پاکستان سے معاہدوں میں غبن پر 3 سابق فرانسیسی عہدیداروں کے خلاف مقدمہ شروع

اپ ڈیٹ 08 اکتوبر 2019

ای میل

2002 میں کراچی میں ہونے والے دھماکے کے متاثرے کے اہل خانہ عدالت میں پیش ہوئے—فائل فوٹو: اے ایف پی
2002 میں کراچی میں ہونے والے دھماکے کے متاثرے کے اہل خانہ عدالت میں پیش ہوئے—فائل فوٹو: اے ایف پی

پیرس: پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ 1990 کی دہائی میں ہتھیاروں کے معاہدوں پر کک بیکس کا نظام مرتب کرنے کے الزام میں سابق فرانسیسی حکومت کے 3 بڑے ساتھیوں کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ میں فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ ٹرائل اس نام نہاد کراچی کے معاملے پر ہونے والی وسیع تحقیقات کے بعد پہلی دفعہ ہے، جہاں فرانسیسی دفاعی انجینئرز کو لے جانے والی بس کو 2002 میں دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا اور 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ابتدائی طور پر حملے کا شبہ القاعدہ پر تھا لیکن بعد ازاں اس کی توجہ ہتھیاروں کے معاہدے کی طرف مبذول ہوگئی تھی اور یہ شک و شبہات تھے کہ یہ دھماکا وعدہ کی گئی رشوت کی عدم ادائیگی کا بدلہ ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو آبدوزوں کی فروخت میں رشوت لینے پر سابق فرانسیسی وزیراعظم پر مقدمہ

اس معاملے پر پیرس کی فوجداری عدالت میں اسلحہ معاہدوں سے حاصل رقم میں کچھ حصے کا غلط استعمال کرنے کے شبہ پر کُل 6 افردا کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی۔

ان ملزمان میں سابق حکومت کے 3 ساتھی بھی موجود ہیں، جنہوں نے قدامت پسند سابق وزیراعظم ایڈورڈ بیلاڈور کے دور میں خدمات انجام دیں۔

واضح رہے کہ 90 سالہ ایڈورڈ بیلاڈور کے خلاف گزشتہ ہفتے ان دعووں پر مقدمہ چلانے کا حکم دیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی 1995 کی ناکام صدارتی بولی میں رقم کے استعمال کے لیے کچھ کک بیکس کا استعمال کیا۔

سابق وزیراعظم ایڈورڈ بیلاڈور کے سابق مہماتی منیجر نکولس بیزائر، ان کے دور کے وزیردفاع فرینکوئس لیوٹرڈ کے سابق مشیر رینوڈ ڈونیدیو اور اس وقت کے وزیر بجٹ نکولس سرکوزی کے سابق ساتھی تھیرے گوبرٹ وہ 3 ساتھی ہیں جو اس مقدمے کا سامنا کر رہے۔

اس کے علاوہ انٹرنیشل ڈویژن آف فرینچ نیول ڈیفنس کنٹریکٹر ڈی سی این (جو اب نیول گروپ کے نام سے ہے) کے سابق سربراہ ڈومینک کاسٹیلن، 2 لبنانی مڈل مین زید ٹیکیڈائن اور عبدالرحمٰن الاسیر شامل ہیں، جنہوں نے مبینہ طور پر رشوت اور کک بیکس کے لیے بیچ کا کام کیا۔

تاہم عبدالرحمٰن الاسیر مقدمے کی سماعت کے آغاز پر موجود نہیں تھے۔

واضح رہے سابق فرانسیسی صدر جیک چراک نے اسلحوں پر رشوت کو ختم کردیا تھا جبکہ ایڈورڈ بیلاڈور کی حکومت نے جب 1994 میں پاکستان کو آبدوز اور سعودی عرب کو فریگیٹس فروخت کرنے کا معاہدہ حاصل کیا تھا تب ہتھیاروں کی فروخت پر رشوت دینا معمول تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سابق فرانسیسی وزیراعظم کو 'کراچی معاملے' میں تحقیقات کا سامنا

تاہم بعد ازاں معاہدوں پر کیک بیکس کا حصول ممنوع کردیا گیا تھا۔

دوسری جانب تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ فرانسیسیوں نے معاہدوں پر رشوت میں 32 کروڑ 70 لاکھ یورو (35 کروڑ 90 لاکھ ڈالر) ادا کیے گئے، جس میں کچھ ایک کروڑ 30 لاکھ یورو کے کک بیکس بھی شامل ہیں۔

بعد ازاں 1995 میں ایڈورڈ بیلاڈور کی صدارتی دوڑ میں شکست کے بعد جیک چراک نے معاہدوں پر باقی تمام کمیشن کی ادائیگیوں کو ختم کردیا تھا۔