دہشتگردی کی مالی معاونت کے 700 سے زائد مقدمات فیصلے کے قریب ہیں، حماد اظہر

اپ ڈیٹ 24 اکتوبر 2019

ای میل

ہماری پہلی ترجیح آئی سی آر جی ایکشن پلان ہے، حماد اظہر — فوٹو: پی آئی ڈی
ہماری پہلی ترجیح آئی سی آر جی ایکشن پلان ہے، حماد اظہر — فوٹو: پی آئی ڈی

وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کا کہنا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق زیر تفتیش 700 سے زائد مقدمات فیصلے کے قریب ہیں۔

اسلام آباد میں فنانشنل مینجمنٹ یونٹ کے ڈائریکٹر منصور صدیقی، کاؤنٹر ٹیررازم شعبہ کے ڈائریکٹر احمد فاروق اور نیکٹا کے ڈائریکٹر شہزاد سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران حماد اظہر نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جون 2020 تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی 'گرے لسٹ' سے نکل جائے گا۔

حماد اظہر نے کہا کہ ’ ہم نے دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے یہ مقدمات گزشتہ 6 ماہ میں شروع کیے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے ایف اے ٹی ایف کا مطالبہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمات کی تفتیش کرنا اور معلومات جمع کرنا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ پروسیکیوشن اور سزا دینا عدلیہ کا کام ہے‘۔

حماد اظہر نے کہا کہ وہ اس حوالے سے بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے، یہ معاملہ اب عدلیہ کے ہاتھ میں ہے۔

تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت مستقبل میں اپنی پروسیکیوشن کو بہتر بنائے گی۔

حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان کو فروری 2018 میں گرے لسٹ میں شامل کیا گیا، جون 2018 میں ایکشن پلان دیا گیا، پاکستان اس وقت 'ایف اے ٹی ایف' کی نگرانی کے دو مراحل سے گزر رہا ہے، ایک ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) ہے جبکہ دوسرا انٹرنیشنل کوآپریشن ریویو گروپ (آئی سی آر جی) ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک لابی یہ چاہتی تھی کہ پاکستان کے حوالے سے دونوں نگران گروپوں کو یکجا کیا جائے، تاہم ہم نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو اکتوبر 2020 تک کا وقت ملا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 'آئی سی آر جی' کے ایکشن پلان میں پاکستان کو 27 ایکشن آئٹم دیئے گئے تھے، اس کی نگرانی کا وقت 15 ماہ ہے، ہماری حکومت نے ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد کے حوالے سے موثر انداز میں کام کیا، ستمبر 2019 تک پاکستان نے 27 ایکشن آئٹم میں سے 22 پر نمایاں پیشرفت کی ہے جس کا ستمبر کی رپورٹ میں اعتراف بھی کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاکستان فروری تک ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر عملدرآمد کرلے گا‘

ان کا کہنا تھا کہ 'ایف اے ٹی ایف' کے پلانری اجلاس میں بھی اچھی پیشرفت ہوئی ہے، کئی ممالک نے پاکستان کی حمایت کی اور پاکستان کی جانب سے گزشتہ 10 ماہ میں اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہا، لیکن چونکہ ایف اے ٹی ایف کی کارروائی مخفی رکھی جاتی ہے اس لیے ہم وہ تفصیلات نہیں دے سکتے۔

حماد اظہر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ 2020 تک آئی سی آر جی کے ایکشن پلان سے متعلق نکات کو مکمل کیا جائے گا اور ہمیں یہ بھی توقع ہے کہ جون 2020 تک پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایشیا پیسفک گروپ کی نگرانی کا عرصہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، اس میں پاکستان کے لیے 40 نکات دیے گئے تھے جس میں 10 مکمل اور 26 جزوی طور پر مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 4 نامکمل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی ترجیح آئی سی آر جی ایکشن پلان ہے اور اس پر موثر انداز میں کام ہو رہا ہے، یہ ایک چیلنجنگ عمل ہے جس میں ہمیں کامیابی ملے گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان فروری 2020 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رہے گا

ایک سوال پر حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان کو جو ایکشن پلان دیا گیا ہے وہ قابل حصول ہے اور اس پر عملدرآمد پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے، جنوری کے پہلے ہفتے میں ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ آجائے گی جبکہ ہم اپنے اقدامات جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے حوالے سے صوبوں سے قابل اطمینان ردعمل ملا ہے، ایف اے ٹی ایف سیکریٹریٹ بنانے کا مقصد بھی رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے۔

ایف اے ٹی ایف میں بھارت کے کردار سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے حوالے سے ہم نے رکن ممالک کو آگاہ کر دیا تھا، بھارت کو اس طرح کے تکنیکی فورمز پر ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کالعدم تنظیموں سے متعلق بات کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ ان سے ملکی قوانین کے مطابق نمٹا جائے گا لیکن اس مقصد کے لیے ٹھوس تحقیقات اور پروسیکیوشن کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم قوانین پر عمل کو بہتر بنانے کے لیے انٹر-ایجنسی تعاون مزید بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اب تک 64 ہزار سے زائد غیر منافع بخش تنظیموں کا ریکارڈ جمع کیا جاچکا ہے۔

حماد اظہر نے کہا کہ اس حوالے سے تحقیقات مشتبہ ٹرانزیکشنز کی بنیاد پر کی گئیں جو فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) نے مختلف بینکوں سے حاصل کیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ 60 فیصد سے زائد مشتبہ ٹرانزیکشنز کو انٹیلی جنس رپورٹس میں تبدیل کیا گیا، یہ رپورٹس دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف تحقیقات کا بنیادی ذریعہ ثابت بنیں‘۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ رپورٹس بتدریج سزا میں بدل گئیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے سزاؤں کے اعداد و شمار نہیں بتائے۔