نوازشریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانا چاہیے، مریم نواز

اپ ڈیٹ 08 نومبر 2019

ای میل

میرے لیے یہ بہت مشکل ہوجائے گا کہ نواز شریف علاج کے لیے باہر چلے جائیں اور میں نہ جاسکوں—فوٹو: اسکرین شاٹ
میرے لیے یہ بہت مشکل ہوجائے گا کہ نواز شریف علاج کے لیے باہر چلے جائیں اور میں نہ جاسکوں—فوٹو: اسکرین شاٹ

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف راضی ہوں یا نہ ہوں، جہاں بھی دنیا میں ان کا علاج ہوسکتا ہے، انہیں وہاں جانا چاہیے۔

لاہور میں احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ 'نواز شریف کی صحت کافی تشویش ناک ہے، اسٹریرائڈز اور پاکستان میں دستیاب علاج کروالیا لیکن وہ کام نہیں کررہا اور روزانہ کی بنیاد پر ان کے پلیٹلیٹس کم ہورہے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'ایک روز قبل 28 ہزار پلیٹلیٹس تھے اور گزشتہ روز 22 ہزار ہوگئے، ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ اب 20 ہزار تک آگئے ہیں جو خطرناک حد تک جارہے ہیں، جو بھی دستیاب وسائل و علاج پاکستان میں تھا وہ استعمال کرلیا ہے تاہم اب تک ان کے مرض کی تشخیص نہیں ہوئی جو مسئلہ ہے'۔

مزید پڑھیں: نواز شریف علاج کیلئے بیرون ملک جانے پر رضامند

دھرنے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سیاست پوری زندگی چلتی رہے گی لیکن والدین دوبارہ نہیں ملتے، میں اپنی والدہ کو کھوچکی ہوں لہٰذا میری اس وقت پوری توجہ اپنے والد پر ہے، میں انہیں ملازموں اور نرسوں پر نہیں چھوڑتی، میں چوبیس گھنٹے ان کے پاس ہوتی ہوں، آج بھی بڑی مشکل سے عدالت میں حاضری کے لیے آئی ہوں'۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'ڈیل کی باتیں کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے'۔

ملک سے باہر جانے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 'سرکاری ڈاکٹرز کے بورڈز اور نواز شریف کے پرائیویٹ میڈیکل بورڈ نے بھی یہ تجویز دی ہے کہ جو دستیاب آپشنز تھے وہ استعمال کرلیے ہیں، اب ان کو کسی اسپیشلائزڈ سینٹر میں جانا چاہیے، جہاں اس بات کی تشخیص ہوسکے کہ پلیٹلیٹس کے اچانک گرنے کی وجہ کیا ہے'۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی ہوں کہ 'نواز شریف کی زندگی نہ صرف اہل خانہ، میرے بلکہ پوری قوم کے لیے امانت ہے، اس زندگی کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے اور اگر میاں صاحب کو باہر جانا پڑتا ہے تو انہیں ضرور جانا چاہیے کیونکہ اس وقت ان کی زندگی بہت ضروری ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: 'نواز شریف، قوم کے پلیٹلیٹس پر مہربانی کریں اور لوٹی ہوئی رقم واپس کردیں'

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے درخواست دینے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'اس بارے میں ابھی مجھے کچھ نہیں معلوم، ان معاملات کو شہباز شریف دیکھ رہے ہیں، تاہم میں فوری طور پر سفر نہیں کرسکتی کیوں کہ میرا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے'۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرے لیے یہ بہت مشکل ہوجائے گا کہ نواز شریف علاج کے لیے باہر چلے جائیں اور میں نہ جاسکوں، مجھے ان کی بہت فکر ہوتی ہے لیکن اگر میاں نواز شریف کی زندگی کا مسئلہ ہے اور بہت تشویشناک معاملہ ہے تو انہیں دنیا میں جہاں کہیں بھی علاج ہے اسے حاصل کرنا چاہیے۔

اپنی ضمانت سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سچ غالب آکر رہتا ہے۔