امریکا کا سعودی عرب میں مزید 3 ہزار فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ

12 اکتوبر 2019

ای میل

امریکا کے سیکریٹری دفاع مارک ایسپر جنرل مارک ملی کے ہمراہ پینٹاگون میں میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں — فوٹو: رائٹرز
امریکا کے سیکریٹری دفاع مارک ایسپر جنرل مارک ملی کے ہمراہ پینٹاگون میں میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں — فوٹو: رائٹرز

پینٹاگون نے سعودی عرب کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اضافی 3 ہزار فوجیوں اور فوجی ساز و سامان سعودی عرب میں تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ امریکا کے سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے 2 پیٹریوٹ میزائل بیٹریز، ایک تھاڈ بیلسٹک میزائل انٹرسیپشن سسٹم، 2 فائٹر اسکواڈرنز اور ایک فضائی ونگ کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کی دو بڑی آئل فیلڈز پر حوثی باغیوں کے ڈرون حملے

بیان میں کہا گیا کہ سیکریٹری مارک ایسپر نے سعودی عرب کے دفاع کو مظبوط بنانے کے لیے اضافی فوج کی تعیناتی کے حوالے سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو آگاہ کردیا ہے۔

کہا گیا کہ 'امریکا نے رواں ماہ سعودی عرب میں 3 ہزار اضافی فوج کی تعیناتی کی منظوری دی ہے'۔

بعد ازاں انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 'یہ تعیناتیاں خطے میں موجود خطرات اور محمد بن سلمان سے ایرانی جارحیت کی کوششوں سے تحفظ کے حوالے سے بات چیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد نے اضافی تعاون کی درخواست کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: تیل کی تنصیبات پر حملے یمن سے نہیں ایران سے ہوئے، سعودی عرب

امریکا کے محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ 'مشرق وسطیٰ میں سینٹرل کمانڈ میں رواں سال مئی کے مہینے سے اب تک 14 ہزار اضافی فوج تعینات کی جاچکی ہیں'۔

ستمبر کے مہینے میں امریکا نے سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد سعودی عرب میں پیٹریوٹ میزائلز اور 200 فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔

آرامکو آئل فیلڈ حملہ

خیال رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ڈرون حملے کیے گئے تھے۔

سعودی حکام کے مطابق ڈرون حملوں سے تیل کی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس پر قابو پالیا گیا تھا۔

سعودی پریس ایجنسی نے سعودی وزارت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ابقیق اور خریص میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی تھی جبکہ اس کے عسکری ترجمان نے کہا تھا کہ سعودی حکومت کو مستقبل میں بھی ایسے مزید حملوں کی توقع رکھنی چاہیے۔

تاہم امریکا نے الزام عائد کیا تھا کہ ڈرون حملوں میں ایران براہ راست ملوث ہے۔

بعد ازاں سعودی عرب کی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ڈرون اور میزائل کی باقیات پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’یہ ایرانی جارحیت کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں‘۔