ایک رات کی خراب نیند کا یہ نقصان جانتے ہیں؟

09 نومبر 2019

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

یہ تو سب کو معلوم ہے کہ نیند صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے اور اس کے نتیجے میں دن بھر کی سرگرمیوں کے لیے توانائی بھی حاصل ہوتی ہے، تاہم ایک رات بستر پر کروٹیں بدلنے کا نتیجہ ذہنی پریشانی اور بے چینی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق محض ایک رات کو کم سونا بھی ذہنی بے چینی یا خوف یا اعصابی خلل کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین اس سے قبل پہلے ہی دریافت کرچکے ہیں کہ گہری نیند فکرمند دماغ سے تمام پریشانیوں کو نکال کر اسے پرسکون بناتی ہے۔

یعنی ایسی گہری نیند جس میں خواب نظر نہیں آتے، سانس اور دل کی دھڑکن سست ہوجاتی ہے جبکہ بلڈ پریشر بھی گرجاتا ہے۔

طبی جریدے جرنل نیچر ہیومین بی ہیوئیر میں شائع تحقیق میں محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے گہری نیند کا ایک نیا فائدہ دریافت کیا ہے جو رات بھر میں دماغی کنکشن دوبارہ منظم کرکے ذہنی تشویش اور بے چینی کو کم کردیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گہری نیند ذہنی بے چینی کی روک تھام میں مددگار ہے، جب تک ہم ہر رات ایسا کرتے رہیں۔

آسان الفاظ میں نیند دوا کے بغیر ہی ذہنی بے چینی، خوف و اعصابی خلل کے امراض کا علاج ہے، ان امراض کے شکار دنیا بھر میں کروڑوں افراد ہیں۔

نیند کی کمی سے ذہن بوجھل ہوتا ہے اور مختلف مسائل کا شکار ہوجاتا ہے جبکہ زیادہ سونا حالت کو بہتر بناتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رضاکاروں پر تجربات کے دوران دریافت کیا کہ نیند متاثر ہونا یا نیند کی کمی سے ذہنی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ اچھی نیند اس سے نجات میں مدد دیتی ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک اور امریکی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ انسان جب سوتے ہیں تو ان کے دماغ میں کچھ حیرت انگیز ہوتا ہے کیونکہ جیسے ہی عصبی خلیات خاموش ہوتے ہیں، تو خون سر سے باہر بہہ جاتا ہے اور ایک پانی جیسا سیال کا بہا? شروع ہوجاتا ہے جو دماغ کی صفائی کرتا ہے۔

درحقیقت دماغی صفائی کرنے والا یہ سیال دماغ کو تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔