نواز شریف کا ڈسچارج کے باوجود سروسز ہسپتال میں رہنے کا فیصلہ

ای میل

سابق وزیراعظم کو چہل قدمی کی اجازت دے دی گئی
—فائل فوٹو: اے ایف پی
سابق وزیراعظم کو چہل قدمی کی اجازت دے دی گئی —فائل فوٹو: اے ایف پی

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے لاہور کے سروسز ہسپتال سے ڈسچارج کے باوجود ہسپتال میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سروسز ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ نواز شریف کو ان کی رضامندی سے ڈسچارج کیا گیا اور انہیں شریف میڈیکل سٹی منتقل کیا جانا تھا۔

نواز شریف کی منتقلی کے لیے مریم نواز کی روبکار کا انتظار کیا جارہا تھا تاہم (ن) لیگ کی نائب صدر کے وکلا کی جانب سے لاہور کی احتساب عدالت میں جمع کرائی جانے والی دستاویزات کی تیاری میں تاخیر پر ان کی رہائی کی روبکار جاری نہ ہو سکی۔

مریم نواز کی طرف سے لیگی رہنما فیصل ایوب اور سیف کھوکھر نے 2 کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرانے تھے تاہم ان کے وکیل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں زر ضمانت جمع کروانے میں وقت لگا جس کے باعث مریم نواز کے مچلکے اب بدھ کو جمع کرائے جانے کا امکان ہے۔

مریم نواز کی رہائی کی روبکار جاری نہ ہونے پر نواز شریف نے ڈسچارج کے باوجود سروسز ہسپتال میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا جبکہ مریم نواز بھی ہسپتال میں ہی رہیں گی۔

نواز شریف کے اس فیصلے کے بعد ان سے ملنے کے لیے آنے والے ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف سروسز ہسپتال سے روانہ ہوگئے جبکہ شریف میڈیکل سٹی کی ایمبولینس کو بھی واپس بھیج دیا گیا۔

نواز شریف کا اب کل سروسز ہسپتال سے روانگی کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ 21 اکتوبر مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو اچانک طبیعت میں ناسازی کے باعث لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نے سروسز ہسپتال سے شریف میڈیکل سٹی منتقل ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) صدر شہباز شریف اپنے بڑے بھائی نواز شریف کی عیادت کے لیے سروسز ہسپتال پہنچے تھے۔

یہی نہیں بلکہ سروسز ہسپتال کے پارکنگ ایریا میں شریف میڈیکل سٹی کی ایمبولینس بھی پہنچ گئی تھی، اس کے ساتھ ساتھ شریف میڈیکل سٹی کی ایمبولینس میں ڈاکٹرز اور نرسز کا اسٹاف بھی موجود تھا۔

نواز شریف کے چند ٹیسٹ پاکستان میں ممکن نہیں، میڈیکل بورڈ

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی صحت سے متعلق قائم کیے گئے میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا تھا کہ سابق وزیراعظم کے جینٹیک (جینیاتی) ٹیسٹ ضروری ہیں جبکہ چند ٹیسٹ پاکستان میں ممکن نہیں ہیں۔

ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ نواز شریف کی طبیعت میں بہتری ہے تاہم پلیٹلیٹس میں بار بار کمی کے دیگر اسباب جاننے کے لیے جینٹیک ٹیسٹ ضروری ہیں، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھہ کہا کہ نواز شریف بیرون ملک سفر کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی صحت پہلے سے بہتر قرار دے دی

ایک ویڈیو پیغام میں میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے چند ٹیسٹ ملک میں ممکن نہیں ہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کو چہل قدمی کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ اب نواز شریف کو پرہیزی کے بجائے سادہ غذا کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز کی سی بی سی رپورٹ کے مطابق پلیٹلیٹس کی تعداد 30 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

علاوہ ازیں سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت کے پیش نظر 12 رکنی میڈیکل بورڈ کا اجلاس ہوا، جس کے اختتام پر ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ نواز شریف کا شوگر لیول 15 روز بعد بھی کنٹرول نہیں ہوسکا۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کا روزانہ دن میں 5 سے 6 مرتبہ شوگر لیول چیک کیا جاتا ہے اور حالیہ رپورٹ میں ان کا بلڈ پریشر اور کولیسٹرول لیول بھی معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی طبیعت ناساز، نیب دفتر سے سروسز ہسپتال منتقل

ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ شوگر لیول دن میں 150 اور 190 تک پہنچتا ہے جبکہ ان کی صحت کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر خدیجہ سابق وزیراعظم کا ڈائیٹ پلان مرتب کرتی ہیں۔

میڈیکل بورڈ کے سربراہ نے بتایا کہ نوازشرہف کے دل کی تکلیف اب بہتر ہے، ان کی ادویات میں روزانہ ردوبدل کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کی طبیعت ناساز، نیب دفتر سے سروسز ہسپتال منتقل

ڈاکٹر محمود ایاز کے مطابق اسٹیرائیڈز کے باعث شوگر لیول کنٹرول نہیں رہتا کیونکہ گردوں کا نظام بہتر رکھنے کے لیے اسٹیرائیڈز دینا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹیرائیڈز کی مقدار انتہائی کم دی جارہی ہے۔

خون پتلا کرنے والی ادویات دینا غیر محفوظ ہے، ڈاکٹر عدنان

ادھر نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے پلیٹلیٹس کی تعداد (گزشتہ روز30 ہزار کی) قابل قبول حد سے نیچے گرگئی، جس کے بعد ان کو ڈی اے پی ٹی (خون پتلا کرنے والی ادویات) دینا محفوظ نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’اچانک بلیڈنگ (خون بہنے) کا خطرہ موجود ہے‘۔

ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ نوازشریف کی نازک اور غیرمستحکم صحت کے پیش نظر بھرپورعلاج کے انتظامات ضروری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کے پلیٹلیٹس ایک مرتبہ پھر کم ہورہے ہیں جبکہ اس کی وجوہات اور تشخیص اب تک نہیں ہوسکی اس لیے بلا تاخیر تفصیلی طبی تحقیق درکار ہے تاکہ پلیٹلیٹس میں کمی کے محرکات کا پتہ چلایا جاسکے۔

بیرون ملک علاج سے متعلق قیاس آرائیاں

قبل ازیں ماہرین پر مشتمل ٹیم اب تک کوششوں میں مصروف ہے کہ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پلیٹلیٹس میں اچانک کمی کی وجہ جان سکیں۔

تاہم ساتھ ہی یہ قیاس آرائیاں جارہی کہ نواز شریف کو علاج کے لیے بیرونِ ملک لے جایا جاسکتا ہے جہاں ان کا مزید بہتر علاج ہوسکے۔

دوسری جانب لیگی رہنماؤں نے یہ کہتے ہوئے اس امکان کو مسترد کردیا تھا کہ ان کی صحت کی صورتحال بہتر ہونے سے پہلے یہ ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لیں گے، چیف جسٹس

26 اکتوبر کو وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا تھا کہ سابق وزاعظم نواز شریف کو انجائنا کی تکلیف ہوئی اور معمولی ہارٹ اٹیک آیا لیکن بروقت طبی سہولت کی وجہ سے دل کا کوئی حصہ متاثرہ نہیں ہوا۔

یہ بات بھی مدنظر رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو انہیں علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی تھی۔

وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو خصوصی طور پر ہدایات جاری کی تھیں کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔