اشرف غنی کا امن منصوبہ 'خواہشات کی فہرست' ہے، افغان چیف ایگزیکٹو

اپ ڈیٹ 06 نومبر 2019

ای میل

انہوں نے کہا کہ مذکورہ تجویز کو بشمول عوام کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں لے رہا —فائل فوٹو: اے ایف پی
انہوں نے کہا کہ مذکورہ تجویز کو بشمول عوام کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں لے رہا —فائل فوٹو: اے ایف پی

افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے افغان صدر اشرف غنی کے 7 نکاتی امن منصوبے کو ’غیر حقیقی اور خواہشات کی فہرست‘ قرار دے دیا۔

افغان نیوز ایجنسی طلوع میں شائع رپورٹ کے مطابق خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ اشرف غنی کی ٹیم نے گزشتہ ماہ 7 نکاتی تجویز پیش کی تھی جس میں ملک میں جنگ کے خاتمے کا ذکر کیا گیا۔

مزیدپڑھیں: وزیراعظم کی زلمے خلیل زاد سے ملاقات، افغان مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال

انہوں نے کہا کہ ’سچ پوچھیں تو کسی نے بھی اس نام نہاد 7 نکاتی منصوبے کو بطور منصوبہ نہیں لیا بلکہ تجویز محض خواہشات کی فہرست تھی‘۔

اے ایف پی کے مطابق اشرف غنی کی مذکورہ تجویز پر غیر حقیقت پسندانہ طبقے نے کڑی تنقید کی، جس میں طالبان سے مذاکرات سے قبل ایک ماہ کے لیے جنگ بندی معاہدہ بھی شامل تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’مذکورہ تجویز کو بشمول عوام کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں لے رہا‘۔

واضح رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات رواں برس ستمبر میں منسوخ کردیے تھے۔

مزید پڑھیں: طالبان سے مذاکرات کی بحالی کیلئے امریکی سیکریٹری دفاع افغانستان پہنچ گئے

عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ’آئندہ ہونے والے کسی بھی مذاکرات کے لیے یہ لازمی ہے کہ فریقین افغان حکومت کے وفد کو شامل کریں، خواہ وہ ان کی سربراہی میں ہوں یا اشرف غنی کی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کو افغان امن عمل کا ایک حصہ بننا ہوگا۔

اس ضمن میں اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی نے عبداللہ عبداللہ کے موقف پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اشرف غنی کے 7 نکاتی منصوبے پائیدار امن کا ضامن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’مذکورہ تجویز میں قومی اتفاق رائے شامل ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر، افغان مذاکرات پر اثر انداز ہوسکتا ہے، رپورٹ

صدیق صدیقی نے بتایا کہ اشرف غنی کا منصوبہ موزوں نتائج کو یقینی بناتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اشرف غنی نے ماضی کی کوششوں کو فروغ دیا اور استحکام کی طرف اقدام اٹھایا جس کا مقصد خونریزی کو جلد سے جلد ختم کیا جانا ہے‘۔

افغان امن عمل منسوخ ہونے کے بعد اب تک کیا ہوا؟

یاد رہے کہ 8 ستمبر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کر کے سب کو حیران کردیا تھا کہ انہوں نے سینئر طالبان قیادت اور افغان صدر اشرف غنی کو کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کی دعوت دی تھی، تاہم آخری لمحات میں انہوں نے طالبان کے ایک حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت پر یہ مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔

اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کا سلسلہ معطل کردیا تاہم اب امریکا کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ ’غیر معمولی نقصان‘ کا سامنا ہوگا لیکن پھر بھی مستقبل میں مذاکرات کے لیے دروازے کھلے رہیں گے۔

امریکا کے ساتھ مذاکرات منسوخ ہونے کے بعد طالبان وفد 14 ستمبر کو روس بھی گیا تھا، جس کے بارے میں طالبان رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ دورے کا مقصد امریکا کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش نہیں بلکہ امریکا کو افغانستان سے انخلا پر مجبور کرنے کے لیے علاقائی حمایت کا جائزہ لینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان امن مذاکرات معطل: طالبان کی امریکا کو سخت نتائج کی دھمکی

بعد ازاں طالبان وفد نے 29 ستمبر کو بیجنگ کا دورہ کیا تھا اور چینی نمائندہ خصوصی ڈینگ ژی جون سے ملاقات کی تھی۔

ان مذاکرات کی معطلی سے قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری مذاکراتی عمل کے حوالے سے امریکی اور طالبان نمائندوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے ایک طریقہ کار پر اتفاق کیا جسے جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔

لہٰذا اگر یہ معاہدہ ہوجاتا تو ممکنہ طور پر امریکا، افغانستان سے اپنے فوجیوں کو بتدریج واپس بلانے کا لائحہ عمل طے کرتا جبکہ طالبان کی جانب سے یہ ضمانت شامل ہوتی کہ افغانستان مستقبل میں کسی دوسرے عسکریت پسند گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں ہوگا۔