خاتون نیم عریاں نہ ہوتی تو اسے جنسی ہراساں نہ کرتا: ملزم کی دلیل

نومبر 14 2019

ای میل

عدالت نے انوکھے دلیل پیش کرنے والے شخص کو مجرم قرار دے دیا—فوٹو: بی ٹی لائرز
عدالت نے انوکھے دلیل پیش کرنے والے شخص کو مجرم قرار دے دیا—فوٹو: بی ٹی لائرز

عام طور پر خواتین کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے والے ملزمان اپنے دفاع میں غیر منطقی دلائل دیتے ہوئے خواتین کو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

اور یورپی جزیرہ نما ملک آئرلینڈ میں بھی خود سے کم عمر لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے شخص نے بھی عدالت میں خود کو بے گناہ قرار دیے جانے کے لیے دلیل دی کہ اگر متاثرہ خاتون نیم عریاں نہ ہوتی تو وہ انہیں جنسی طور پرہراساں نہ کرتے۔

برطانوی اخبار ’دی انڈیپینڈنٹ‘ کے مطابق میڈیکل کی 20 سالہ طالبہ کو راہ چلتے ہوئے جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے ادھیڑ عمر شخص رچرڈ نکین نے عدالت میں دلیل دیا کہ خاتون کے جسم کے نمایاں حصے ظاہر تھے، اس لیے انہوں نے ان کے ساتھ زبردستی کی۔

ملزم رچرڈ نکین نے اپنے غیر منطقی دلائل کو جاری رکھتے ہوئے عدالت میں دعویٰ کیا کہ وہ دراز قد ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت بھی ہیں اور کئی مرتبہ خواتین نے بھی ان کا اسی طرح پیچھا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’خواتین سے جنسی ہراساں ہونے کا ثبوت مانگنا کمزوری ہے‘

رچرڈ نکین نے خود کو بے گناہ قرار دیے جانے کے لیے عدالت کو بتایا کہ چوں کہ خاتون نیم عریاں تھیں، اس لیے انہوں نے ان کے ساتھ زبردستی کی، جب کہ جنسی ہراسانی کا شکار خاتون کو ان کی شکایت ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔

رپورٹ کے مطابق ملزم نے پولیس کو تفتیش کے دوران بتایا تھا کہ خاتون کو جنسی ہراساں کیے جانے میں ان کا کوئی قصور نہیں۔

عدالت نے رچرڈ نکین کو مجرم قرار دے دیا—فوٹو: فرانک میگراتھ/ دی انڈیپینڈنٹ
عدالت نے رچرڈ نکین کو مجرم قرار دے دیا—فوٹو: فرانک میگراتھ/ دی انڈیپینڈنٹ

اسی کیس میں جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والی لڑکی نے بتایا کہ رچرڈ نکسن نے انہیں ایک ہی دن میں 2 بار جنسی ہراساں کیا، پہلی بار ملزم نے انہیں تنہائی میں راہ چلتے ہوئے چھیڑا اور ان کے ساتھ نامناسب انداز اپنایا اور دوسری بار نائٹ کلب سے نکلتے وقت انہوں نے نشانہ بنایا۔

جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والی طالبہ کا کہنا تھا کہ ملزم نے ان کے جسم کو انتہائی نامناسب انداز میں چھوا اور ساتھ ہی اس نے انہیں دھمکانے کی بھی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: ’جنسی طور پر ہراساں خواتین بھرپور مدد کی مستحق ہیں‘

اخبار کے مطابق اگرچہ بعد ازاں متاثرہ لڑکی نے اپنی تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے مقدمہ دائر کرنے کی درخواست واپس لے لی تھی، تاہم سرکاری وکلا نے ملزم کو سزا دینے کے حوالے سے عدالت میں ثبوت پیش کیے۔

مذکورہ کیس میں ڈبلن کی عدالت میں سرکاری وکلا نے دلائل دیے کہ کسی کا مختصر لباس اس کی رضامندی کو ظاہر نہیں کر رہا ہوتا۔

عدالت نے ملزم کو رضامندی کے بغیر کم عمر لڑکی کو راہ چلتے ہوئے چھیڑنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے ان پر فرد جرم عائد کی اور ملزم نے اس سے انکار بھی نہیں کیا۔

بعد ازاں مجرم کو ضمانت پر رہا کردیا گیا اور انہیں ایک سال بعد سزا سنائی جائے گی۔