'پاکستان دوسرا ٹی20 جیت سکتا تھا لیکن کوشش نہیں کی'

06 نومبر 2019

ای میل

شعیب اختر نے کہا کہ کپتان بابر اعظم کے سوا کوئی بھی بلے باز ذمے داری نہیں لے رہا — فائل فوٹو: اے ایف پی
شعیب اختر نے کہا کہ کپتان بابر اعظم کے سوا کوئی بھی بلے باز ذمے داری نہیں لے رہا — فائل فوٹو: اے ایف پی

قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹی20 میچ میں شکست پر قومی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ بابر اعظم کے سوا کوئی بھی بلے باز ذمے داری لینے کو تیار نہیں اور خراب کھیل کے بعد پاکستان میچ جیتنے کا مستحق نہیں تھا۔

سیریز کا پہلا میچ بارش کی نذر ہونے کے بعد آسٹریلیا نے کینبرا میں کھیلے گئے دوسرے ٹی20 میچ میں شاندار کھییل پیش کرتے ہوئے پاکستان کو 7وکٹوں سے شکست دی تھی۔

مزید پڑھیں: بابر اعظم کو ٹی20 کا نیا عالمی ریکارڈ بنانے کیلئے 65رنز درکار

میچ میں بابر اعظم ایک مرتبہ پھر سب سے نمایاں بلے باز رہے اور لگاتار دوسرے ٹی20 میچ میں نصف سنچری اسکور کی جبکہ اختتامی اوورز میں افتخار احمد نے جارحانہ بیٹنگ کر کے پاکستان کی معقول مجموعے تک رسائی میں اہم کردار ادا کیا لیکن اس کے علاقہ کوئی بھی بلے باز اچھا کھیل پیش نہ کر سکا۔

پاکستانی بلے بازوں کی ناقص کارکردگی کپتان بابر اعظم نے بھی مایوسی کا اظہار کیا تھا جبکہ سابق فاسٹ باؤلرز نے بھی بلے بازوں کی مستقل ناقص کارکردگی ہر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

اپنے یوٹیوب چینل پر میچ کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہا کہ ایک اچھی اور بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹ پر اوپنر فخر زمان اور حارث سہیل اچھا کھیل پیش نہ کر سکے اور خراب شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں ڈبلیو ڈبلیو ای ریسلرز کو 'یرغمال' بنایا گیا، رپورٹ

ان کا کہنا تھا کہ وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے پہلے میچ میں اچھی بیٹنگ کی تھی لیکن دوسرے میچ میں وہ جلد بازی میں نظر آئے اور وکٹ دے بیٹھے۔

انہوں نے کہا کہ بلے بازوں نے ذمے دارانہ کھیل پیش نہیں کیا ورنہ اس وکٹ پر 200 رنز کے قریب اسکور ہو سکتے تھے اور یہ شکست انتہائی مایوس کن ہے۔

اس موقع پر انہوں نے بابر اعظم کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے یہ شکست کپتان بابر اعظم کے لیے زیادہ مایوس کن ہے جنہوں نے اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا لیکن ان کی تمام تر کاوشیں ضائع ہو گئیں۔

راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہور سابق فاسٹ باؤلر نے کہا کہ جس ذمے داری سے اسٹیون اسمتھ نے بیٹنگ کی، ہماری بیٹنگ میں وہ ذمے داری نظر نہیں آئی اور افسوس کی بات ہے کہ ہمارے پاس بابر کے علاوہ کوئی بھی ایسا بلے باز نہیں جو اچھی بیٹنگ کر سکے۔

مزید پڑھیں: فخر اور آصف علی کی مستقل ناکامیاں قومی ٹیم کیلئے درد سر بن گئی

انہوں نے قومی ٹیم کی باؤلنگ پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عرفان مستقل جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کی الٹی ٹانگ کام نہیں کر رہی اور ان کے ٹیم میں انتخاب سے قبل اس بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔

شعیب نے کہا کہ پاکستان یہ میچ جیت سکتا تھا کیونکہ آسٹریلیا اچھا نہیں کھیلا لیکن پاکستان صورتحال کا فائدہ نہ اٹھا سکا اور میچ جیتنے کی کوششش ہی نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلا میچ بارش کی نذر ہونے کے بعد اب پاکستان کے پاس سیریز برابر کرنے کا موقع ہے اور وہ تیسرا میچ جیت کر ایسا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے عمدہ کھیل پر سابق آسٹریلین کپتان اسمتھ کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ اسمتھ کی نہ تکنیک ہے اور نہ ہی اسٹائل لیکن وہ بہت موثر ہیں کیونکہ دلیرانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہیں البتہ اگر وہ میرے وقت میں ہوتے تو تین چار مرتبہ ان کے منہ پر گیند مار کر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش ضرور کرتا۔

یہ بھی پڑھیں: دوسرا ٹی20: آسٹریلیا نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے اور مجھے حیرت نہیں ہو گی اگر آسٹریلیا کی ٹیم تیسرا میچ بھی جیت کر سیریز اپنے نام کر لے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا میچ بارش کی نذر ہونے کے بعد دوسرا میچ جیت کر آسٹریلیا نے سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی ہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا تیسرا ٹی20 میچ جمعہ کو کھیلا جائے گا۔