ماضی کے مقابلے میں قیادت کے لیے زیادہ بہتر طریقے سے تیار ہوں، اظہر

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2019

ای میل

قومی ٹیم ٹیسٹ ٹیم کے نئے کپتان اظہر علی پریس کانفرنس کے دوران خوشگوار موڈ میں نظر آ رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
قومی ٹیم ٹیسٹ ٹیم کے نئے کپتان اظہر علی پریس کانفرنس کے دوران خوشگوار موڈ میں نظر آ رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

ٹیسٹ ٹیم کے نئے کپتان اظہر علی نے پاکستان ٹیم کی قیادت کو اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ماضی کے مقابلے میں قیادت کے لیے زیادہ بہتر طریقے سے تیار ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے خراب فارم کے شکار سرفراز احمد کی جگہ اظہر علی کو ٹیسٹ اور بابر اعظم کو ٹی20 ٹیم کا نیا کپتان مقرر کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: سرفراز کو قیادت سے ہٹانے کے بعد ایک غلطی پی سی بی کو مہنگی پڑ گئی

جمعے کو کپتان بنائے جانے کے بعد لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اظہر علی نے کہا کہ قومی ٹیم کی قیادت کرنا اعزاز کی بات ہے اور بورڈ نے مجھے طویل عرصے تک قیادت کے منصب پر برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں مصباح الحق کے ساتھ 7سے 8 سال کرکٹ کھیلا ہوں، ان سے اچھی ہم آہنگی ہے اور ہیڈ کوچ کے ہی چیف سلیکٹر ہونے سے آسانی ہو گی۔

اظہر نے اپنے حوالے سے دفاعی کپتان ہونے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ہمارے بارے میں بہت سے بیانات دیتے ہیں لیکن ہم اپنی ٹیم کی مناسبت سے قیادت کرتے ہیں، باہر سے بیٹھ کر کسی کو دفاع یا اٹیکنگ کہنا آسان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ماضی کے مقابلے میں قیادت کے لیے زیادہ بہتر طریقے سے تیار ہوں، 2015 میں ڈیڑھ سال قیادت کی تھی لیکن اس مرتبہ میں آپ کو مختلف نظر آؤں گا کیونکہ وقت ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سرفراز احمد کو ٹیسٹ اور ٹی20 کی کپتانی سے ہٹا دیا گیا

کسی بھی ٹیم اور کپتان کے لیے جیت بہت اہم ہوتی ہے لیکن میری کوشش ہو گی کہ اپنی قیادت کے دوران ایسے کھلاڑی سامنے لاؤں جو طویل عرصے تک پاکستان کے لیے کھیل سکیں۔

اس موقع پر انہوں نے کسی کھلاڑی کا نام لیے بغیر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کھیل کا سب سے خوبصورت فارمیٹ ہے جو کسی کو بھی ایک بہتر کھلاڑی بناتا ہے لہٰذا کرکٹر ٹیسٹ اور ریڈ بال کرکٹ پر توجہ دیں کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو مختصر فارمیٹ میں ان کی کرکٹ خودبخود بہتر ہوتی چلی جائے گی۔

ٹیسٹ ٹیم کے کپتان نے کھیل کے طویل ترین فارمیٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے محمد عامر اور وہاب ریاض کی غیر موجودگی میں نوجوان ٹیلنٹ کو بھرپور سپورٹ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا کہ نئے کھلاڑی بغیر کسی خوف کے کھیلتے ہیں اور بہتر نتائج کی توقع ہوتی ہے جس کی سب سے بڑی مثال لیڈز میں آسٹریلیا کے خلاف فتح ہے کیونکہ اس ٹیسٹ میچ میں جب ہم آسٹریلیا کیخلاف جیتے تو رکی پونٹنگ کے کُل میچز پوری پاکستان ٹیم سے زیادہ تھے۔

مزید پڑھیں: کیٹ مڈلٹن کے پاکستانی لباس کے ساتھ چھکے چوکے

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کی ٹیم یقیناً بہت اچھی اور تجربہ کار ہے اور تجربہ ضرور معنی رکھتا ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ ہم وہاں مقابلہ نہیں کر سیں گے بلکہ میچ کے دن ہمیں اچھی کارکردگی دکھانا ہوتی ہے۔

اظہر علی نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ اچھی سے اچھی کرکٹ کھیلیں لیکن اگر ٹیم ہاری تو میں اس شکست کی ذمے داری قبول کروں گا۔

رینکنگ کے حوالے سے سوال پر اظہر نے کہا کہ جب تک ہم ایشین کنڈیشنز سے باہر جیتنا شروع نہیں کریں گے اس وقت تک رینکنگ میں اوپر نہیں آ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ سابق کپتان سرفراز احمد کی پاکستان ٹیم کے لیے بہترین خدمات ہیں اور اور میری تمام سپورٹ ان کے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے سرفراز کی قابلیت پر کوئی شبہ نہیں کیونکہ جب ہم عالمی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم بنے تو اس میں سرفراز کا بہت اہم کردار تھا اور وہ میری اولین ترجیح ہو گی لیکن بعض اوقات کھلاڑیوں کو خراب فارم کی بحالی کے لیے کچھ دیر کرکٹ سے وقفہ درکار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بیٹے کی پیدائش کے بعد ثانیہ مرزا نے وزن کم کیسے کیا؟

یاد رہے کہ اظہر علی اس سے قبل بھی 30 ون ڈے اور ایک ٹیسٹ میچ میں قومی ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں لیکن بطور کپتان ان کا دور زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا تھا۔

پاکستان کو اظہر کی قیادت میں کھیلے گئے واحد ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف شکست ہوئی تھی جبکہ 30 میں سے 18 ون ڈے میچوں میں قومی ٹیم کو شکست اور 12 میں فتح نصیب ہوئی تھی۔

اظہر علی کو 2017 میں قیادت سے ہٹا کر سرفراز احمد کو تینوں فارمیٹس میں یہ ذمے داری سونپ دی گئی تھی جبکہ گزشتہ سال اظہر علی نے ون ڈے کرکٹ سے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔