جب حکومتی شخصیات اور پارٹی عہدیداروں سے سوال پوچھے گئے کہ یمن میں کس فریق سے اور کیسے رابطے ہوں گے تو اس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا لیکن ثالثی کا ڈھول خوب پیٹا گیا اور پھر سب بھول گئے۔

اب بھی وزیرِاعظم عمران خان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر رہے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ کئی ماہ سے ثالثی اور مصالحت کی کوششوں میں مصروف فرانس کو بھی صدر ٹرمپ نے سفارتی جھاڑ پلا دی ہے کہ کسی ثالث کی ضرورت نہیں۔

ایران کے معاملے پر ثالثی ان فکری مغالطوں اور حد سے زیادہ امید پسندی سے ممکن نہیں۔ وزیرِاعظم کی رجائیت پسندی کا ایک مظہر امریکی صدر سے ملاقات میں کشمیر پر ایک بار پھر ثالثی کی درخواست ہے۔

بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی ایک دن پہلے ہیوسٹن میں امریکی صدر کے ساتھ جلسے میں شریک تھے اور وہاں نریندر مودی نے پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگائے۔ امریکی صدر کی موجودگی میں لگائے گئے ان الزامات کو پوری دنیا میں اچھالا گیا۔ عمران خان کی موجودگی میں جب صدر ٹرمپ سے اس حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے پاکستان کی صفائی میں ایک جملہ بھی نہیں کہا اور بات کو ٹال گئے۔ بس اس موقع پر یہی کہا کہ ایران دنیا کی نمبر ون دہشتگرد ریاست ہے۔

امریکی صدر ایک کاروباری شخص ہیں جو بھارت کے ساتھ ایک اچھا تجارتی معاہدہ اور پاکستان کی مدد کے ساتھ افغانستان سے باعزت انخلا کا راستہ چاہتے ہیں۔ لہٰذا ان کے ساتھ توقعات وابستہ کرنا خام خیال کے سوا کچھ نہیں۔

ہونا کیا چاہیے؟

سب سے پہلا کام تو دفترِ خارجہ کو یہ کرنا چاہیے کہ اپنی سمت کا تعین کرے اور خطے کے حالات کے مطابق نئی پالیسی تشکیل دے۔ پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ اس وقت کشمیر اور بھارت کے ساتھ کشیدگی ہے۔ اس کے لیے دفاع پاکستان کے ذمہ داروں کے ساتھ بیٹھ کر پالیسی تشکیل دی جائے۔ پاکستان کا یہ بیانیہ بہت اچھا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے اور جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، لیکن اس کو ایسے ہی سادہ انداز میں بیان کرنے سے بھارت اس پالیسی کو کمزوری سمجھ رہا ہے۔

خطے کے ملکوں کی ترقی بھی پائیدار امن اور استحکام سے جڑی ہے۔ خطے کے ملکوں کو یہ پیغام دیا جانا ضروری ہے کہ بھارت خطے کے مفادات کو روند رہا ہے۔ ترقی کے لیے خطے میں زمینی، فضائی اور دیگر مواصلاتی رابطے آزادانہ بنانے کی ضرورت ہے لیکن حالات یہی رہے تو خطے میں مواصلاتی اور تجارتی رابطے مضبوط نہیں ہو پائیں گے۔

بھارت طویل عرصے سے نہ صرف سارک کے پلیٹ فارم کو غیر فعال کرچکا ہے بلکہ ان کے درمیان ٹرانسپورٹ معاہدوں میں رکاوٹ بھی بنا ہوا ہے۔ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں بھارتی رویے کی وجہ سے پاکستان کی راہداری استعمال کرنے کے قابل نہیں رہیں۔ سارک ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا جائے اور خطے میں بھارت کے تھانیدار بننے کے عزائم کو ناکام بنایا جائے۔

افغانستان میں بھارتی نواز حکام پاکستان مخالف رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار بنیادی ہے۔ اس امن عمل میں پاکستان اپنے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنائے۔ افغانستان میں مستقبل میں جو بھی سیٹ اپ بننے جا رہا ہے اس میں یہ یقین دہانی حاصل کی جائے کہ بلاجواز سرحدی تنازع ختم ہوگا اور افغانستان کی کوئی بھی نئی حکومت ڈیورنڈ لائن کا جھگڑا کھڑا نہیں کرے گی اور امن کے لیے لگائی جانے والی سرحدی باڑ کو روکنے اور پاک فوج کے جوانوں پر حملوں کی افغان پالیسی ختم ہوگی۔

امریکا سے یہ ضمانت لی جائے کہ وہ فوجی انخلا کے بعد خطے سے دوبارہ لاتعلق ہونے کے بجائے مسائل کے حل میں مدد دے گا۔ افغانستان کی تعمیرِ نو میں مدد کے ساتھ افغان مہاجرین کی واپسی کی بھی ضمانت لی جائے۔ افغانستان میں امن کے بعد وسطی ایشیائی ریاستوں اور ماسکو سے تجارتی اور دوستانہ روابط مضبوط کرنے پر توجہ دی جائے۔

2 یا 3 ملکوں کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر باقی دنیا کے کٹ کر رہنے کی پالیسی ختم کرکے بریگزٹ کے پیش نظر یورپ میں ابھرتے نئے تجارتی مواقعوں پر توجہ دی جائے اور وہاں نئے اتحادی بنائے جائیں۔ بریگزٹ کی صورت میں برطانیہ بھی نئے تجارتی معاہدے اور مواقع تلاش کرے گا، لہٰذا پاکستان کو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

اپنے مسائل کے حل کے لیے بیرونی دنیا کی طرف دیکھنے اور توقعات پوری نہ ہونے پر بین الاقوامی برادری سے مایوسی کے بیانات جذبات نگاری کے سوا کچھ نہیں۔ مسائل کے حل کے لیے ملک کے اندر بھی سیاسی استحکام کی ضرورت ہے تاکہ معاشی سرگرمیاں تیز ہوں اور کاروباری افراد کے تحفظات دُور ہوں۔