نمرتا چندانی کو جنسی استحصال کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا، پولیس سرجن

ای میل

حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں  تصدیق نہیں ہوئی کہ نمرتا کی موت خود کشی سے ہوئی—فائل فوٹو: فیس بک
حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تصدیق نہیں ہوئی کہ نمرتا کی موت خود کشی سے ہوئی—فائل فوٹو: فیس بک

لاڑکانہ کے بی بی آصفہ ڈینٹل کالج (بی اے ڈی ایس) میں تھرڈ ایئر کی طالبہ نمرتا چندانی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ان کے ساتھ ’جنسی فعل‘ کی تصدیق ہونے کے علاوہ موت کی وجہ گلا گھٹنا قرار پائی۔

اس بارے میں پولیس سرجن ڈاکٹر قرار احمد عباسی نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق طالبہ کو ’ریپ کے بعد گلا گھونٹ کے قتل کیا گیا‘۔

رپورٹ کے حوالے سے پولیس سرجن کا مزید کہنا تھا کہ ’جائے وقوعہ پر موجود شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ نمرتا کی موت گلا دبانے سے ہوئی یا پھندا لگانے سے‘۔

ٰیہ بھی پڑھیں: ماہرین کا نمرتا چندانی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر شکوک و شبہات کا اظہار

انہوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تحریر کیا گیا ہے کہ نمرتا چندانی کی گردن پر زخم کا ایک نشان تھا جو ’چوڑائی میں کم‘ تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زخم دوپٹے کی وجہ نہیں بلکہ ’رسی نما چیز‘ کی وجہ سے ہوا۔

ڈاکٹر قرار احمد عباسی نے کہا کہ حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ابتدا میں کیے گئے دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی کہ نمرتا کی موت خود کشی سے ہوئی۔

دوسری جانب ڈان کو دستیاب پوسٹ مارٹم کی نقل کے مطابق چاندکا میڈیکل کالج (سی ایم ی) ہسپتال لاڑکانہ کی ڈاکٹر امرتا نے کہا کہ طالبہ کی گردن پر موجود زخم یہ ظاہر کرتا ہےکہ موت کی وجہ ’گلا گھٹنا‘ ہے جو گلا دبانے یا پھندہ لگانے کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’لیاقت یونیورسٹی میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کی فرانزک اور مالیکیولر بائیولوجی لیبارٹری کی فراہم کردی ڈی این اے رپورٹ میں مرد ڈی این اے کی نشاندہی ہوئی۔

مزید پڑھیں: سندھ ہائی کورٹ نے 'نمرتا کی پراسرار موت' کی عدالتی تحقیقات کی اجازت دے دی

رپورٹ کے مطابق نمرتا کے جسم اور کپڑوں سے لیے گئے نمونوں میں پائے گئے مرد کے ڈی این اے کی موجودگی اس کے ساتھ ’جنسی فعل‘ کی نشاندہی کرتی ہے۔

پولیس سرجن کا کہنا تھا کہ مرد ڈی این اے کی موجودگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ نمرتا کا ریپ کیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ بھر کے فرانزک ماہرین پر مشتمل اعلیٰ سطح کا بورڈ قائم کیا جاسکتا ہے جو پوسٹ مارٹم رپورٹ اور جائے وقوع تحقیقات میں موجود کچھ خامیوں کو درست کرسکے۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ

اس سے قبل کراچی میں محکمہ صحت کے میڈیکو لیگل شعبے کے ماہرین اور حکام نے میڈیکل کی طالبہ نمرتا مہر چندانی کے ابتدائی پوسٹ مارٹم پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے معائنے کی تفصیلات اور مستند ہونے پر سوالات اٹھا ئے تھے۔

اس وقت بھی میڈیکو لیگل شعبے سے وابستہ ایک سینئر عہدیدار نے کہا تھا کہ تصویر میں دکھائی دینے والے پھندے کے نشانات دوپٹے کی وجہ سے نہیں بلکہ ’کسی رسی نما چیز کے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: میڈیکل کی طالبہ کی پراسرار موت، سندھ حکومت کی عدالتی تحقیقات کیلئے درخواست

ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے بھی سوالات اٹھتے ہیں کہ ایک 5 فٹ قد کی لڑکی نے کس طرح اپنے آپ کو 15 فٹ اونچائی پر لگے پنکھے سے لٹکا لیا۔

ڈان کو ذرائع سے یہ بات معلوم ہوئی تھی کہ سندھ کے دیگر علاقوں میں باقاعدہ میڈیکو لیگل ڈاکٹرز ہی دستیاب نہیں۔

نمرتا کی پراسرار موت

رواں سال 16 ستمبر کو بی بی آصفہ ڈینٹل کالج (بی ایس ڈی سی) میں بیچلرز ان ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) کی فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا مہر چندانی ہاسٹل کے کمرے میں پراسرار طور پر مردہ پائی گئی تھیں۔

اس موت پر یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ طالبہ نے خودکشی کی تاہم اہل خانہ کی جانب سے خودکشی کی بات کو مسترد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

یونیورسٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو اس واقعے کی اطلاع دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر ملی جس کے بعد وائس چانسلر، رجسٹرار، بی اے ڈی سی اور چاندکا میڈیکل کالج کے پرنسپلز پولیس افسران کے ہمراہ فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ دروازہ ٹوٹا ہوا تھا اور نمرتا چندانی کو این آئی سی وی ڈی کے شعبہ حادثات لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی تھی۔

مزید پڑھیں: سندھ یونیورسٹی: طالبہ کی مبینہ خودکشی پر آئی جی کا نوٹس

اس ضمن میں وائس چانسلر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گردن کے ارد گرد زخموں کے نشان کے سوا جسم پر تشدد کے کوئی نشان نہیں تھا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں خود ڈاکٹر ہوں اور میں نے بھی لاش کا معائنہ کیا ہے جس کے مطابق طالبہ کے گلے پر جس طرح کے نشان پائے گئے ہیں وہ خود کشی کے نہیں، اس کے علاوہ اس کی کلائیوں پر بھی زبردستی پکڑے جانے کے نشانات موجود تھے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ جس لڑکی نے سب سے پہلے نمرتا کی لاش دیکھی اس کے مطابق اس کے گلے میں دوپٹہ تھا جبکہ گلے پر جو نشان ہے وہ تار کا ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ‘نمرتا کی لاش دوپہر 2 بجے ملی لیکن کالج کی انتظامیہ نے خود بتایا کہ ساڑھے 12 بجے وہ مٹھائی بانٹنے آفس میں آئی تھی تو آخر ڈیڑھ گھنٹے میں ایسا کیا ہوا؟’

بعد ازاں اس معاملے پر اہل خانہ کی جانب سے معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کے بعد حکومت سندھ نے معاملے کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کروائی تھی۔

بعدازاں سندھ حکومت نے 18 ستمبر کو باضابطہ طور پر نمرتا چندانی کی پراسرار موت کی تحقیقات کے لیے عدالت سے جوڈیشل انکوائری کی درخواست کردی تھی۔

جس پر 26 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے لاڑکانہ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کےذریعے نمرتا چندانی کی پراسرار موت کی عدالتی تحقیقات کی اجازت دے دی تھی۔