پاکستان کی غزہ پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

اپ ڈیٹ 15 نومبر 2019

ای میل

دفتر خارجہ نے کہا کہ  اسرائیلی  حملے عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے —فائل فوٹو: ڈان
دفتر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی حملے عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے —فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: پاکستان نے مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملے میں معصوم شہریوں کی ہلاکت پر شدید مذمت کی ہے۔

دفتر خارجہ سے جاری اعلامیے کہا گیا کہ غزہ میں ہونے والی اسرائیلی جارحیت میں انسانی جانوں کے ضیاع اور وہاں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش ہے۔

مزیدپڑھیں: اسرائیلی لڑاکا طیاروں کا لبنان میں فلسطینی بیس پر حملہ

دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف سخت کارروائی کرے اور اسرائیلی حملے عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فلسطینی تحریک بالخصوص دو ریاستی حل کی مستقل حمایت کی ہے، جس کا مقصد 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر القدس شریف کو دارالحکومت رکھنے والی آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینی تنظیم کے درمیان 2 روز تک جاری رہنے والی کشیدگی میں 34 فلسطینوں کے جاں بحق ہونے کے بعد گزشتہ روز جنگ بندی کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔

2 روز قبل اسرائیل نے فلسطینی کمانڈر کو فضائی حملے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد رد عمل میں غزہ سے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے گئے تھے جبکہ اسرائیل نے بھی رد عمل میں فلسطینی علاقوں پر حملے جاری رکھے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 4 فلسطینی جاں بحق

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ جب تک راکٹ حملے جاری ہیں ہم مزید فضائی حملے کرتے رہیں گے'۔

تاہم فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مصر اور اقوام متحدہ کے حکام کی جانب سے جنگ بندی میں معاونت کی گئی جس کے بعد فلسطینی تنظیم اور اسرائیل نے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے سفیر برائے اسرائیل-فلسطین تنازع، نکولے ملادینوو کا کہنا تھا کہ 'مصر اور اقوام متحدہ نے غزہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے انتھک محنت کی ہے'۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ فضائی حملے کے بعد سے اب تک غزہ سے اسرائیل کی حدود میں 450 راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کا فلسطین کی ٹیکس کی مدمیں واجب الادا رقم روکنے کا فیصلہ

تاہم راکٹ حملوں میں کوئی اسرائیلی ہلاک نہیں ہوا جبکہ انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اب تک 63 زخمیوں کا علاج کیا اور ان سب کو معمولی چوٹیں آئی تھیں۔

اسرائیل نے رد عمل میں مزید فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں اب تک 34 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔