ناموس رسالت کے حساس معاملے پر سیاست نہ کی جائے، وزیر مذہبی امور

اپ ڈیٹ 06 نومبر 2019

ای میل

نور الحق قادری کے مطابق ریاست مدینہ عمران خان کی روح اور فکر پر سوار ہے — فوٹو: ڈان نیوز
نور الحق قادری کے مطابق ریاست مدینہ عمران خان کی روح اور فکر پر سوار ہے — فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناموس رسالت کے حساس معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے بنیاد پروپیگنڈے پر عوام کو اسلام آباد میں جمع کیا گیا لیکن میری دھرنا عمائدین سے درخواست ہے کہ وہ ماحول کو خراب نہ کریں۔

نور الحق قادری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) سے درخواست کی کہ پاکستان کا اسلامی و دینی ماحول ہے اور ناموس رسالت ﷺ کے نام پر یہ غلامان رسالت ﷺ کا ملک ہے اور ناموس رسالت ﷺ پر لوگ کٹ مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں، لہٰذا اس معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اس پر سیاست نہ کی جائے اور اس مذہبی کارڈ کو استعمال نہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں: ناموس رسالت سے متعلق سائبر الیکٹرانک کرائم ایکٹ میں ترمیم کے بل کی مخالفت

نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمٰن کو ایسی کوئی اطلاعات ہیں تو میں بطور وزیر مذہبی امور، کابینہ رکن کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ یہ سب غلط معلومات ہیں جبکہ اگر یہ صرف مولانا کا وہم ہے تو پھر وہم کا کوئی علاج نہیں ہے۔

دوران گفتگو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان جو بار بار ریاست مدینہ کا ذکر کرتے ہیں، ریاست مدینہ عمران خان کی روح اور فکر پر سوار ہے اور ان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ختم نبوت یا ناموس رسالت پر کوئی سمجھوتہ کریں گے یا مجھ جیسے لوگ جو ان کے ساتھ بیٹھے ہیں وہ اس پر خاموش رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 'اس معاملے پر اگر کوئی افواہ پھیلائی جارہی ہے تو اس میں کوئی حقیقت نہیں، عمران خان نے جس طریقے سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ناموس رسالت کا معاملہ اٹھایا اور اسلاموفوبیا کے اس عنصر کو جو مغربی معاشرے میں موجود ہے، اسے اجاگر کیا اس کو سراہنے کے بجائے ان پر قادیانیت کا الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ قادیانیت کو فروغ دے رہے ہیں یا اسرائیل کو تسلیم کیا جارہا ہے'۔

وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ 'یہاں تک کہا گیا کہ ہم نہ آتے تو اسلام آباد میں اسرائیل کے جھنڈے لہرائے جاتے، اسی بنیاد پر لوگوں کو کہا گیا کہ آؤ نکلو اسلام آباد کو اسرائیل سے بچانا ہے'۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 'عمران خان نے امریکا میں یہ کہا کہ اسرائیل، فلسطینوں پر ظلم، جبر اور ستم ڈھانے والی ایک قابض اور غاصب ریاست ہے، اسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے'۔

عمران خان کی جانب سے ریاست مدینہ کی بات کرنے سے متعلق وزیر مذہبی امور نے کہا کہ ریاست مدینہ کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، جب عمران خان ریاست مدینہ کا ذکر کرتے ہیں تو اس کا مطلب قرآن و سنت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کسی حکمران نے اس طرح ریاست مدینہ کا ذکر نہیں کیا جیسے عمران خان کرتے ہیں، وہ شاید حکومت میں آنے سے پہلے اس کا اتنا ذکر نہیں کرتے تھے اگر ان کا مقصد صرف ووٹ لینا ہوتا تو وہ اس کا انتخابات میں ذکر کرتے لیکن ایسا نہیں کیا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک روایتی دینی جماعت نہیں ہے لیکن یہ بھی وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ تحریک انصاف دین دشمن یا دین بیزار جماعت بھی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'ہمیں اشتعال دلایا تو 24 گھنٹے میں شکست ہوجائے گی'

پریس کانفرنس میں وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت اور عمران خان پاکستان کو اس کی اصل روحانی اور دینی اساس کی طرف لوٹانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان متعدد بار یہ اظہار کرتے ہیں کہ جب تک ہم سنت رسول ﷺ اور ریاست مدینہ سے دور رہیں گے ہم کبھی کامیابی نہیں پاسکتے، مسلمانوں کے عروج اور ترقی کا راز سنت رسولﷺ کی پیروی اور ریاست مدینہ کی طرف رجوع کرنے میں ہے۔

نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف ناموس رسالت ﷺ اور ختم نبوت کے معاملے پر ہراول دستے کی طرح اس کا دفاع کرے گی۔