سعودی ولی عہد کے ’خصوصی طیارے سے متعلق مضمون‘ من گھڑت قرار

اپ ڈیٹ 06 اکتوبر 2019

ای میل

حکومتی ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی قیادت کے قریبی برادرانہ تعلقات ہیں —فوٹو: ٹوئٹر
حکومتی ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی قیادت کے قریبی برادرانہ تعلقات ہیں —فوٹو: ٹوئٹر

حکومت نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو خصوصی طیارہ فراہم کرنے سے متعلق ہفت روزہ میگزین میں شائع مضمون کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دے دیا۔

ڈان نیوز کو حکومتی ترجمان نے بتایا کہ سعودی عرب کے ولی عہد نے وزیراعظم عمران خان کی سہولت کے لیے انہیں طیارہ فراہم کیا تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے دہشت گرد کیمپوں سے متعلق بھارتی آرمی چیف کا بیان مسترد کردیا

انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب کے ولی عہد نے طیارے کو پرواز کے دوران کینیڈا سے نیویارک واپس نہیں بلایا تھا۔

واضح رہے کہ ہفت روزہ میگزین ’دی فرائیڈے ٹائمز‘ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان کو فراہم کردہ سعودی ولی عہد کا خصوصی طیارہ کینیڈا سے نیویارک واپس بلالیا گیا تھا‘۔

جس پر ترجمان کا کہنا تھا کہ دو اسلامی ممالک کے برادرانہ تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش اپوزیشن کی مایوسی کی عکاس ہے۔

حکومتی ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی قیادت کے قریبی برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مذموم مقاصد کے حامل لوگ ہی من گھڑت اور بے بنیاد مفروضے قائم کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خبردار کرتا ہوں! اقوام متحدہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلائے، وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں وزیراعظم عمران خان کی نیویارک میں ترکی اور ملائیشیا کے لیڈرز سے ملاقات کے بارے میں بھی بنیاد اور خود ساختہ کہانی گھڑی گئیں۔

اس ضمن میں مزید کہا گیا کہ ایسے مضمون کی اشاعت وزیراعظم کی نیویارک میں عالمی لیڈرز سے انتہائی کامیاب ملاقاتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش ہے۔

حکومت کے ترجمان نے ہفت روزہ میگزین کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر اور تسلط کی ٹھیک تصویر پیش کی تاہم میگزین کی جانب سے وزیراعظم کی جدوجہد کو نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی۔

مزیدپ ڑھیں: ایل او سی پار کرنے والے بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلیں گے، وزیراعظم

حکومتی ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اسلاموفوفیا کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔

حکومت کی جانب سے میگزین کے مضون کی اشاعت پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے دو برادر ممالک کے مابین کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر سمیت موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج)، اسلاموفوبیا اور کرپشن سے متعلق پرجوش اور واضح موقف پر ناقدین نے خراج تحسین پیش کیا تھا۔

عمران خان کی 45 منٹ سے زائد پر مشتمل تقریر میں مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ واضح اور دوٹوک بیان کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: پہلے مجھے اقوام متحدہ جانے دیں،پھر بتاؤں گا لائن آف کنٹرول کب جانا ہے، وزیراعظم

انہوں نے عالمی برادری کو باور کرایا کہ اگر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط اور آرٹیکل 370 کے اقدام کو نظر انداز کیا تو خون کی ہولی کا امکان رہے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے بین السطور گفتگو کرنے کے بجائے واضح کہا تھا کہ ’ایک مرتبہ کرفیو اٹھایا جائے، کشمیری اپنے حق کے لیے سڑکوں پر ہوں گے اور تب 9 لاکھ بھارتی فوجی کیا کریں گے؟ وہ کشمیریوں پر گولیاں برسائیں گے‘۔