سوشل میڈیا پر پشاور کے ایڈورڈ کالج کے معاملے کو مذہبی رنگ دینے کی مہم

14 نومبر 2019

ای میل

اگر حکومت کسی بھی برادری کی املاک پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے گی تو مسائل پیدا ہوں گے—تصویر: فیس بک
اگر حکومت کسی بھی برادری کی املاک پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے گی تو مسائل پیدا ہوں گے—تصویر: فیس بک

پشاور: برطانیہ اور سماجی روابط کی ویب سائٹس پر ایک معز تعلیمی ادارے یونائیٹد ایڈورڈ کے حوالے سے عوام کو گمراہ کر نے اور انتظامیی کنٹرول سنبھالنے کی حکومتی کوشش کو مذہبی رنگ دینے کی مذموم مہم جاری ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے مسیحی برادری کے رہنماؤں اور قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ ’جو افراد بھی یاڈورڈ کالج پشاور کے انتظامی مسئلے کو مذہبی رنگ دینے کی مہم میں شامل ہیں ان کے ذاتی مفادات ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر نے اپنے وسیع تر مفادات کے تحت برطانیہ مسیحی برادری غلط معلومات پھیلانے کی ایک مہم شروع کی جس میں کالج کے انتظامی کنٹرول کی ایک قانونی لڑائی کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا قومی تعلیمی پالیسی فریم ورک 2018 کا اعلان

اس بارے میں بات کرتے ہوئے قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ ’وہ ان لوگوں کے پاس جا کر بتارہے ہیں جو سننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ خیبرپختونخوا حکومت کالج کو قومیانے والی ہے جو بالکل غلط اور اشتعال انگیز ہے۔

اس بارے میں جب حکام سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ لوگ صوبائی حکومت کی جانب سے تاریخی ایڈورڈ کالج کو قومیانے کی غلط معلومات اور غلط حقائق پیش کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔

اس سلسلے میں رکنِ صوبائی اسمبلی جمشید تھامس کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ بھی ایڈورڈ کالج کے انتظامی مسئلے کو مذہبی رنگ دینے کی مہم چلا رہے ہیں وہ مسیحی برادری کا بھلا نہیں کررہے‘۔

مزید پڑھیں: قبائلی اضلاع میں پرائمری کے بعد اسکول چھوڑنے والی لڑکیوں کی شرح 79 فیصد

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے پشاور کے بشپ ہمفرے سرفراز نے ڈان کو بتایا کہ ’ہم ان لوگوں کے خلاف ہیں جو ایڈورڈ کالج کے معاملے کو مذہبی رنگ دے رہے ہیں، ہم صرف آئین میں موجود اپنے حقوق کے تحفظ کی لڑائی لڑ رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کسی بھی برادری کی املاک پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے گی تو مسائل پیدا ہوں گے۔

دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ 1972 کے پرائیویٹلی مینیجڈ اسکولز اینڈ کالجز ریگولیشنز کے مطابق ایڈورڈ کالج این نجی ادارے کی حیثیت سے چلایا جاسکتا ہے تاہم ریگولیشن کے اعلان کے مطابق یہ انتظامیہ لحاظ سے اس کی حیثیت ’قومیانے کی ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سپریم کورٹ پاکستان کی جانب سے 1981 کے ایک سول مقدمے میں دیے گئے حکم کی پابند ہے جس کے تحت حکومت کسی تعلیمی ادارے کا انتظام سنبھال سکتی ہے اور اس کی جائیداد پر قبضہ نہیں کرسکتی۔

یہ بھی پڑھیں: قبائلی علاقوں میں 10 برس سے 600 تعلیمی ادارے غیر فعال

قانونی ماہرین کے مطابق یہ کالج چرچ کی ملکیت رہے گا اور ایڈورڈ کالج پشاور اور بشپ آف پشاور کے مابین معاہدے کے تحت اس کا کرایہ ادا کیا جاتا رہے گا۔

اس سلسلے میں جب ایک عہدیدار سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ قومیانے کا معاملہ کہاں سے آگیا، یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ کچھ عناصر اپنے ذاتی مفادات کے تحت ایک معزز تعلیمی ادارے کا نام خاک میں ملا رہے ہیں۔