وزیراعظم 'اناڑی' مشیروں کے گھیرے میں ہیں، چوہدری شجاعت

اپ ڈیٹ 17 نومبر 2019

ای میل

چوہدری برادران نے حکومت کو سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر بھی اعتراض کیا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
چوہدری برادران نے حکومت کو سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر بھی اعتراض کیا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ٹیم میں ‘چند اناڑی کھلاڑی’ ہیں جو درست مشورہ دینے کے قابل نہیں ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ ‘یہ اناڑی کھلاڑی وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دے رہے تھے کہ وہ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کے موقع پر اپنی حکومت کی رٹ قائم کریں’۔

مسلم لیگ (ق) کے صدر کا کہنا تھا ‘وزیراعظم نے ناتجربہ کار کھلاڑیوں کے مشورے کو قبول نہ کرکے اپنی دانائی کا ثبوت دیا ہے’۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دانائی سے نمٹنے کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان اور وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد دھرنا ختم، نئے محاذ پر جانے کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر اس سے عقل مندی سے نہیں نمٹتے تو مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں سے بچنا ناممکن تھا’۔

مسلم لیگ (ق) وفاق اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی اہم اتحادی جماعت ہے جو گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران ہر موقع پر حکومت کی حمایت کرتی رہی ہے لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ چوہدری شجاعت حسین جیسے تجربہ کار سیاست دان اور اتحادی رہنما وزیراعظم کے مشیروں کے حوالے سے نالاں ہیں۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘کابینہ میں شامل پی ٹی آئی کے کرتا دھرتا وزیر اعظم عمران خان کو کبھی بھی ٹھیک مشورہ نہیں دیتے اور ان کا بنیادی مقصد وزیراعظم کے لیے مسائل کھڑا کرنا اور انہیں جارحانہ پالیسیوں کی طرف دھکیلنا ہے جو کسی وقت ناکام بھی ہوجاتی ہیں’۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ‘مولانا فضل الرحمٰن کے اسلام آباد دھرنے میں یہ چوہدری ہی تھے جنہوں نے پرامن اختتام کے لیے کلیدی کردار ادا کیا حالانکہ ان عناصر نے مشکل وقت میں عمران خان کو ہمیشہ چوہدریوں کے ساتھ مشورہ کرنے سے دور رکھا ہے۔'

مسلم لیگ (ق) کو پی ٹی آئی حکومت نے وفاق میں ایک وزارت اور پنجاب میں دو وزارتیں دے رکھی ہیں جبکہ دونوں جماعتوں کے دمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق وفاق میں بھی دو وزارتیں دینے کا عہد کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:حکومت گرانے میں ایک آدھ جھٹکے کی دیر ہے، مولانا فضل الرحمٰن

چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ ‘پی ٹی آئی تاحال دوسری وزارت دینے میں تاخیر کررہی ہے جبکہ پنجاب میں دوسری وزارت اس وقت ملی جب ہمارے واحد وزیر نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا’۔

وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان سے اس حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ دستیاب نہ ہو سکیں۔

دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں پی ٹی آئی کی جانب سے سیاسی مخالفین پر مقدمات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا تھا کہ بڑے دل کا مظاہرہ کریں اور سیاسی ماحول کو بہتر کرنے کی طرف توجہ دیں اور سیاسی مقدمات سے دور رہیں’۔