کسی کا باپ ہم سے اس حکومت کو جائز نہیں منوا سکتا، مولانا فضل الرحمٰن

اپ ڈیٹ 12 نومبر 2019

ای میل

ایسے لوگوں کا ملک پر مسلط ہونا ایک عذاب الہٰی سے کم نہیں ہے، مولانا فضل الرحمٰن — فوٹو: ڈان نیوز
ایسے لوگوں کا ملک پر مسلط ہونا ایک عذاب الہٰی سے کم نہیں ہے، مولانا فضل الرحمٰن — فوٹو: ڈان نیوز

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ایک بار کہہ دیا کہ یہ حکومت ناجائز ہے تو کسی کا باپ بھی اسے ہم سے جائز نہیں منوا سکتا جبکہ اب وقت آگیا ہے کہ ان حکمرانوں سے حساب لیا جائے۔

اسلام آباد میں 'آزادی مارچ' کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جابر اور ناجائز حکومت کے خاتمے کے لیے پوری استقامت کے ساتھ سفر جاری رہے گا، اس ناجائز اور بدبودار حکومت کا خاتمہ کرنا ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے اور اسی جذبے کے ساتھ یہ تحریک آگے بڑھے گی اور قوم کو ان ناجائز قوتوں سے نجات دلا کر رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 'جب عمران خان، نواز شریف سے کہتے تھے کہ نواز شریف تلاشی دیں اور وہ تلاشی نہیں دے رہے، اب جب الیکشن کمیشن نے پوری پارٹی کی تلاشی لینا شروع کی اور 61ویں بار وہ عدالت میں چھپنے کی کوشش کرتے رہے تلاشی کا انکار کرتے رہے اور عدالت سے کہتے رہے کہ مجھے بچاؤ لیکن ایک بار پھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کردی اور الیکشن کمیشن سے کہا کہ غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت فوری شروع کی جائے۔'

یہ بھی پڑھیں: ہم نےحکومت کا غرور خاک میں ملا دیا، مولانا فضل الرحمٰن

ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ان حکمرانوں کا حساب کیا جائے اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری پوری کرے، ایسے لوگ جو بھارت سے فنڈز لیتے رہے ہیں، ایسے لوگ جو اسرائیل اور مغربی دنیا سے اربوں روپے فنڈز لیتے رہے ہیں اور جس کے بارے میں اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن کو دی کہ انہوں نے 20 سے زائد اکاؤنٹس چھپائے اور ان کا حساب الیکشن کمیشن کو نہیں دیا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایسے لوگوں کا ملک پر مسلط ہونا ایک عذاب الہٰی سے کم نہیں ہے، دوسروں کو چور کہنا آسان نہیں لیکن اتنے بڑے چور کہ اگر ان کی بہن نے دبئی میں 70 ارب ڈالر کی جائیدادیں بنائی ہیں تو کیا اس کا حساب نہیں لیا جائے گا، دوسروں کو چور کہنے والے خود چور نکل آئے اور چور بھاگتا ہے تو وہ بھی خود کو بچانے کے لیے 'چور، چور' کے نعرے لگاتا ہوا بھاگتا ہے لیکن اب یہ لوگ پھنس چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب عمران خان خود دھرنا دے رہے تھے تو کہتے تھے کہ 15 ہزار آجائیں اور 'گو عمران' کا نعرہ لگادیں تو میں مستفی ہوجاؤں گا، اب پوری قوم آگئی ہے اور ملک کے کونے کونے سے لوگ یہاں آئے ہیں اور پھر بھی اپنی ناجائز حکومت کے تحفظ کے لیے کبھی یہ عدالت کے پیچھے چھپتے ہیں تو کبھی کسی اور کے، لیکن اب انہیں کہیں چھپنے نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک افراتفری کا شکار ہے، ملک پر حکومت کی رِٹ ختم ہو چکی ہے، قوم ایک پیج پر ہے اور اس کا یہی مطالبہ ہے کہ ہم پاکستان پر جبر کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتے، ہم ملک پر سو سال سے زائد عرصے تک حکمرانی کرنے والے انگریزوں سے آزادی حاصل کر سکتے ہیں تو آج بھی ملک کے عوام میں اتنی طاقت موجود ہے کہ یہودیوں کے ایجنٹوں کو شکست دیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار کہہ دیا کہ یہ حکومت ناجائز ہے تو کسی کا باپ بھی اسے ہم سے جائز نہیں منوا سکتا جبکہ اب وقت آگیا ہے کہ ان حکمرانوں سے حساب لیا جائے۔